ٹرمپ کا اعتماد جیت کر پاکستان کیسے ایران جنگ میں  ثالث بنا؟عالمی دنیاحیران

امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کااعتماد جیت کرپاکستان ایران امریکاجنگ میں ثالث بن گیا ۔ ایران امریکا تنازع کے حل کیلئے پاکستانی کوششوں پر عالمی دنیا حیران رہ گئی۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق  ٹرمپ ماضی قریب میں پاکستانی فوج کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تذکرہ متعدد مرتبہ ’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘ کے طور پر کرتے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ کیسے عاصم منیر ’بہت سے افراد کے مقابلے میں ایران کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان صرف ایران کا ہمسایہ ہی نہیں ہے، جس کے ساتھ اس کی 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے، بلکہ دونوں ممالک کے مابین ’برادرانہ تعلقات‘ کے علاوہ گہری ثقافتی اور مذہبی جڑیں بھی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں امریکہ کا کوئی فوجی اڈہ بھی نہیں ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود اب بھی یہ سوالات موجود ہیں کہ ایک ایسا ملک جو خود اپنے دو ہمسایہ ممالک، انڈیا اور افغانستان، کے ساتھ تنازع میں گھرا ہوا ہے، اس نے خود کو اس بڑے عالمی تنازع کے حل لیے کیوں پیش کیا ہے۔

بی بی سی کے مطابق پاکستان نے حالیہ ایران تنازع میں ’ایک تنی ہوئی رسی‘ پر چلتے ہوئے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغام رسانی کی، مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی کی اور سفارتی سطح پر بھی یہ اس تنازع کے حل کے لیے ٹیلیفونک رابطے جاری رکھے۔

اٹلانٹک کونسل میں جنوبی ایشیا کے سینیئر فیلو مائیکل کوگلمین نے  بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ سے باہر اگر کسی ملک پر اس تنازع کا اثر پڑ سکتا ہے تو یہ پاکستان ہے۔ ’لہذا پاکستان چاہتا ہے کہ یہ تنازع ختم ہو اور وہ کشیدگی ختم کرانے کی پوری کوشش کرنا چاہتا ہے۔

Back to top button