صدر کلنٹن نے نواز شریف کو پھانسی لگنے سے کیسے بچایا تھا؟

 

 

 

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے مارچ 2000 میں امریکی صدر کلنٹن کے دورہ پاکستان کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے یہ فتوی تو دے دیا ہے کہ مشرف کے آمرانہ دور میں ہوئے اس دورے کو غیر ضروری اہمیت دی گئی، تاہم وہ یہ بھول گئے کہ کلنٹن کے اسی دورے کی وجہ سے نواز شریف پھانسی کے تختے پر چڑھنے سے بچ گئے تھے۔

معروف صحافی اور تجزیہ کار روف کلاسرا نے اپنے سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے سال 2000 میں کلنٹن کے دورہ پاکستان کے پس منظر پر روشنی ڈالی ہے۔ کلاسرا کے مطابق خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران کہا کہ جب صدر کلنٹن چند گھنٹوں کیلئے پاکستان آئے تو مشرف حکومت اور اس کے حامیوں نے غیر معمولی خوشی کا اظہار کیا اور اسے اپنی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا۔ کلاسرا کہتے ہیں کہ شاید وزیر دفاع اس حقیقت کو نظرانداز کر رہے ہیں کہ اسی کے نتیجے میں جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کو سزائے موت نہ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

 

انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ خواجہ آصف پچھلے کچھ عرصے سے مسلسل امریکہ مخالف تقاریر کر رہے ہیں۔ ان کے بقول پاکستان میں اینٹی امریکہ بیانیہ ہمیشہ مقبول رہا ہے اور مختلف سیاسی رہنما وقتاً فوقتاً اسے استعمال کرتے رہے ہیں۔ انکے مطابق ماضی میں عمران خان اسی انداز میں امریکہ پر تنقید کرتے تھے اور اب یہ سیاسی خلا خواجہ آصف پُر کرنے کو کوشش کر رہے ہیں، انکا کہنا ہے کہ خواجہ آصف کی تنقید عموما تاریخی حوالوں پر مبنی ہوتی ہے جبکہ عمران خان کا انداز بیان زیادہ جذباتی ہوتا تھا۔

 

روف کلاسرا نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے اکثر حکمران کسی نہ کسی مرحلے پر امریکی تعاون سے فائدہ اٹھاتے رہے مگر بعد ازاں امریکہ پر تنقید بھی کرتے رہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد جب شہباز شریف وزیر اعظم بنے تو آئی ایم ایف سے معاہدے میں امریکہ کا کردار رہا جس کا اعتراف خود وزیر اعظم نے کیا تھا اور اس ضمن میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی کوششوں کا بھی ذکر ہوا تھا۔ کلاسرا کے مطابق اگر وہ معاہدہ نہ ہوتا تو ڈالر کی قدر کہیں زیادہ بڑھ سکتی تھی۔ روف کلاسرا تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے امریکہ کے کردار پر ایک پوری کتاب تحریر کی، بھٹو دور میں ہنری کسنجر سے ملاقاتوں کا ذکر ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات میں موجود ہے اور بعد ازاں وہی بھٹو امریکہ مخالف بیانیے کے ساتھ سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل ضیاء الحق نے امریکہ کے ساتھ طویل تعاون کے بعد جنیوا معاہدے پر ناراضی اختیار کی۔ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے ادوار کا حوالہ دیتے ہوئے کلاسرا نے دعویٰ کیا کہ تین مرتبہ اقتدار کے حصول میں امریکہ سے تعلقات کو حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا گیا اور پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو کے درمیان ہونے والی مفاہمت میں بھی امریکی کردار شامل تھا، جس کا ذکر سابق امریکی وزیر خارجہ کنڈولیزا رائس نے اپنی کتاب میں کیا۔

 

امریکی صدر کلنٹن کے مارچ 2000ء کے دورے کے حوالے سے روف کلاسرا نے تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں بل کلنٹن کے جنوبی ایشیا کے دورے میں پاکستان شامل نہیں تھا کیونکہ امریکہ فوجی حکومت کے باعث محتاط تھا۔ تاہم سعودی حکمرانوں کی خواہش پر پاکستان کا مختصر دورہ شامل کیا گیا۔ ان کے مطابق کلنٹن نے واضح شرائط رکھیں کہ وہ صرف چند گھنٹے قیام کریں گے، جنرل مشرف سے مصافحے کی کوئی تصویر جاری نہیں کی جائے گی، وہ پاکستانی قوم سے ٹی وی پر خطاب کریں گے اور سب سے اہم یہ کہ نواز شریف کو سزائے موت نہیں دی جائے گی۔ روف کلاسرا کے بقول امریکی مؤقف یہ تھا کہ پاکستان ایک اور متنازع پھانسی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بعد ازاں نواز شریف کو سزائے موت کے بجائے قید کی سزا سنائی گئی اور پھر سعودی عرب جلاوطن کر دیا گیا۔ ان کے مطابق اس عمل میں امریکی اور سعودی کردار اہم تھا۔ انہوں نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جلاوطنی کے عمل کو انتہائی خفیہ رکھا گیا حتیٰ کہ بعض قریبی سیاسی ساتھی بھی لاعلم رہے۔

تحریک طالبان کے بعد داعش بھی پاکستان میں حملے کیوں کرنے لگی؟

روف کلاسرا وزیر دفاع خواجہ آصف کے کلنٹن کے حوالے سے بیان بر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سیاستدان اکثر ماضی کا احسان یاد نہیں رکھتے اور بدلتے وقت کے تقاضوں کے مطابق بیانیہ اختیار کر لیتے ہیں۔ ان کے بقول جب خواجہ آصف اسمبلی میں کلنٹن کے دورے پر تنقید کر رہے تھے تو شاید وہ اس پس منظر کو نظرانداز کر رہے تھے جسے وہ نواز شریف کی جان بچانے کا سبب قرار دیتے ہیں۔

Back to top button