پاکستان اور سعودیہ نے مسلم ممالک کو آپسی جنگ سے کیسے بچایا؟

 

 

 

سینئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور ایران کی طرف سے خطے میں موجود امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کے بعد یہ خدشہ شدت اختیار کر گیا تھا کہ کہیں یہ کشیدگی مسلم ممالک کے درمیان باہمی جنگ کی شکل اختیار نہ کر لے۔ تاہم سعودی عرب کی انتہائی محتاط اور ذمہ دارانہ پالیسی اور پاکستان کی متوازن و فعال سفارتکاری نے نہ صرف ایران اور عرب ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ مسلم دنیا کو بھی ممکنہ باہمی تصادم سے بچا لیا۔

 

اپنے تازہ سیاسی تجزیہ میں انصار عباسی کا مزید کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نہایت پیچیدہ اور حساس ہو گئی ہے۔ ایرانی جوابی حملوں  کے بعد سب سے بڑی تشویش یہی رہی ہے کہ کہیں یہ کشیدگی مسلمان ممالک کے درمیان باہمی تصادم میں تبدیل نہ ہو جائے۔ انصار عباسی کے بقول بلاشبہ مسلم ممالک کے مابین کوئی بھی تصادم امریکا اور اسرائیل کےلیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتا تھا کیونکہ ان کی پالیسی ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ مسلم دنیا کو اندرونی تنازعات میں الجھا دیا جائے۔ تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ اب تک ایسا نہیں ہوا اور اس کا کریڈٹ بڑی حد تک عرب ممالک اور بالخصوص سعودی عرب کی محتاط اور ذمہ دارانہ پالیسی کو جاتا ہے۔ انصار عباسی کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ ایران کے جوابی حملوں سے خطے کے بعض عرب ممالک متاثر ہو رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود عمومی طور پر ان ممالک نے سمجھداری کا مظاہرہ کیا ہے۔ خاص طور پر اس تمام صورتحال میں سعودی عرب کا کردار انتہائی اہم اور قابلِ توجہ رہا ہے۔ سعودی قیادت نے اس بحران کو نہایت سنجیدگی اور حکمت کے ساتھ سمجھتے ہوئے غیر ضروری ردعمل سے گریز کیا اور تحمل و برداشت کا راستہ اختیار کیا۔ ایک طرف سعودی عرب مسلسل عرب ممالک کے ساتھ رابطے میں رہا تاکہ غیر ضروری کشیدگی کو روکا جا سکے، جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ بھی سفارتی رابطے برقرار رکھےتاکہ صورتحال کو باہمی جنگ کی طرف جانے سے روکا جا سکے۔

 

انصار عباسی کے مطابق یہ صورتحال پاکستان کیلئے بھی خاصی پیچیدہ تھی۔ پاکستان ایک طرف ایران کا ہمسایہ مسلمان ملک ہے اور ایران پر امریکا و اسرائیل کے حملوں کی مذمت کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کا ایک اہم معاہدہ بھی موجود ہے۔ اس معاہدے کے تحت اگر سعودی عرب پر حملہ ہوا تو پاکستان اسے اپنے اوپر حملہ تصور کرے گا۔ چنانچہ اگر خطے میں کشیدگی اس نہج تک پہنچ جاتی کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان براہِ راست تصادم ہو جاتا تو پاکستان کیلئے یہ صورتحال انتہائی مشکل بن سکتی تھی۔ انسار عباسی کے بقول اسی تناظر میں پاکستان نے بڑی فعال اور محتاط سفارتی حکمت عملی اختیار کی۔ پاکستان نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان رابطہ کاری میں اہم کردار ادا کیا تاکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے موقف کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق انہوں نے ایرانی قیادت سے پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کے حوالے سے کھل کر بات کی۔ اس گفتگو کے بعد ایران کی جانب سے سعودی عرب کے حوالے سے خاصی احتیاط دیکھنے میں آئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سفارتکاری کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے میں پاکستان کی کوششیں مؤثر ثابت ہوئیں۔

انصار عباسی کا مزید کہنا ہے کہ سعودی عرب نے بھی اس معاملے میں غیر معمولی حکمت کا مظاہرہ کیا۔ امریکا کے ممکنہ دباؤ یا کسی فوری ردعمل کے بجائے سعودی قیادت نے صبر اور تحمل کی پالیسی اختیار کی۔ سعودی عرب نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کیلئے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ یہ فیصلہ نہ صرف خطے میں مزید کشیدگی کو روکنے کیلئے اہم ثابت ہوا بلکہ اس سے یہ پیغام بھی گیا کہ سعودی عرب مسلمان ممالک کے درمیان لڑائی نہیں چاہتا اور کسی جنگ کا حصہ بننے کے بجائے استحکام کو ترجیح دینا چاہتا ہے۔ انصار عباسی کے بقول اگرچہ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات، بحرین، عراق اور قطر میں موجود امریکی اڈوں یا اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں، لیکن سعودی عرب کے متعلق ایران بھی کافی محتاط نظر آ رہا ہے جو ایک مثبت بات ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انصار عباسی کے مطابق اس تمام صورتحال میں پاکستان نے انتہائی متوازن پالیسی اپنا رکھی ہے۔ پاکستان ایک طرف ایران پر حملوں کی مذمت کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف ایران کے جوابی حملوں سے متاثر ہونے والے عرب ممالک کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی کر رہا ہے۔ انصار عباسی کے مطابق بظاہر بعض لوگوں کو یہ پالیسی متضاد محسوس ہوتی ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک نہایت محتاط اور دانشمندانہ سفارتی حکمت عملی ہے جس کا مقصد کسی بھی صورت میں مسلمان ممالک کو باہمی جنگ سے بچانا ہے۔

آبنائے ہرمز بند مگر تیل پاکستان کیسے پہنچ گیا؟

انصار عباسی کا مزید کہنا ہے کہ بدقسمتی سے سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر بعض عناصر اس صورتحال کو غلط رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کچھ بھگوڑے یوٹیوبرز یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سعودی عرب پاکستان سے ناراض ہے یا سعودی قیادت پاکستان سے یہ توقع کر رہی ہے کہ وہ دفاعی معاہدے کے تحت ایران کے خلاف کھل کر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو جائے۔ تاہم اطلاعات کے مطابق یہ تاثر حقیقت سے بالکل مختلف ہے۔ سعودی عرب نے نہ تو پاکستان سے کوئی ایسا مطالبہ کیا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کسی قسم کا دباؤ ڈالا ہے۔ درحقیقت سعودی قیادت خود یہ چاہتی ہے کہ مسلمان ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کی جنگ سے بچا جائے۔ انصار عباسی کے بقول موجودہ حالات میں سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ مسلم ممالک جذبات کے بجائے حکمت اور تدبر سے کام لیں۔ اگر مسلم دنیا اسی دانشمندی اور تحمل کے ساتھ آگے بڑھتی رہی تو نہ صرف ایک بڑی جنگ کو روکا جا سکتا ہے بلکہ بیرونی قوتوں کی اس خواہش کو بھی ناکام بنایا جا سکتا ہے جو مسلمانوں کو آپس میں لڑتا دیکھنا چاہتی ہیں۔

 

Back to top button