آن لائن فراڈیے پاکستانی پارلیمنٹیرینز کو بھی لوٹنے لگے

پاکستان میں جعلسازوں نے اپنے پنجے گاڑھ لئے۔ ملک میں سائبر جرائم کی بڑھتی ہوئی لہر اب صرف عام شہریوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ فراڈیوں نے اراکین پارلیمنٹ کو بھی اپنے نشانے پر لے لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق درجن سے زائد ممبران اسمبلی لاکھوں روپے لٹانے کے ساتھ ساتھ آن لائن فراڈ، جعلی آئی ڈیز اور مالی دھوکہ دہی کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس حوالے سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ میں پیش کی گئی رپورٹ نے نہ صرف سائبر سیکیورٹی پر سنگین سوالات کھڑے کر دئیے ہیں بلکہ واضح کر دیا ہے کہ سائبر کرائم میں ملوث فراڈیے اب اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ چکے ہیں۔ ایسے میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ پاکستان میں اگر کروڑوں روپے کے بجٹ، پروٹوکول اور سیکیورٹی کے باوجود قانون ساز بھی محفوظ نہیں، تو عام شہری اپنی آن لائن حفاظت کیسے یقینی بنا سکتا ہے؟
این سی سی آئی اے کی رپورٹ کے مطابق 11 سے زائد اراکینِ پارلیمنٹ کے ساتھ آن لائن فراڈ کے واقعات سامنے آچکے ہیں۔ این سی سی آئی اے کو اراکینِ قومی اسمبلی اور سینیٹرز کی جانب سے آن لائن فراڈ سے متعلق شکایات موصول ہوئی ہیں۔ اس حوالے سے سامنے آنے والے حقائق کے مطابق زیادہ تر وارداتوں میں جعلسازوں نے منظم طریقے سے زیادہ تر ممبرانِ پارلیمنٹ کو دھوکہ دہی کے ذریعے نشانہ بنایا۔
سائبر کرائم ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ملزمان رکنِ قومی اسمبلی صاحبزادہ حامد رضا سے چار لاکھ نوے ہزار روپے دھوکے سے ہتھیانے میں کامیاب رہے۔ اس کے علاوہ سینیٹر فلک ناز سے بھی شوکت خانم ہسپتال کے نام پر چار لاکھ 85 ہزار روپےوصول کیے گئے جبکہ سینیٹر بلال احمد مندوخیل سے بھی گورنر کے نام پر رقم ہتھیائی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سینیٹر پلوشہ خان سے بھی آن لائن سرمایہ کاری کے نام پر دھوکہ دہی کی گئی۔ اسی طرح ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سید لال خان کی جعلی آئی ڈی بنا کر ان کے نام پر بھی عوام کو لاکھوں روپے کا چونا لگایا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ نامعلوم ملزمان کی جانب سے معروف شخصیات کے نام استعمال کر کے شہریوں سے رقم بٹورنے کی کوشش کی، کچھ مقدمات میں رقم کی برآمدگی بھی ہوئی ہے جبکہ چند مقدمات اس وقت زیرِ تفتیش ہیں۔
ذرائع کے مطابق سینیٹر فلک ناز سے منسوب کیس میں فراڈیوں نے شوکت خانم ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو کا روپ دھار کر مبینہ طور پر ان سے چار لاکھ 85 ہزار روپے کی خطیر رقم آن لائن وصول کی۔ تاہم این سی سی آئی اے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف ملزم کو گرفتار کر لیا بلکہ رقم بھی برآمد کر لی۔
اسی طرح سینیٹر بلال احمد مندوخیل سے متعلق کیس میں ملزمان نے گورنر کا روپ دھار کر رقم ہتھیائی۔ تاہم این سی سی آئی نے اس کیس کے ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا۔ ایک اور کیس میں سینیٹر نیاز احمد کے نام کو استعمال کرتے ہوئے ان کے جاننے والے فرد سے رقم ہتھیائی گئی۔ اس کیس میں بھی سائبر ایجنسی نے ملزمان کو گرفتار کرتے ہوئے رقم برآمد کر لی ہے۔
فہرست میں ارکانِ پارلیمنٹ سے متعلق دیگر نوعیت کے مقدمات بھی شامل ہیں، جن میں ممبر قومی اسمبلی راجہ خرم نواز کو ہراساں کیے جانے جبکہ ناز بلوچ کی جانب سے ہتکِ عزت کی شکایت درج کروائی گئی۔اسی طرح ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سید لال خان کے نام پر جعلی آئی ڈی بنائی گئی، جسے این سی سی آئی اے نے بلاک کروا دیا۔ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ایک اور سینیٹر میر دوستین ڈومکی کو بھی سوشل میڈیا پر بدنامی اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا، جس میں ملوث ملزمان بھی گرفتار کئے جا چکے ہیں۔ این سی سی آئی اے کے مطابق سینیٹر پلوشہ خان سے بھی آن لائن جعل سازوں کی جانب سے مالی فراڈ کی کوشش کی گئی، جس کے حوالے سے درج مقدمے بارے تحقیقات جاری ہیں۔ اسی طرح، سینیٹر فیصل رحمان کی آن لائن ہراسانی کے حوالے سے دو مختلف انکوائریاں تاحال زیرِ غور ہیں۔
سپریم کورٹ کا ایک جج عوام کو کتنے لاکھ روپے میں پڑتا ہے؟
اراکین پارلیمنٹ کے آن لائن فراڈیوں کا نشانہ بننے کے پے در پے واقعات سامنے آنے کے بعد واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ ممبراب اسمبلی بھی فراڈیوں کے نشانے پر ہیں۔ حالیہ کچھ ہفتوں کے دوران درجب بھر اراکینِ پارلیمنٹ کو مالی فراڈ، جعلی شناختی دستاویزات، سوشل میڈیا پر بدنامی اور آن لائن ہراسانی جیسے مختلف طریقوں سے نشانہ بنایا گیا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جعلساز نہ صرف مالی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ سیاسی شخصیات کی ساکھ اور عوامی اعتماد کو بھی متاثر کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ یہ پیچیدہ جرائم اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ پاکستان میں سائبر سیکیورٹی کے شعبے کو مزید مضبوط کرنے اور اعلیٰ سطح پر آگاہی بڑھانے کی اشد ضرورت ہے، تاکہ شہریوں اور سیاسی شخصیات دونوں کو آن لائن دھوکہ دہی اور ہراسانی سے محفوظ بنایا جا سکے۔
