طاقتور فیصلہ ساز گورنر ٹیسوری کو ہٹانے پر کیسے رضامند ہوئے ؟

گورنر سندھ کامران ٹیسوری کو گھر بھیجنے کا فیصلہ تب ممکن ہوا جب وزیراعظم شہباز شریف نے صدر آصف زرداری کے مطالبے پر فوجی قیادت کو ٹیسوری کے سر سے ہاتھ ہٹانے پر آمادہ کیا۔ پیپلز پارٹی کا اعتراض تھا کہ کامران خان ٹیسوری پچھلے کئی برسوں سے نہ صرف سیاسی گورنر کے طور پر ایم کیو ایم کا نمائندہ بن کر پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کو ٹارگٹ کر رہے ہیں بلکہ وفاق پاکستان کے خلاف بھی گفتگو کر رہے ہیں۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر گورنر سندھ کو ڈائریکٹر جنرل کاؤنٹر انٹیلی جنس کی حمایت حاصل نہ ہوتی تو وہ دو برس پہلے ہی اپنے عہدے سے فارغ ہو چکے ہوتے۔ ان کے مطابق پچھلے دو برسوں میں کامران ٹیسوری کو عہدے سے ہٹانے کے لیے کئی کوششیں ہوئیں لیکن آخری لمحے میں انہیں ڈی جی سی بچا لیتے تھے جنہوں نے انہیں گورنر بنوایا تھا۔ تاہم اس مرتبہ کامران ٹیسوری اس لیے بچ نہ پائے کہ ڈی جی سی بھی اب کافی کمزور ہو چکے ہیں اور گھر جانے والے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق کامران ٹیسوری کی فراغت اور نہال ہاشمی کی بطور گورنر تقرری ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا تعلق آئینی ترامیم، صوبوں اور وفاق کے درمیان اختیارات کے توازن اور وسائل کی تقسیم کے فارمولے سے جوڑا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام نہ صرف پیپلز پارٹی کے دباؤ کا نتیجہ سمجھا جا رہا ہے بلکہ اس سے یہ بھی عندیہ ملتا ہے کہ گورنر کا منصب اب اتحادی سیاست میں بدلتے ہوئے سیاسی تقاضوں کے تابع ہو چکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے طاقتور فیصلہ سازوں کو پیپلز پارٹی کے مطالبے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہمیں مستقبل میں بھی آئینی ترامیم کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی حمایت چاہیے لہذا ٹیسوری کو گھر بھیجنا ضروری ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ کامران ٹیسوری کو اکتوبر 2022 میں اس وقت کے صدر عارف علوی نے پی ڈی ایم حکومت کی سفارش پر سندھ کا گورنر مقرر کیا تھا۔ گورنر کا عہدہ فارمولے کے تحت ملنا تو نون لیگ کو تھا لیکن ایم کی ایم کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے یہ عہدہ متحدہ قومی موومنٹ کو دے دیا۔ الیکشن 2024 کے بعد جب مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں وفاقی حکومت قائم ہوئی تو وزیرِاعظم شہباز شریف نے ٹیسوری کو عہدے پر برقرار رکھا۔
تاہم باخبر ذرائع کے مطابق گزشتہ سال نومبر سے ہی ان کی تبدیلی کے امکانات زیرِ غور تھے اور انہیں سیاسی حلقوں میں پہلے ہی عارضی مدت پر سمجھا جا رہا تھا۔ پیپلز پارٹی نے اپریل 2024 میں باضابطہ طور پر ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ صوبے میں سیاسی اور شہری اور دیہی تقسیم کم کرنے میں مؤثر کردار ادا نہیں کر سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئینی اصلاحات، خصوصاً مجوزہ 27ویں ترمیم کے تناظر میں گورنر سندھ کی تبدیلی کو ایک اہم سیاسی پیش رفت سمجھا جا رہا تھا۔ بعد ازاں یہ معاملہ 28ویں ترمیم اور قومی مالیاتی کمیشن کے ممکنہ نئے فارمولے سے بھی جوڑا جانے لگا۔
کامران ٹیسوری کی برطرفی کے بعد مسلم لیگ (ن) نے اپنے سینئر رہنما نہال ہاشمی کو سندھ کا نیا گورنر نامزد کیا، جنہوں نے حلف اٹھا لیا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے اس فیصلے پر سخت ردِعمل ظاہر کیا اور الزام عائد کیا کہ انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ جماعت کے ارکان نے قومی اسمبلی میں احتجاجاً واک آؤٹ کیا، جبکہ بعض رہنماؤں نے اتحادی حکومت میں شمولیت پر نظرثانی کی بات بھی کی۔ تاہم بعد میں جماعت کی قیادت نے محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فیصلے پر مشاورت میں شامل نہیں کیا گیا، لیکن وہ سیاسی کشیدگی نہیں بڑھانا چاہتے۔ یعنی متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت پرانی تنخواہ پر ہی نوکری کرے گی۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے گورنر کی جانب سے پیپلز پارٹی پر تابڑ توڑ حملے کیے گئے تو صدر آصف علی زرداری نے سخت ناراضی کا اظہار کیا۔ اسکے بعد سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے طاقتور فیصلہ سازوں کو کامران ٹیسوری کی فراغت پر راضی کیا اور اسی بہانے اپنی پارٹی کا گورنر بھی لگوا لیا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آئندہ آئینی ترامیم، بالخصوص بلدیاتی نظام کو بااختیار بنانے، قومی مالیاتی تقسیم کے فارمولے اور مرکز و صوبہ تعلقات پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
دھمکیوں کے باوجود ایم کیو ایم اسی تنخواہ پر نوکری کرے گی
ادھر ایم کیو ایم رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اگرچہ فوری طور پر گورنر کی فراغت سے متحدہ قومی موومنٹ کو سیاسی نقصان ہوا ہے، لیکن طویل مدت میں وہ مضبوط بلدیاتی اختیارات کے مطالبے کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب ناقدین اس تبدیلی کو ایم کیو ایم کی سیاسی کمزوری سے تعبیر کر رہے ہیں اور یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ اتحادی سیاست میں طاقت کا توازن بدلا ہے۔ تاہم مجموعی طور پر تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک گورنر کی تبدیلی نہیں بلکہ آئندہ سیاسی صف بندی اور آئینی اصلاحات کے تناظر میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
