نواز شریف نے جنرل باجوہ، فیض اور عمران کو کیسے بلیک میل کیا؟

سینیئر صحافی جاوید چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے وزیراعظم عمران خان کے ہائیبرڈ دورِ حکومت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو ایک مجبوری کے تحت جیل سے رہا کر کے علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی تھی۔ ان کے مطابق نواز شریف کے قریبی حلقوں کے پاس اہم شخصیات کی ایسی دھماکہ خیز آڈیوز اور ویڈیو ریکارڈنگز موجود تھیں جن میں اعلیٰ عدالتوں کے ججز کو بھائی لوگوں کی مرضی کے فیصلے کرنے کو کہا جا رہا تھا۔ ان ججز میں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس اعجاز الاحسن کا نام بھی شامل تھا۔
شاید انہی ریکارڈنگز کی وجہ سے سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج ہونے کے باوجود جسٹس اعجاز نے جنوری 2024 میں اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ یاد رہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن سپریم کورٹ کے اس پانچ رکنی بینچ کا حصہ تھے جس نے نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل قرار دے دیا تھا۔ جسٹس اعجاز الاحسن کو سپریم کورٹ میں اپنی سنیارٹی کی بنیاد پر اکتوبر 2024 میں چیف جسٹس آف پاکستان بننا تھا۔ تاہم انہوں نے بغیر کوئی وجہ بتائے خاموشی سے استعفی دینا ہی مناسب جانا۔
جاوید چوہدری عمران خان کے دور حکومت میں انصاف کے ایوانوں میں ہونے والی بڑی بڑی نا انصافیوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نواز شریف نے سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیرِ قانون ظفراللہ خان کے ذریعے ارشد ملک نامی جج کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر دو میں تعینات کرایا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ انکے خلاف کیسز ایک ایسے جج کے پاس جائیں جو جنرل فیض حمید کے دباؤ میں نہ آئے۔ ایک مشترکہ دوست نے نواز شریف کو یقین دلایا تھا کہ ارشد ملک "مر جائے گا مگر بے وفائی نہیں کرے گا”۔ یہی مشترکہ دوست جج اور نواز شریف کے درمیان رابطے کا ذریعہ بھی تھا، جاوید چوہدری کے دعوے کے مطابق جج ارشد ملک نواز شریف کے وکلاء کی مدد بھی کر رہے تھے۔
سینیئر صحافی کے مطابق دسمبر 2018 میں العزیزیہ ریفرنس کا فیصلہ آنے سے محض تین روز قبل ارشد ملک نے مشترکہ دوست کے ذریعے نواز شریف کو اطلاع دی کہ انکے خلاف کیس کا فیصلہ تیار ہے اور انہوں نے باعزت بری ہو جانا ہے۔ جج صاحب نے بریت کی ایڈوانس مبارکباد دیتے ہوئے نواز شریف سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی، جسے فوراً قبول کر لیا گیا۔ ارشد ملک نے شرماتے ہوئے درخواست کی کہ وہ اپنی فیملی بھی ساتھ لانا چاہتے ہیں، نواز شریف نے اسے بھی منظور کر لیا۔
تاہم فیصلہ سنائے جانے سے ایک دن پہلے جج صاحب کا ان کے دوست سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوگیا۔ مشترکہ دوست نے بارہا کوشش کی لیکن نہ وہ کال اٹھا رہے تھے اور نہ ہی واپس فون کر رہے تھے، اس پر نواز شریف خود بے چین ہو کر اپنے دوست کے گھر جا پہنچے۔ انہیں بتایا گیا کہ جج صاحب کی جانب سے رابطہ ختم ہو چکا ہے۔ لیکن اگلے دن اچانک صورت حال تب واضح ہو گئی جب جج ارشد ملک نے نواز شریف کو سات سال قید کی سزا سنادی۔
جاوید چوہدری کے مطابق دو دن بعد ارشد ملک نے مشترکہ دوست سے ملاقات کی اور روتے ہوئے اعتراف کیا کہ فیصلے کے الٹ جانے کی وجہ جنرل فیض حمید کی جانب سے ڈالا جانے والا شدید دباؤ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ نواز شریف سے ملاقات کے فوراً بعد جنرل فیض حمید کے سٹاف آفیسر نے انہیں فون کر کے اگلے روز دفتر آنے کا حکم دیا۔ ارشد ملک نے انکار کیا لیکن اگلے دن فوجی گاڑیاں ان کے گھر پہنچ گئیں اور انہیں فیض حمید کے دفتر لے جایا گیا۔ وہاں پہلے انہیں ایک کمرے میں بٹھایا گیا جہاں ایک افسر بڑا ٹیبلیٹ سامنے رکھ کر ایک ویڈیو چلانے لگا۔ جج ارشد ملک نے بتایا کہ وہ ویڈیو ان کی جوانی کی غلطی پر مبنی ایک غیراخلاقی کلپ پر مبنی تھا جسے دیکھ کر ان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے کیونکہ اگر وہ منظر عام پر آتا تو ان کا کیریئر، عزت اور خاندان سب کچھ تباہ ہو جاتا۔
ویڈیو دکھانے کے بعد انہیں جنرل فیض حمید کے دفتر لے جایا گیا جہاں جنرل نے انہیں گلے لگا کر کہا کہ "ملک صاحب، یہ جہاد کا وقت ہے، شریفوں نے ملک کھوکھلا کر دیا ہے، آپ نے ہمارے ساتھ تعاون کرنا ہے۔” اس ملاقات کے فوراً بعد جج کو باہر بھیج دیا گیا اور اگلے دن انہیں العزیزیہ کا تیار شدہ فیصلہ دیا گیا، جو جاوید چوہدری کے مطابق پی ٹی آئی کے ایک سینیٹر نے لکھا تھا۔ ارشد ملک نے یہ فیصلہ مجبوری میں سائن کر دیا اور بعد میں دوست کے گھٹنے پکڑ کر معافی مانگتے رہے۔ جاوید چوہدری کے مطابق جج ارشد ملک بعد ازاں شدید پشیمانی کا شکار ہو گئے۔ وہ شریف خاندان سے معافی کے خواہاں تھے۔ مشترکہ دوست نے یہ ذمہ داری لینے سے انکار کیا تو ارشد ملک نے ناصر بٹ اور ایک پراپرٹی ڈیلر کے ذریعے شریف خاندان سے رابطہ کیا۔ ناصر بٹ نے ان کی ملاقات سعودی عرب میں حسین نواز سے کرائی جہاں مسجد نبوی میں جج ارشد ملک نے اپنے ساتھ ہونے والی واردات کی تفصیل بیان کی۔ یہ ملاقات مکمل طور پر ریکارڈ کی گئی۔
ناصر بٹ نے راولپنڈی میں بھی خفیہ کیمرے کے ذریعے جج ارشد ملک کے ساتھ ہونے والی متعدد نشستیں ریکارڈ کیں جن میں انہوں نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھناونے کردار بارے بھی اہم انکشافات کیے۔ جاوید چوہدری دعویٰ کرتے ہیں کہ جون 2019 میں شریف خاندان نے پہلی ویڈیو منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا، اور پھر 6 جولائی 2019ء کو مریم نواز نے لاہور میں پریس کانفرنس کر کے جج ارشد ملک کی ویڈیو جاری کر دی۔ اس کے بعد جنرل باجوہ سخت پریشان ہو گئے کیونکہ شریف خاندان کے قریبی ساتھیوں کے مطابق مریم کے پاس دو مزید ویڈیوز بھی موجود تھیں جو اس سے کہیں زیادہ خطرناک تھیں، اور ان میں اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے حوالے سے حساس گفتگو شامل تھی۔
جاوید چوہدری کے مطابق انہی ویڈیوز کے تباہ کن اثرات سے بچنے کے لیے جنرل فیض حمید نے شریف خاندان کے ساتھ پسِ پردہ ڈیل کی جس کے تحت نواز شریف کو میڈیکل گراؤنڈز پر بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ ہوا۔ چوہدری لکھتے ہیں کہ اس دوران نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس میں پلیٹ لیٹس تیزی سے گرنا شروع ہوئے، جس نے ملک میں سنسنی پیدا کر دی۔ جنرل ریٹائرڈ اظہر کیانی نے رپورٹس دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا کہ "میاں صاحب اس حالت میں زندہ کیسے ہیں”۔ رپورٹس میڈیا میں آنے کے بعد عوامی دباؤ مزید بڑھ گیا۔ تاہم چوہدری کے مطابق اصل رکاوٹ یہ تھی کہ جنرل فیض حمید چاہتے تھے کہ نواز شریف کو سٹریچر پر جہاز تک لے جایا جائے جبکہ نواز شریف بضد تھے کہ وہ اپنے قدموں پر چل کر جائیں گے۔ یہ معاملہ نومبر تک کھنچتا رہا اور آخر کار فیصلہ ہوا کہ نواز شریف چل کر جہاز تک جائیں گے لیکن لندن پہنچ کر کوئی سیاسی بیان نہیں دیں گے۔
ہتک عزت کیس : ملک احمد خان کا عدالت میں شہباز شریف کے حق میں بیان ریکارڈ
جاوید چوہدری کے مطابق نواز شریف کی روانگی سے قبل جنرل فیض حمید نے وزیراعظم عمران خان کو راضی کرانے کے لیے بشریٰ بی بی کی مدد لی، جنہوں نے عمران خان کو قائل کیا کہ اگر نواز شریف کو باہر جانے نہ دیا گیا تو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کی رہی سہی ساکھ تباہ ہو جائے گی۔ اس یقین دہانی کے بعد نواز شریف کو بیرون ملک روانگی کی اجازت مل گئی۔ یعنی اگر مریم نواز کے پاس ججز اور اسٹیبلشمنٹ کی گفتگو پر مبنی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگز نہ ہوتیں تو نواز شریف کا جیل سے نکل کر لندن پہنچانا ناممکن تھا۔
