نیوز اینکر عشرت فاطمہ کی PTV پر واپسی کیسے ہوئی؟

 

 

 

پاکستان ٹیلی ویژن پر ایک بار پھر معروف نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ کی مانوس آواز گونجی تو ناظرین دو حصوں میں بٹ گئے۔ ایک طرف یادوں کی قسطیں کھل گئیں اور مداح عشرت فاطمہ کی پی ٹی وی پر واپسی کو نشریاتی وراثت کی فتح قرار دینے لگے جبکہ دوسری طرف سوال اٹھنے لگا کہ سرکاری اداروں میں ریٹائرمنٹ واقعی کوئی چیز ہوتی بھی ہے یا نہیں؟ ریٹائر افسران کو بطور ایڈوائزر اور مشیر اداروں میں برقرار رکھنے کا یہ سلسلہ آخر کب ختم ہو گا؟ بعض ناقدین نے تو عشرت فاطمہ کو ڈائریکٹ مشورہ دے ڈالا کہ بھرے میلے کو چھوڑ کر سائیڈ پر ہو جانا ہی بڑے لوگوں کا خاصہ ہے۔ سوشل میڈیا پر تعریف اور طنز کے اس شور میں عشرت فاطمہ کی واپسی صرف ایک خبر نہیں رہی،بلکہ سوشل میڈیا صارفین کے لیے ایک نیا موضوعِ بحث بن گئی ہے، جس پر تبصروں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

 

 

خیال رہے کہ عشرت فاطمہ کی پی ٹی وی میں واپسی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب انہوں نے 14 جنوری کو ریڈیو پاکستان میں 45 سالہ طویل وابستگی کے بعد اپنا آخری بلیٹن پڑھ کر قومی نشریاتی ادارے سے راہیں جدا کرنے کا اعلان کیا تھا ساتھ ہی انھوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو بیان میں ادارے میں مناسب جگہ نہ ملنے اور بعض منفی رویوں پر شدید دکھ اور تکلیف کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ طویل انتظار کے باوجود حالات بہتر نہ ہوئے اور بار بار یہ احساس دلایا گیا کہ ان کی خدمات کی ضرورت نہیں۔جس کے بعد انہوں نے بھاری دل کے ساتھ ریڈیو پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے عشرت فاطمہ کی نشریاتی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں پاکستان کی براڈکاسٹنگ تاریخ کی ایک معتبر اور قابلِ فخر شناخت قرار دیا تھا۔عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ اگرچہ عشرت فاطمہ ایک دہائی قبل پی ٹی وی اور حال ہی میں ریڈیو پاکستان سے علیحدہ ہوئیں، تاہم ان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ پاکستان ٹیلی ویژن میں بطور مینٹور نئی نسل کے نیوز کاسٹرز کی تربیت کریں کیونکہ عشرت فاطمہ اردو زبان کے درست تلفظ، دباؤ اور ہنگامی حالات میں خبروں کی پیشکش، خصوصاً قدرتی آفات کے دوران نشریاتی ذمہ داریوں سے متعلق قیمتی تجربہ رکھتی ہیں، جو نوجوان اینکرز کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوسکتا ہے۔وفاقی وزیر کی پیشکش کے بعد اب پی ٹی وی نے عشرت فاطمہ کو مینٹور اور نیوز بلیٹن اینکر کے طور پر دوبارہ اپنی ٹیم میں شامل کر لیا ہے۔

 

نیوز اینکر عشرت فاطمہ کی پی ٹی وی میں واپسی کو حکومتی حلقے خوش آئند قرار دے رہے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر ان کی واپسی پر ملا جلا ردعمل سامنے آرہا ہے۔ کچھ صارفین کا عشرت فاطمہ کی مانوس آواز اور مہارت کو یادگار قرار دیتے ہوئے کہنا ہے کہ عشرت فاطمہ کی واپسی نے انہیں اپنے بچپن کی یاد دلا دی۔ تاہم، کئی صارفین نے طنز کے تیر بھی چھوڑے اور سوال کیا کہ کیا ریٹائرمنٹ کا کوئی مطلب باقی رہ گیا ہے؟ ’میلہ لگا ہوا چھڈ جانڑا چایئے دا‘ جیسے جملے واپسی کے بارے میں ہونے والی تنقید کی نمایاں مثال بن گئے، جبکہ بعض صارفین نے عشرت فاطمہ کو یہ مشورہ بھی دے ڈالا کہ انھیٰن نئی نسل کو آگے آنے کا موقع دینے کیلئے خود ہی پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔

عاصم خان نے لکھا ‘عشرت فاطمہ صاحبہ بے شک ایک عظیم استاد ایک اچھے اخلاق کی مالک ہیں. لیکن معذرت کے ساتھ ایک سرکاری ملازم کی ریٹائرمنٹ عمر کی حد ہوتی ہے گزارش ہے اب نئے آنے والے کسی بہن بھائی کو موقع دیں۔ میرے استاد کہا کرتے تھے میلہ لگا ہوا چھڈ جانڑا چایئے دا اسی میں عزت ہے۔’ایک اور صارف نے کہا کہ ‘تاحیات نیوز اینکر’۔جہاں کچھ نے تنقید کی تو کچھ صارفین عشرت فاطمہ کے لیے خوش بھی نظر آئے۔ اویس باجوہ نے لکھا ‘ان کی آواز مجھے میرے بچپن میں واپس لے گئی، واہ کیا یادگار ہے۔’ کچھ صارفین نے طنزیہ انداز اختیار کیا: صفیہ خان نے کہا: "پی ٹی وی میں ریٹائرمنٹ صرف کاغذوں تک محدود رہتی ہے، اور پرانی آوازیں نئے لوگوں کی جگہ لیتی رہتی ہیں۔ شاید اب تو ہر ماہ کوئی نہ کوئی واپس آ جائے!” ایک اور صارف نے لکھا:”عشرت فاطمہ کی واپسی خوش آئند ہے، لیکن جونیئر اینکرز کے لیے یہ ایک واضح پیغام بھی ہے: ‘صبر کریں، کب واپس بلا لیا جائے معلوم نہیں۔'”اس کے برعکس، شازیہ ملک نے تبصرہ کیا:”ان کی واپسی نے واقعی پی ٹی وی کی خبریں دوبارہ سنجیدہ اور باوقار بنا دی ہیں۔ ناظرین کے لیے یادگار لمحہ ہے۔”

لاہور قلندر کی ملکیت پر رانا برادران کا تنازعہ الجھ کیوں گیا؟

مبصرین کے مطابق پی ٹی وی پر عشرت فاطمہ کی واپسی ایک جانب ان کی صحافتی خدمات کا جشن ہے، تو دوسری جانب سرکاری اداروں میں ریٹائرڈ افسران کو دوبارہ شامل کرنے کا نوحہ بھی ہے۔اس موقع پر یہ سوال موضوعِ بحث بن چکا ہے کہ کیا ریٹائرمنٹ محض ایک رسمی کاغذی کارروائی ہے یا حقیقی معنی رکھتی ہے؟ پاکستان میں کب تک پرانی آوازیں نئی نسل کی جگہ لیں گی، اور کب تک ریٹائرمنٹ صرف کاغذوں تک محدود رہے گی؟

Back to top button