پاکستان نے ایران اور امریکہ کی جنگ برابری پر کیسے رکوائی ؟

 

 

 

پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے مابین نہ صرف جنگ بندی طے پا گئی بلکہ دونوں فریقین کو فیس سیونگ بھی مل گئی۔ امریکہ نے ایران پر حملے روکنے کا اعلان کر دیا جبکہ ایران نے وقتی طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کر دیا جس کے نتیجے میں اب اسلام آباد میں 10 اپریل سے مذاکرات کا آغاز ہو جائے گا۔

 

عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تشویش کے بیچ ایک اہم ترین پیش رفت کرتے ہوئے پاکستانی فوجی اور سویلین قیادت نے بالآخر امریکہ اور ایران کو دو ہفتوں کی مشروط جنگ بندی اور امن مذاکرات پر آمادہ کر لیا ہے، اس پیشرفت سے پوری دنیا نے سکھ کا سانس لیا ہے کیونک مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑے تصادم کا خطرہ ٹل گیا ہے۔

یاد رہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب صورت حال نہایت نازک ہو چکی تھی، جب امریکی صدر کی جانب سے ایران کو دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں محض ڈیڑھ گھنٹہ باقی رہ گیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل ایران کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے چکے تھے، جس کے باعث عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی تھی اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ کوئی بڑا فوجی اقدام متوقع ہے۔

 

تاہم عین وقت پر ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں امریکی صدر نے اعلان کیا کہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت، بالخصوص شہباز شریف اور عاصم منیر کی درخواست پر ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دو ہفتوں کے لیے معطل کی جا رہی ہیں۔ امریکی صدر کے بیان کے مطابق یہ جنگ بندی دو طرفہ ہوگی، جس کے تحت امریکہ اور ایران دونوں فوری طور پر حملے روکیں گے۔ اس پیش رفت میں ایک اہم شرط یہ شامل تھی کہ ایران آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کے لیے کھولنے پر آمادہ ہوگا، جس کے بعد امریکہ نے حملے روکنے کا فیصلہ کیا۔ امریکی مؤقف کے مطابق وہ اپنے بیشتر فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور اب یہ وقفہ ایک حتمی امن معاہدے کو شکل دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

 

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک سرکاری بیان میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے اعلان کیا کہ ایران جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز کو کھولے گا، تاہم اس کے لیے سکیورٹی کے حوالے سے ایرانی افواج کے ساتھ رابطہ ضروری ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران کے خلاف حملے بند رہتے ہیں تو ایران بھی اپنی دفاعی کارروائیاں روک دے گا۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران خود کو میدانِ جنگ میں مضبوط پوزیشن میں سمجھتا ہے اور امریکہ اس کے کئی مطالبات تسلیم کرنے پر آمادہ ہو چکا ہے۔

 

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے جو فریم ورک طے پایا ہے، اس کی بنیاد ایران کے پیش کردہ دس نکاتی منصوبے پر رکھی گئی ہے، جسے بالآخر امریکی صدر نے قابلِ عمل قرار دے دیا ہے۔ اس منصوبے میں مشرق وسطیٰ میں جاری جنگوں کے خاتمے پر زور دیا گیا ہے، خاص طور پر عراق، لبنان اور یمن میں تنازعات کے مکمل خاتمے کی بات کی گئی ہے، جبکہ ایران کے خلاف جنگ کے مستقل خاتمے، خطے میں مجموعی کشیدگی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں محفوظ اور آزادانہ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران نے اپنے اوپر عائد تمام پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی واپسی اور جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے مالی معاوضے کا مطالبہ بھی کیا ہے، جبکہ اس نے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

 

پاکستان نے اس پیش رفت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے نہ صرف امریکی صدر سے ڈیڈ لائن میں توسیع کی اپیل کی بلکہ ایران سے بھی نیک نیتی کے اظہار کے طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کی درخواست کی۔ پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اس عمل کو ایک حساس مرحلے سے آگے بڑھنے سے تعبیر کرتے ہوئے پاکستان کی کوششوں کو مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیا۔ پاکستان نے دونوں ممالک کو باضابطہ طور پر 10 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا ہے، جہاں ابتدائی طور پر یہ مذاکرات پندرہ روز تک جاری رہیں گے اور ضرورت پڑنے پر ان میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات خطے میں پائیدار امن کی بنیاد رکھیں گے۔

پاکستان کو نوبیل امن انعام کا حقدار کیوں قرار دیا جا رہا ہے

دوسری جانب اسرائیل نے امریکی فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے جوہری اور عسکری خطرات کا سدباب ضروری ہے، تاہم اس نے واضح کیا ہے کہ یہ جنگ بندی لبنان کے محاذ پر لاگو نہیں ہوگی۔ یوں پاکستان کی سفارتی مداخلت نے ایک ممکنہ بڑے فوجی تصادم کو وقتی طور پر روک دیا ہے، اور اب عالمی توجہ اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات پر مرکوز ہے جہاں یہ فیصلہ ہوگا کہ آیا یہ عارضی جنگ بندی مستقل امن کی شکل اختیار کر سکتی ہے یا نہیں۔

 

Back to top button