پاکستان نے ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی کیسے کرائی؟

 

 

 

بالاخر پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے مابین کئی ہفتوں سے جاری جنگ بندی کی کوششیں رنگ لائیں اور دنیا ایک بڑی تباہی کے دہانے پر پہنچ کر واپس آ گئی۔ پاکستان کی جانب سے کامیاب ثالثی نے نہ صرف دنیا بھر میں اس کے وقار میں اضافہ کیا ہے بلکہ اسے ایک قابلِ اعتماد دوست ملک کے طور پر بھی منوایا ہے۔

 

مشرقِ وسطیٰ میں خطرناک حد تک بڑھتی کشیدگی کے بعد پاکستان کی خاموش مگر مؤثر سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم جنگ بندی عمل میں آئی ہے، جس نے نہ صرف ایک بڑے عسکری تصادم کو روک دیا بلکہ عالمی سطح پر معاشی بدحالی اور سلامتی کے خدشات کو بھی وقتی طور پر کم کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت تب سامنے آئی جب صدر ٹرمپ نے ایرانی تہذیب کے خاتمے کی دھمکی پر عمل درامد کرنے کی بجائے یہ اعلان کیا کہ امریکہ دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی پر آمادہ ہو گیا ہے تاکہ مستقل امن معاہدے کے لیے راہ ہموار کی جا سکے۔ اس اعلان سے قبل صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات، دھمکیوں اور گالیوں نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی تھی، کیونکہ دنیا ایک بڑی تباہی کے خدشے سے دوچار ہو گئی تھی جس کے اثرات سب نے بھگتنا تھے۔

 

جنگ بندی کے فوری بعد سامنے آنے والی تازہ پیش رفت کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ مذاکرات اسلام آباد میں ہونے جا رہے ہیں، جس کے لیے سفارتی تیاریوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہ بات نہایت اہم ہے کہ ایک بڑے عالمی تنازع کے حل کے لیے پہلے پاکستان کو بطور ثالث اور اب بطور میزبان چنا جا رہا ہے۔ ادھر صدر ٹرمپ کی جانب سے چین کے حوالے سے ایک سوشل میڈیا بیان نے سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس بیان سے یہ تاثر ملا ہے کہ ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں کم از کم ایک بڑی عالمی طاقت نے پس پردہ متحرک کردار ادا کیا جسے صدر ڈرمپ بھی تسلیم کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ ایران پہلے دن سے ہی بغیر کسی تگڑے ضامن کے جنگ بندی پر آمادہ نہیں ہو رہا تھا۔ اگرچہ اس حوالے سے باضابطہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم مبصرین کے مطابق اس بات کا قوی امکان ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی میں چین نے کوئی ضمانت دی ہو۔

 

ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی کے تحت ایران نے کہا ہے کہ وہ اپنی عسکری کارروائیاں روک دے گا اور اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے بین الاقوامی بحری آمدورفت کو جاری رکھنے کی اجازت دے گا۔ تاہم ایران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس آبی راستے پر اس کا سٹریٹجک اثر و رسوخ برقرار رہے گا اور وہ اپنے ملک کی تعمیر نو کے لیے وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے ٹیکس بھی وصول کرے گا۔

دوسری جانب عالمی منڈیوں نے اس پیش رفت پر فوری مثبت ردعمل دیا ہے۔ تیل کی عالمی قیمتیں نمایاں طور پر کم ہوئیں جبکہ بین الاقوامی سٹاک مارکیٹس میں بھی استحکام دیکھا گیا، یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ سرمایہ کار اس جنگ بندی کو ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بطور ثالث پاکستانی کردار کا ایک اور اہم پہلو اسکا خطے میں اپنا سفارتی توازن برقرار رکھنا ہے۔ یاد رہے کہ سعودی عرب کا قریبی دفاعی اتحادی ہونے کے باوجود پاکستان نے اس بحران کے دوران ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن رکھا جو کہ ایک مشکل ترین کام تھا۔ اسلام آباد کے لیے ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون اور دوسری جانب ایران کے ساتھ سفارتی روابط برقرار رکھنا نہایت پیچیدہ معاملہ تھا، جسے پاکستان نے کامیابی کیساتھ سنبھالا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ سفارتی حکمت عملی نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی کی پختگی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اسے مسلم دنیا اور عالمی برادری کے درمیان ایک پل کے طور پر بھی پیش کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بحران کے دوران پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

 

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی داخلی سیاست میں بھی اس پیش رفت کے اثرات نمایاں ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے ٹرمپ کی جنگی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ریپبلکن پارٹی کے رہنماؤں نے بھی محتاط مؤقف اختیار کیا۔ تاہم وائٹ ہاؤس اپنی فیس سیونگ کے لیے اس جنگ بندی کو ایک جزوی کامیابی قرار دے رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ امریکہ اس جنگ سے اپنے فوری مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ تاہم حقیقت میں ایسا نہیں ہے بلکہ صورت حال اس کے الٹ دکھائی دیتی ہے کیونکہ ایران نے ڈٹ کر امریکہ اور اسرائیل کا مقابلہ کیا جس کے نتیجے میں ٹرمپ کو سیز فائر پر مجبور ہونا پڑا۔

پاکستان کی امریکا اور ایران کو اسلام آباد میں 10 اپریل کو مذاکرات کی دعوت

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے بعد ایران کی جانب سے پیش کیے گئے نکات، بشمول اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، خطے سے امریکی افواج کا انخلا اور جنگی نقصانات کا ازالہ، اسلام آباد میں شروع ہونے والے مذاکرات کا محور بنیں گے۔ ان مطالبات پر مکمل اتفاق رائے حاصل کرنا آسان نہیں ہو گا اور مذاکراتی عمل بھی پیچیدہ ہونے کا امکان ہے۔

لیکن اسکے باوجود فی الوقت جنگ بندی دنیا کے لیے ایک بڑی ریلیف خیال کی جا رہی ہے۔ 10 اپریل سے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات تعین کریں گے کہ آیا سیز فائر ایک مستقل امن معاہدے میں تبدیل ہو گا یا نہیں۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ اس پوری صورتحال میں پاکستان نے نہایت مہارت کے ساتھ سفارتی قیادت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی اہمیت کو ایک بار پھر منوا لیا ہے۔

Back to top button