پاکستان عالمی کرکٹ کو معاشی تباہی کے دہانے سے واپس کیسے لایا؟

15 فروری 2026 کو انڈیا اور پاکستان کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان ٹی20 ورلڈ کپ کا میچ صرف ایک کھیل کا مقابلہ ہی نہیں بلکہ ایک ایسا نایاب موقع ہو گا جس نے معاشی تباہی کے دہانے پر کھڑی عالمی کرکٹ کو نئی زندگی دی۔ یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے انڈیا کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے اعلان نے دنیا بھر کے کرکٹ بورڈز، براڈکاسٹرز، اور سپانسرز کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی تھیں۔ کرکٹ مبصرین کے مطابق اس فیصلے کے نتیجے میں مچنے والی کھلبلی نے صاف ظاہر کر دیا کہ جدید کھیلوں کی دنیا میں معیشت اکثر سیاست سے زیادہ طاقتور ہے، کیونکہ عالمی کرکٹ کی مالی ساخت اسی پر قائم ہے اور اس کا سب سے بڑا محور انڈیا اور پاکستان کے میچز ہیں۔ 9 فروری 2026 کی رات انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے پاکستان اور بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈز کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بعد حکومت پاکستان نے اعلان کیا کہ اس کی کرکٹ ٹیم 15 فروری کو ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں انڈیا کے خلاف میدان میں اترے گی۔
کرکٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کے ساتھ میچ کھیلنے کا فیصلہ کوئی سیاسی یوٹرن نہیں بلکہ بین الاقوامی کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا اکنامک ریسکیو آپریشن تھا، اس فیصلے نے نہ صرف آئی سی سی بلکہ دنیا بھر کے کرکٹ بورڈز کو اربوں ڈالرز کے مالی نقصان سے بچا لیا۔ دنیائے کرکٹ کی معیشت سے جڑے اعداد و شمار حیران کن ہیں۔ اس ورلڈ کپ کے براڈ کاسٹنگ حقوق جیو سٹار اور سٹار سپورٹس نے آئی سی سی سے تقریباً 9 کروڑ ڈالرز یعنی 25 ارب پاکستانی روپوں میں خریدے ہیں، ان میں سب سے زیادہ قیمتی انڈیا اور پاکستان کا میچ ہے جو صرف ٹی وی براڈ کاسٹنگ سے ہی 60 ملین ڈالرز یعنی 17 ارب پاکستانی روپے تک کی TV اشتہاری آمدنی پیدا کر سکتا ہے، اعدادوشمار کے مطابق ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2026 USD ملین امریکی ڈالرز یعنی ایک کھرب 40 ارب پاکستانی روپے کی مجموعی کمائی کرے گا۔ یہ رقم اشتہارات، سپورٹس سپانسرشپس، ٹکٹوں کی فروخت، ڈیجیٹل حقوق کی فروخت اور اس ٹورنامنٹ سے جڑی دیگر تجارتی سرگرمیوں سے کمائی جائے گی۔
ٹورنامنٹ کے آفیشل براڈکاسٹر جیو سٹار کے لیے 15 فروری کو بھارت اور پاکستان کے مابین کولمبو میں ہونے والا ٹی ٹونٹی میچ تقریباً ساڑھے تین کروڑ ڈالرز یعنی 17 ارب پاکستانی روپوں کی اشتہاری آمدنی کا ذریعہ تھا۔ انڈین میڈیا کے مطابق جیو سٹار کمپنی کو اس ایک میچ کی منسوخی سے ہی اپنی مجموعی آمدنی کے 20 فیصد حصے سے ہاتھ دھونا پڑتے۔ انڈیا کے بڑے میچوں میں 10 سیکنڈ کے اشتہار کی قیمت 25 سے 40 لاکھ روپے تک پہنچ جاتی ہے، جو عام میچز کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔
یاد رہے کہ آئی سی سی نے 2024 سے 2027 تک کے براڈ کاسٹنگ حقوق تین ارب ڈالرز یعنی 840 ارب پاکستانی روپے میں فروخت کر رکھے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ براڈکاسٹرز نے اس چار سالہ سائیکل میں چار انڈیا پاکستان میچوں سے تقریباً ایک ارب ڈالرز یعنی 280 ارب پاکستانی روپے کمانے کا تخمینہ لگایا ہوا تھا، یعنی ہر میچ کی قیمت 25 کروڑ ڈالرز یا 70 ارب پاکستانی روپے سمجھی جا رہی تھی۔
انڈیا کے ساتھ میچ نہ کھیلنے کے فیصلے کے اثرات سے خود پاکستان کرکٹ بورڈ بھی بچ نہیں سکتا تھا۔ پی سی بی کو آئی سی سی سے سالانہ تقریباً 35.5 ملین ڈالرز یعنی 10 ارب پاکستانی روپے ملتے ہیں، جو اسکے بجٹ کا سب سے بڑا حصہ ہے۔
لیکن صرف ڈالرز ہی اس میچ کی اہمیت کی کہانی نہیں بیان کرتے۔ 2025 میں چیمپیئنز ٹرافی کے دوران کھیلے گئے انڈیا پاکستان میچ نے تمام ریکارڈ توڑ دیے تھے۔ اس میچ کے 368 بلین گلوبل ویوئنگ منٹس رپورٹ ہوئے، جو پچھلے ایڈیشنز سے تقریباً 19 فیصد زیادہ تھے۔ 2024 کے ورلڈ کپ میں انڈیا پاکستان کے میچ نے صرف انڈیا میں ہی 40 کروڑ ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ ناظرین کی یہ تعداد ہی وہ طاقت ہے جو ان دونوں ملکوں کے ٹاکرے کو اتنا قیمتی بناتی ہے۔ لیکن اس پوری کہانی میں سب سے بڑا سوالیہ نشان جیو سٹار پر لگا ہوا تھا۔ یہی وہ کمپنی ہے جسے آئی سی سی نے چار سال کے لیے انڈین براڈکاسٹنگ حقوق تین ارب ڈالرز یا 840 ارب پاکستانی روپوں میں فروخت کیے تھے۔ لیکن جو معاہدہ آئی سی سی کے لیے سونے کی کان لگ رہا تھا، وہ جیو سٹار کے لیے ڈوبتا جہاز ثابت ہو رہا ہے۔
اس پوری کہانی میں بنگلہ دیش کا کردار حیران کن ہے۔ یہی وہ ملک ہے جس کی وجہ سے بحران شروع ہوا، لیکن آخر میں یہی ملک پاکستان کو انڈیا کے خلاف کھیلنے پر راضی کرتا ہے۔ آٹھ فروری کو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام نے پاکستان اور آئی سی سی سے ملاقاتیں کیں اور پاکستان سے درخواست کی کہ وہ ‘پورے کرکٹ ایکو سسٹم کے فائدے کے لیے’ انڈیا کے خلاف میچ کھیلیں۔ نتیجتاً بنگلہ دیش کو بھی مستقبل میں آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی کا موقع دیا گیا، اور ورلڈ کپ سے باہر ہونے پر کوئی سزا نہیں ملے گی۔ انڈیا کا عالمی کرکٹ پر اتنا اثر کیوں ہے، اس کے پیچھے بھی دراصل معیشت ہے۔ بی سی سی آئی نے مالی سال 2023–24 میں 97 سو کروڑ روپے کا ریکارڈ ریونیو حاصل کیا، جس کا سب سے بڑا حصہ آئی پی ایل سے آیا، جس نے 57 سو کروڑ روپے کمائے۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ انڈیا کرکٹ بورڈ کی مالی طاقت عالمی کرکٹ کی آمدنی کا ایک بڑا ستون ہے۔
چھوٹے کرکٹ بورڈز آئی سی سی پر سخت انحصار کرتے ہیں، اور وہ کرکٹ پر جو پیسہ لگاتے ہیں وہ آئی سی سی سے آتا ہے اور آئی سی سی کی آمدن بڑی حد تک انڈیا کی مارکیٹ سے آتی ہے۔
پاکستان کو دھمکیاں دینے والی ICC منتوں پر کیوں مجبور ہوئی؟
اگر انڈیا پاکستان میچ نہ ہوتا تو آئی سی سی کو تقریباً 48 ارب 72 کروڑ پاکستانی روپوں تک کے نقصان کا سامنا کر سکتا تھا، جس میں براڈکاسٹنگ، سپانسرشپ، اور ٹکٹ ریونیو شامل ہیں۔ پاکستان کے میچ کھیلنے کے فیصلے نے آئی سی سی کو کئی طریقوں سے بچایا ہے۔ سب سے پہلے براڈکاسٹرز اس کے خلاف قانونی کارروائی کر سکتے تھے اور اس کے خلاف تقریباً 48 ارب 72 کروڑ پاکستانی روپے کے نقصانات کے دعوے کر سکتے تھے۔ دوسرا، جیو سٹار کو معاہدے سے باہر نکلنے کا جواز مل جاتا۔ تیسرا، آئی سی سی کے مستقبل کے براڈکاسٹنگ معاہدوں کی ساکھ مجروح ہو جاتی۔ چوتھا، چھوٹے کرکٹ بورڈز کی مالی بقا مشکل میں پڑ جاتی۔
آئی سی سی کو درپیش بحران کی سنگینی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے یکم فروری کے فیصلے کے بعد سے وہ مسلسل حرکت میں رہا، مختلف ممالک اور بورڈز کے ساتھ مذاکرات کیے، اور آخرکار تین دن کے اندر اندر اس بحران کو ٹالا گیا۔ یہ پوری کہانی کئی اہم سبق دیتی ہے۔ پہلا یہ کہ جدید کرکٹ اربوں ڈالرز کی صنعت بن چکی ہے جہاں ایک میچ 25 کروڑ ڈالرز یا 70 ارب پاکستانی روپوں تک کی آمدنی پیدا کر سکتا ہے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ عالمی کرکٹ کے اہم فیصلے اب کھیل کے مفاد سے زیادہ معاشی مفاد کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان نے اسی دکھتی رگ کو چھیڑ کر اپنی اہمیت جتائی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی کرکٹ بورڈ کے چئیرمین محسن نقوی نے اپنے پتے بہت مہارت سے کھیلے اور نسبتاً چھوٹا کرکٹ بورڈ ہوتے ہوئے بھی اپنی اہمیت منوا لی ہے۔
