پاکستان نے خطے کا چوہدری بننے کی مودی کی کوشش کیسے ناکام بنائی؟

چند روز کی پاک بھارت جنگ نے نہ صرف پاکستان پر انڈیا کی فضائی برتری ختم کر دی بلکہ اسکی جانب سے خطے کا طاقتور ترین چوہدری بننے کی کوشش بھی ناکام بنا دی۔ ایسے میں انڈیا کو ایک نیا ڈاکٹرائن بنانا ہو گا یا پھر پاکستان سے جنگ کی آپشن کو بھلا کر معاملات بات چیت سے حل کرنے کا راستہ اپنانا ہو گا۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار عامر خاکوانی ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اپنی تازہ تحریر میں کہتے ہیں کہ کسی بھی جنگ کے نتائج ہمیشہ حسب منشا نہیں نکلتے۔ جنگ کے نتیجے کے بارے میں کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔ اس بار یہ ہنڈولا پاکستان کے حق میں گیا۔ اس ٹکراؤ سے یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ جنگ کرنے اور حملہ کرنے میں پہل نہ کی جائے، کیونکہ عجلت سے کام لینا نقصان دہ اور خطرناک ہوتا ہے۔ یہ وہ بات ہے جو انڈین حکومت اور منصوبہ ساز اب سوچ رہے ہوں گے۔
پہلگام حملے کے بعد انڈیا کو پہلے مناسب تحقیقات کرا لینی چاہیے تھی۔ لیکن اس نے عجلت میں اپنے حسبِ منشا نتیجہ اخذ کر کے ’دشمن‘ کے لیے سزا تجویز کر دی اور پھر خود ہی اس پر عمل بھی کر بیٹھے۔ ان کا خیال تھا کہ ’ہماری بے پناہ جنگی قوت، جدید ترین ہتھیار اور دنیا کے مہنگے ترین اینٹی میزائل دفاعی نظام کی موجودگی اور تگڑی معیشت کے ہوتے ہوئے ہم جو چاہیں گے کر گزریں گے اور پاکستان موثر جواب بھی نہیں دے پائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہو پایا۔
عامر خاکوانی کا کہنا ہے کہ انڈیا نے پاکستان کو انڈر ایسٹیمیٹ کیا۔ وہ پاکستانی فضائیہ میں شامل طیارے جے ٹین سی کو بہت ایزی لے گیا۔ اس نے پاکستان کی دفاعی پلاننگ کو بھی سیریس نہیں لیا۔ بھارتی ائیر فورس نے فرانسیسی رفال طیارے کو ناقابل شکست سمجھ لیا اور سب سے بڑھ کر پاکستانی میزائلوں کا بھی درست تجزیہ نہیں کیا۔ انڈیا نے اپنے تین لیولز پر مبنی اینٹی میزائل دفاعی نظام پر ضرورت سے زیادہ بھروسہ کر لیا اور یہ نہ سوچا کہ جب جنگ ہوتی ہے، تب بہت کچھ پہلی بار ٹیسٹ ہوتا ہے اور کئی مرتبہ ہائی پروفائل ہتھیار ناکام بھی ہو جاتے ہیں۔
عامر خاکوانی کہتے ہیں کہ پاک بھارت ٹکراؤ سے یہ سبق ملتا ہے کہ کسی ملک کو اپنی طاقت، عددی قوت اور اسلحے کی برتری کے زعم میں جنگ نہیں چھیڑنی چاہیے۔ امن اور آشتی کوئی بری یا کمزور چیز نہیں چنانچہ جہاں تک ہو سکے، مسئلے بات چیت سے ہی حل کرنے چاہییں۔ ٹکراؤ سے بعض اوقات اتنا ذیادہ نقصان ہو جاتا ہے کہ اس کی تلافی ممکن نہیں رہتی۔ کچھ ایسی ہی صورت حال کا سامنا بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بھی ہے۔
عامر خانی کہتے ہیں کہ دنیا کے بڑے ممالک اپنے لیے بہترین اینٹی میزائل سسٹم بناتے یا خریدتے ہیں، مقصد یہی ہوتا ہے کہ مخالف کے میزائل حملوں سے بچاؤ کیا جا سکے۔ امریکہ کا پیٹریاٹ میزائل شکن سسٹم بہت مشہور رہا ہے، پھر اسرائیل کو دیا گیا آئرن ڈوم اور اب تھاڈ سسٹم کی بڑی دھوم ہے۔ روسی ساختہ ایس 400 اینٹی میزائل سسٹم کو بھی دنیا کے ٹاپ تھری اینٹی میزائل سسٹمز میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ یہ خاصا مہنگا ہے، کیونکہ اس کی رینج بہت زیادہ ہے، اور چار سو کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے۔ یہ سسٹم ایک ہی وقت میں درجنوں حملہ آور طیاروں، میزائلوں اور ڈرونز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
بھارت نے ایس 400 نامی جدید ترین اینٹی میزائل سسٹم ڈیڑھ ارب ڈالرز کے عوض روس سے خریدا تھا جس کے بعد اسے یہ غلط فہمی ہو گئی کہ وہ پاکستان کو فضائی جنگ میں شکست دے سکتا ہے۔ انڈیا کا اینٹی میزائل دفاعی نظام دراصل ٹین پرتوں پر مشتمل تھا۔ سب سے پہلی شیلڈ ایس 400۔ کی تھی، اس کے بعد اسرائیل کی جانب سے دیا گیا براک اور پھر انڈیا کا اپنا مقامی سطح پر بنایا گیا آکاش اینٹی میزائل سسٹم۔ لیکن یہ اور بات کہ پاک بھارت ٹکراؤ میں یہ تینوں نظام بتی طرح ناکام ثابت ہوئے۔ پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جے ایف تھنڈر 17 پر نصب اپنے فتح نامی میزائیل کی مدد سے ادھم پور میں نصب ایس 400 دفاعی سسٹم تباہ کر دیا ہے۔ یہ ایک بڑی اور حیران کن بات ہے، مگر تکنیکی طور پر یہ ممکن ہے۔
عامر خاکوانی کے مطابق اگر جے ایف تھنڈر 17 لڑاکا طیارہ نیچی پرواز کرتے ہوئے ہائپر سونک میزائل سے حملہ کرے تو ایس 400 اینٹی میزائل سسٹم بڑی آسانی کے ساتھ تباہ ہو سکتا ہے اور اودھم پور میں ایسا ہی ہوا ہے۔ ہائپر سونک میزائل سے مراد آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ سپیڈ والا میزائیل ہے جو کہ چھ ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ سپیڈ سے جاتا ہے۔ اسلیے جب سپیڈ بہت تیز ہو، پرواز نیچی ہو تو ایس 400 کے ریڈار سسٹم کو غچہ دے کر کامیاب سٹرائیک کی جا سکتی ہے۔
یورپ کی معروف دفاعی سائٹ بلغاریہ ملٹری ریویو نے پاکستان کے ہاتھوں بھارت کے روسی ساختہ ایس 400 ڈیفنس سسٹم کی تباہی کو حیران کن واقعہ قرار دیا ہے۔ عامر خاکوانی کے مطابق پاکستان انڈیا جنگ کا سب سے بڑا فائدہ چین کو اس طرح پہنچا کہ اس کی ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی برتری دنیا بھر میں تسلیم کر لی گئی۔
انڈیا پاکستان کی جنگ نے عمران کا رہا سہا بیڑا کیسے غرق کیا؟
جے ٹین سی نامی لڑاکا طیارے کو اس معرکے سے پہلے کوئی دفاعی ماہر فرانسیسی رافیل طیارے کے مقابلے کا نہیں مان رہا تھا۔ ماہرین کی نظر میں رافیل کو ایڈوانٹیج حاصل تھا۔ لیکن جے ٹین سی جہاز نے یہ تصور غلط ثابت کر دیا ہے۔ اب دنیا بھر میں اس طیارے اور دیگر چینی فائٹر جہازوں کی ڈیمانڈ بڑھے گی۔ یعنی جس طرح 80 اور 90 کے عشرے میں جاپانی ٹیکنالوجی نے دنیا بھر میں اپنی اہمیت تسلیم کروا لی تھی، اب یہ کام چین کر رہا ہے جو کہ ففتھ جنریشن فائٹر طیارے بھی بنا رہا ہے۔
