پاکستان نے سیز فائر توڑنے کی اسرائیلی سازش کیسے ناکام بنائی؟

اسرائیلی ایما پر امریکہ نے ایران کے خلاف جو جنگ شروع کی تھی اس میں تہران اور واشنگٹن دونوں کو اسلام آباد مذاکرات کی صورت میں فیس سیونگ مل گئی ہے لیکن اس جنگ میں شکست صرف ایک فریق کو ہوئی جس کا نام اسرائیل ہے۔ چنانچہ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے شدید مایوسی کا شکار ہو کر سیز فائر ناکام بنانے کے لیے لبنان پر حملے شروع کر دیے تھے۔ اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹرمپ سے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل تھا لہٰذا اسرائیلی حملے فوری طور پر روکنا ہوں گے۔ بصورت دیگر ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات نہیں ہو پائیں گے۔
سی این این کے مطابق ٹرمپ اسرائیلی سازش کو بھانپ گئے جس کے بعد انہوں نے نیتن یاہو کو ایک ʼتلخ فون کال‘ کرتے ہوئے لبنان پر حملے روکنے اور اس کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرنے پر آمادہ کیا۔ سی این این کا کہنا ہے کہ اگر نیتن یاہو جنگ بندی پر آمادہ نہ ہوتے تو ٹرمپ نے خود ہی جنگ بندی کا اعلان کر دینا تھا جس سے اسرائیلی وزیر اعظم کے پلے کچھ نہیں بچنا تھا۔
امریکی اور اسرائیلی ذرائع نے نیتن یاہو سے صدر ٹرمپ کی گفتگو کو غیر معمولی حد تک سخت قرار دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے واضح کیا کہ لبنان میں حملوں کا تسلسل نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہا ہے بلکہ ایران کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ اگر اسرائیل نے جنگ بندی کی حمایت نہ کی تو امریکہ خود یکطرفہ طور پر اس کا اعلان کر سکتا ہے۔
اس فون کال کے فوری بعد اسرائیل نے اعلان کیا کہ وہ لبنان کے ساتھ براہ راست جنگ بندی مذاکرات شروع کرے گا۔
معروف امریکی میڈیا نیٹ ورک بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو لبنان کو ایران سے جنگ بندی معاہدے میں شامل کرنے سے آگاہ کیا جس پر اسرائیلی وزیراعظم کا موڈ آف ہو گیا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکہ پہلے ہی ایران کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کر چکا تھا۔ اس موقع پر پاکستان نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ سیز فائر کے باوجود لبنان پر اسرائیلی حملوں نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس صورتحال نے صدر ٹرمپ کو مجبور کیا کہ وہ اپنے اتحادی اسرائیلی وزیر اعظم پر دباؤ ڈالے۔
اس تنازع کے سفارتی پہلو کا سب سے اہم کردار پاکستان نے ادا کیا۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد نے پس پردہ سفارتکاری کے ذریعے امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان نے دونوں ممالک کو برابری کی سطح پر بات چیت کا موقع فراہم کیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف کشیدگی میں کمی آئی بلکہ دونوں فریقین کو ایک باعزت راستہ بھی میسر آیا۔ اسلام آباد میں ہونے والے ابتدائی رابطوں نے بعد ازاں باضابطہ مذاکرات کی شکل اختیار کی، جسے عالمی سطح پر ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران نے اس جنگ میں کئی اہم سٹریٹجک کامیابیاں حاصل کیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سب سے بڑی علامتی اور سیاسی کامیابی یہ رہی کہ اعلیٰ ایرانی قیادت محفوظ رہی اور آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ پوری قوت کے ساتھ اپنی قوم کی قیادت کر رہے ہیں، جس سے داخلی استحکام کو تقویت ملی۔ اقتصادی محاذ پر بھی ایران نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بین الاقوامی بحری جہازوں پر ڈالرز میں ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام ایران کے لیے ایک مستقل آمدنی کا ذریعہ بن سکتا ہے، جس سے وہ جنگ کے بعد اپنے ملک کی تعمیر نو، انفراسٹرکچر کی بحالی اور معیشت کی مضبوطی کے لیے وسائل حاصل کرے گا۔
امریکی صدر ٹرمپ ایران سے سیز فائر پر کیسے مجبور ہوئے
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ پالیسی مؤثر انداز میں نافذ ہو جاتی ہے تو عالمی تجارت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اسرائیل اپنے بنیادی ہدف، یعنی ایران کو فیصلہ کن نقصان پہنچانے، میں ناکام رہا۔ امریکہ کی مکمل حمایت کے باوجود اسرائیل نہ تو ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کر سکا اور نہ ہی اس کی سیاسی قیادت کو نقصان پہنچا سکا۔ یہی وجہ ہے کہ تجزیہ کار اس جنگ کو اسرائیل کے لیے ایک سفارتی اور عسکری ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ یوں یہ جنگ جہاں امریکہ اور ایران کے لیے ایک قابل قبول اختتام لے کر آئی، وہیں اسرائیل کے لیے یہ ایک مشکل اور شرمندگی سے بھرپور تجربہ ثابت ہوئی۔ خطے میں طاقت کے توازن، عالمی تجارت اور سفارتی حکمت عملی کے حوالے سے اس تنازع کے اثرات آنے والے وقتوں میں بھی محسوس کیے جاتے رہیں گے۔
