پاکستانیوں نے سرمایہ بیرون ملک کیسے منتقل کیا؟چیئرمین نیب کے اہم انکشافات

چیئرمین نیب ندیراحمد بٹ کاکہنا ہے کہ ً25 ہزار افراد نے سرمایہ کاری کے ذریعے شہریت حاصل کرنے کیلئےوافر مقدار میں سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا ۔
تفصیلات کے مطابق کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے دوران ایک اجلاس میں کاروباری برادری کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل پر چئیرمین نیب نے یقین دہانی کرائی کہ ان کی قیادت میں نیب میں خوف اور ہراسانی کے کلچر کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔اگر پاکستان اپنی ترقی پر توجہ مرکوز رکھے گا تو وہ اگلے چھ سے سات سال میں ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بن سکتا ۔
چیئرمین نیب نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پچھلے سال پاکستانیوں کی بڑی تعداد ملک چھوڑ گئی جن میں سے تقریباً25 ہزار افراد نے سرمایہ کاری کے ذریعے شہریت حاصل کرنے کیلئے وافر مقدار میں سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا ۔ اس ٹیلنٹ اورسرمایہ کا بیرون ملک منتقلی کو روکنے کی ضرورت پرزور دیا۔بزنس مین گروپ کے چئیرمین زبیر موتی والا نے بدعنوانی اور ہراسانی لوگوں کو پاکستان چھوڑنے پر مجبور کرتی ہے۔کاروباری افراد کی ہراسانی کو روکنے کیلئے نیب میں نئے قوانین متعارف کرائے گئے ہیں۔چئیرمین نیب نے یہ بھی اعتماد ظاہر کیا کہ اگر پاکستان اپنی ترقی پرتوجہ مرکوز رکھے گا تو وہ اگلے چھ سے سات سال میں ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بن سکتا ہے۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ صرف چاول کی برآمدات 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے جبکہ مجموعی زرعی برآمدات 9 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔
کے سی سی آئی کے صدر محمد جاوید بلوانی نے کہا کہ پاکستان میں کاروباری ماحول خراب ہو چکا ہے اور کئی ملٹی نیشنل کمپنیاں کراچی چھوڑ کر جا چکی ہیں۔
