کرکٹ ورلڈ کپ: 42 پاکستانی نژاد کھلاڑی انڈیا کے گلے پڑ گئے

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلنے والی آٹھ ٹیموں میں شامل 42 پاکستانی نژاد کھلاڑیوں اور آفیشلز نے پوری مودی سرکار کو عملی طور پر کریز پر لا کھڑا کیا ہے۔ بھارتی حکومت کے لیے یہ کھلاڑی ایک ایسی “کڑوی گولی” بن چکے ہیں جسے نہ آسانی سے نگلا جا سکتا ہے اور نہ ہی اگلنا ممکن دکھائی دیتا ہے۔ پاکستانی نژاد کھلاڑیوں اور آفیشلز کو ویزوں کے اجراء کے معاملے نے بھارت کو ایک ایسے سفارتی، انتظامی اور سیاسی دباؤ میں لا کھڑا کیا ہے جس سے نکلنے کا راستہ فی الحال دکھائی نہیں دیتا۔مودی سرکار کی جانب سے ویزوں کے اجرا میں ٹال مٹول، سخت ترین سکیورٹی کلیئرنس اور سیاسی ہچکچاہٹ نے اس عالمی ایونٹ کو کھیل کے میدان سے نکال کر ایک انتظامی اور سفارتی بحران میں بدل دیا ہے جبکہ ویزوں کے اجرا میں دانستہ تاخیر، عالمی کرکٹ بورڈز کی بے چینی اور آئی سی سی کی ڈیڈ لائن نے اس سپورٹس ایونٹ کو کرکٹ سے کہیں آگے ایک بین الاقوامی تنازع کی شکل دے دی ہے یوں پاکستانی نژاد کرکٹرز محض میدان کے کھلاڑی نہیں رہے بلکہ مودی سرکار کے گلے کی ہڈی بن چکے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کو ٹی ٹوئنٹی اس ورلڈ کپ میں ایک منفرد اعزاز حاصل ہے کہ قومی ٹیم کے علاوہ سات دیگر عالمی ٹیموں میں بھی پاکستانی نژاد کھلاڑی شامل ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی کرکٹ کے لیے ایک بڑی ٹیلنٹ نرسری بن چکا ہے۔ مجموعی طور پر 42 پاکستانی نژاد کھلاڑی اور آفیشلز اس ایونٹ کا حصہ ہیں، جن کی موجودگی نے بھارت کو سخت امتحان میں ڈال دیا ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ویزا مسائل کے حل کے لیے آئی سی سی نے بھارت کو ڈیڈ لائن دے دی ہے، جس کے بعد بھارتی حکام میں غیر معمولی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ اسی دباؤ کے نتیجے میں انگلینڈ کے اسکواڈ میں شامل پاکستانی نژاد اسپنرز عادل رشید، ریحان احمد اور فاسٹ بالر ثاقب محمود کے ویزے کلیئر کر دئیے گئے ہیں۔ اسی طرح نیدرلینڈ اور کینیڈا کی ٹیموں میں شامل بعض پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کو بھی کلیئرنس ملنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

تاہم امریکی ٹیم کے پاکستانی نژاد فاسٹ بالر علی خان کے ویزا معاملے نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ علی خان کو ویزا جاری نہ کرنا بھارت کے لیے اس وقت مہنگا پڑا جب آئی سی سی نے اس معاملے پر سخت وارننگ جاری کر دی۔ اس کے بعد امریکی کرکٹ ایسوسی ایشن کو یقین دہانی کرائی گئی کہ علی خان سمیت شایان جہانگیر، محمد محسن اور احسان عادل کے ویزے بھی جلد جاری کر دیے جائیں گے۔ آئی سی سی اور بھارتی ہائی کمیشن کے درمیان مسلسل رابطوں کے بعد ان درخواستوں کو فی الحال زیر غور رکھا گیا ہے اور انہیں مسترد نہیں کیا گیا۔

پاکستان انڈیا میچ نہ ہونے سے براڈکاسٹرز کا کتنا نقصان ہو گا ؟

رپورٹ کے مطابق قومی ٹیم کے علاوہ سات عالمی ٹیموں میں شامل کم از کم 20 پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کو بھارت میں داخلے کے لیے سخت ترین سکیورٹی کلیئرنس اور طویل ویزا مراحل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات اس فہرست میں سب سے آگے ہے، جہاں محمد وسیم اور حیدر علی سمیت سات کھلاڑی پاکستانی پس منظر رکھتے ہیں۔ انگلینڈ، امریکہ اور کینیڈا کی ٹیموں میں تین، تین پاکستانی نژاد کھلاڑی شامل ہیں، جن میں عادل رشید، علی خان اور سعد بن ظفر جیسے نمایاں نام شامل ہیں۔ عمان کے سکواڈ میں دو جبکہ اسکاٹ لینڈ اور نیدرلینڈ کی ٹیموں میں ایک، ایک پاکستانی نژاد کھلاڑی کی موجودگی نے مودی سرکار کے لیے انتظامی محاذ پر مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ مبصرین کے مطابق مسئلہ صرف کھلاڑیوں تک محدود نہیں رہا۔ ورلڈ کپ دیکھنے کے خواہشمند پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کے اہل خانہ، اوورسیز پاکستانی شائقین اور صحافیوں کو ویزے جاری نہ ہونے پر ایک نیا تنازع بھی جنم لے چکا ہے۔ جنیوا اور لندن میں قائم بعض انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے بعد آئی سی سی پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔دوسری جانب بھارت کی طرف سے براڈ کاسٹنگ عملے اور ٹیکنیکل آفیشلز میں شامل پاکستانی نژاد افراد کو بھی سکیورٹی کلیئرنس کے نام پر انتظار کی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے۔ تاہم اس تمام معاملے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے اپنی ہی حکومت کو ارسال کردہ مراسلے میں واضح کیا ہے کہ اگر اہم پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کے ویزا معاملات میں مزید تاخیر ہوئی تو کمرشل سپانسرز اور عالمی نشریاتی ادارے ان پر بھاری جرمانے عائد کر سکتے ہیں، جس سے بھارت کو مالی طور پر بڑا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب اوورسیز پاکستانی صحافیوں اور شائقین کی جانب سے مختلف ممالک میں بھارتی سفارت خانوں کے باہر احتجاجی مراسلے جمع کرنے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے بعد یہ سپورٹس ایونٹ آہستہ آہستہ ایک مکمل سفارتی بحران کی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

Back to top button