امریکہ اور ایران کی جنگ میں پاکستان بال بال کیسے بچا؟

معروف تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ ایران پر دوبارہ حملے سے پہلے واشنگٹن اور تہران کے مابین رابطہ کاری میں پاکستان بھی اہم کردار ادا کر رہا تھا اور یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ دونوں ممالک اسلام آباد کی وساطت سے باقاعدہ مذاکرات شروع کریں گے، تاہم آخری وقت میں ایران نے یہ ذمہ داری عمان کو دینے پر اتفاق کیا جو پاکستان کے حق میں بہتر فیصلہ ثابت ہوا۔ وجہ یہ ہے کہ اس مرتبہ بھی صدر ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کے دوران ہی اس پر حملہ کر دیا۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت کے حوالے سے حالات پہلے سے نشاندہی کر رہے تھے۔ امریکہ اور ایران کے مذاکرات مسلسل ناکام ہو رہے تھے۔ نیوکلیئر ڈیل کے حوالے سے ایران کے سپریم کمانڈر جھکنے کو تیار نہیں تھے اور صدر ٹرمپ اس سے کم پر مذاکرات کے لیے تیار نہیں تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ امریکہ اور ایران مذاکرات کے حالیہ دور میں ابتدائی طور پر پاکستان بھی رابطہ کاروں میں شامل تھا، شروع میں یہ بھی اشارہ دیا گیا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات پاکستان میں ہوں گے۔ اس حوالے سے صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے مشیر و معاون وٹکوف بھی رضامندی دے چکے تھے مگر ایران نے آخری وقت پر عمان کو مذاکرات کیلئے ترجیح دی۔ اس لیے جونہی وٹکوف نے صدر ٹرمپ کو مذاکرات کے ناکام ہونے کی اطلاع دی اُسی لمحے ایرانی قیادت کو جسمانی طور پر ختم کرنے کی منصوبہ بندی شروع ہوگئی۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جنگ کے پچھلے مرحلے میں پاکستان نے امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا تھا جس پر ایرانی پارلیمان اور ایرانی قیادت نے باقاعدہ طور پر پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کیا تھا۔ تاہم اس بار پاکستان نے ایران کے موقف کی پھر کھل کر حمایت کی لیکن مذاکرات میں وہ کوئی کردار ادا نہ کر سکا کیونکہ ایرانی قیادت نے عمان کے ذریعے مذاکرات کرنے کو ترجیح دی تھی۔ خامنہ ای گزشتہ 40 سال سے ایران کے نظریاتی لیڈر اور سٹرٹیجک قائد تھے، انہوں نے تاریخ میں پہلی بار ’فرنٹ سے دفاع‘ کی حکمت عملی کو اپنایا۔ اس حکمت عملی نے امریکہ اور اسرائیل کو لبنان میں حزب اللہ، غزہ میں حماس، شام میں فاطمیون اور زینبون دستوں، عراق میں رضاکاروں اور یمن میں حوثیوں سے الجھائے رکھا نتیجتاً 40 برس تک جنگ ایران سے دور دوسرے ملکوں میں سرحدوں پر لڑی جاتی رہی اور ایران خود دفاعی حصار میں محفوظ رہا۔
سینیئر صحافی کہتے ہیں کہ ایران نے شام میں بشارالاسد کی حکومت کے بچائو کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا حتیٰ کہ روس کو اپنا حلیف بنا کر اس کی بھی پوری مدد لی مگر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد واضح ہوگیا تھا کہ ایران کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ امریکی پالیسی سازوں سے قربت رکھنے والے ممتاز ایرانی نژاد سکالر ولی نصر اپنی کتاب ’’ایران کی گرینڈ سٹرٹیجی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ شام میں بشار اسد حکومت کے دفاع کے معاملے پر تہران کے سابق میئر غلام حسین نے برملا اختلاف کیا تھا مگر سپریم لیڈر خامنہ ای شام کے دفاع کو ایران کا دفاع اور غزہ اور لبنان جانے کے شامی راستوں کو اپنی حکمت عملی کی کامیابی کیلئے ناگزیر سمجھتے تھے، اسی لیے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کا ابتدا میں شامی حکومت کی رٹ بحال کرنے میں اہم ترین کردار رہا۔ ولی نصر کےمطابق شام میں لڑنے والے فاطمیوں کے دستوں میں زیادہ تر افغانستان اور پاکستان کے ہزارہ نوجوان اور زینبون میں لڑنے والے شیعہ پاکستانی رضاکار شامل تھے۔ یہ دستے شام میں مقدس شیعہ مقامات کا تحفظ کرتے اور اسد حکومت کی طرف سے اسکی دشمن داعش خراسان کا مقابلہ بھی کرتے تھے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اس سے پہلے ولی نصر نے اپنی ایک کتاب میں ایرانی اور عراقی شیعہ مکاتب فکر کا تفصیلی جائزہ پیش کیا تھا جسکے مطابق عراقی شیعہ مکتب فکر اہل سنت کے تصوف مکتب فکر کے قریب تر ہے جبکہ ایرانی مکتب فکر قم کے شیعہ سکالرز کی تشریحات کے قریب تر ہے۔ اس کتاب میں ایران سے لیکر شام، عراق اور لبنان تک پھیلی ہوئی پٹی کے سعودی عرب کے شیعہ شہروں تک پھیلاؤ کی تفصیلی تحقیق شامل تھی۔
سینئیر صحافی کے مطابق لگتا یوں ہے کہ اسرائیل کی غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ سے لڑائی ،پس پردہ جنگ دراصل ایران کی حکمت عملی کو ناکام بنانے کے گرینڈ پلان ہی کے تحت تھی۔ امریکہ اور اسرائیل اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ غزہ میں حماس کی نظریاتی ٹریننگ اور اسلحہ کی سپلائی ایران سے براستہ شام آتی تھی۔ لبنان میں حزب اللہ کا ایران کے سپریم کمانڈر سے روحانی اور مذہبی رابطہ بہت ہی واضح اور مضبوط تھا۔ غزہ کی لڑائی اور پھر لبنان میں حزب اللہ کی پیجر دھماکوں کے ذریعے تباہی ایران کو تنہا کرنے اور اسے اتحادیوں سے محروم کرنے کی کوشش تھی۔ ولی نصر نے ایران کی گرینڈ سٹرٹیجی نامی کتاب میں لکھا ہے کہ خامنہ ای کو مکمل یقین تھا کہ نیوکلیئر ڈیل کے حوالے سے امریکہ کے ایران پر دباؤ کا اصل مقصد ایٹمی ڈیل نہیں بلکہ حکومت کی تبدیلی ہے۔ لیبیا کے صدر معمر قذافی نے جب لیبیا کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے مغرب سے ڈیل کی تو خامنہ ای نے اسے قذافی کی بے وقوفی کہا تھا اور بعد میں یہ ثابت بھی ہو گیا کہ نیوکلیئر ڈیل کے باوجود قذافی کی نہ صرف حکومت ہٹائی گئی بلکہ انہیں قتل بھی کر دیا گیا۔ ولی نصر نے لکھا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای نے ایک محفل میں جنگ احد کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ ہمارے رسول اکرم ﷺ اس جنگ میں اکیلے رہ گئے تھے مگر وُہ ڈٹ کر جراتمندی سے مقابلہ کرتے رہے اس موقع پر ان کا دندان مبارک بھی شہید ہو گیا تھا۔ جنگ احد کی مثال دینے کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ جتنا بھی دبائو آجائے خامنہ ای کسی صورت نہیں جھکیں گے اور اکیلے بھی مقابلہ کریں گے انہوں نے شہید ہو کر اپنے قول کو سچ کر دکھایا۔
سہیل وڑائچ کے بقول اگر تو عراق، شام، لیبیا اور غزہ پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ہر جگہ انتشار پھیلا ہوا ہے۔ ان ملکوں میں مضبوط حکومتوں کی بجائے افراتفری اور خانہ جنگی جاری ہے۔ ایران میں کوئی منظم اپوزیشن نہیں۔ رضا پہلوی کا بیٹا ایران کو چلانے کے قابل نظر نہیں آتا۔ پاکستان کے پڑوسی ملک ایران میں انتشار اور خانہ جنگی ہوگی تو اسکے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے عالم اسلام میں کوئی بھی معتبر اور موقر لیڈر ایسا نہیں جو بین الاقوامی حالات کا ادراک کرتے ہوئے ملک میں ملک پھیلتی ہوئی انارکی کو روک سکے۔ پاکستانی قیادت بین الا قوامی طور پر اپنا نام اور مقام بنا چکی ہے مگر عالم اسلام کی آپس میں تقسیم انہیں کوئی ایسا کردار ادا نہیں کرنے دے رہی بلکہ بدقسمتی تو یہ ہے کہ ہمارے پڑوسی مسلمان ملک افغانستان نے خود ہمیں نشانہ بنا رکھا ہے، حالانکہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی مدد کی، جانیں قربان کیں اور دنیا کو ناراض کرکے بھی انکی آزادی اور خود مختاری کی جنگ لڑی۔
کیا ایران کی موجودہ صورت حال کی ذمہ دار اسکی قیادت ہے؟
ایک ایسے وقت میں کہ جب ہر کوئی اپنے مسئلوں میں الجھا ہوا ہے، پاکستان کو افغانستان کے اندر سے آنیوالے حملہ آوروں کے تدارک پر فوکس کرنا ہو گا۔ پاکستان فرسٹ کے اصول کو مدنظر رکھ کر ہمیں افغانستان کی نام نہاد اسلامی حکومت کو ایسا ناقابل فراموش سبق سکھانا چاہئے کہ آئندہ کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سےدیکھنے کی جرات بھی نہ کر سکے۔
