صدر ٹرمپ نے مودی اور عمران کی امیدوں پر پانی کیسے پھیرا؟

پچھلے ایک برس کے دوران امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کے ساتھ غیر معمولی دوستانہ تعلقات قائم کر کے نہ صرف بھارت کی مودی سرکار کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے بلکہ عمران خان اور تحریک انصاف سے وابستہ حلقوں کی وہ تمام توقعات بھی خاک میں ملا دی ہیں جو وہ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے وابستہ کیے بیٹھے تھے۔ بدلتی ہوئی امریکی پالیسی کے نتیجے میں پاکستان کی موجودہ عسکری و سیاسی قیادت کی واشنگٹن حکمت عملی نہایت کامیاب دکھائی دے رہی ہے، جبکہ بھارت اور تحریک انصاف دونوں خود کو سفارتی طور پر تنہا محسوس کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ بھارت کی مودی حکومت اور تحریک انصاف کی قیادت دونوں نے صدر ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے سے قبل یہ امیدیں باندھ رکھی تھیں کہ نئی امریکی انتظامیہ ان کے لیے خوشخبری لائے گی۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو یقین تھا کہ ٹرمپ اقتدار سنبھالتے ہی پاکستان کے خلاف سخت رویہ اختیار کریں گے، اسلام آباد پر دباؤ بڑھائیں گے اور اس پر اقتصادی اور سفارتی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ دوسری جانب تحریک انصاف کی قیادت اور اس کے حامیوں کو یہ امید تھی کہ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں قدم رکھتے ہی عمران خان کی رہائی کے لیے براہ راست دباؤ ڈالیں گے یا کوئی حکم نامہ جاری کریں گے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ واضح ہو گیا کہ نہ مودی کی امیدیں پوری ہوئیں اور نہ ہی عمران خان کی خواہشات کو عملی شکل مل سکی۔
صدر ٹرمپ کے جنوری 2025 میں دوسری بار اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں وہ گرم جوشی دیکھنے میں نہیں آئی جس کی توقع کی جا رہی تھی، اس کے برعکس امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں مسلسل بہتری آتی چلی گئی۔ 22 جنوری کو عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ڈیووس میں صدر ٹرمپ کے زیر سرپرستی قائم کیے گئے ’بورڈ آف پیس‘ کی سرکاری تقریب میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی شرکت نے عالمی توجہ حاصل کی۔ اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔ غزہ کی تعمیر نو کے لیے قائم کیے گئے اس امن بورڈ میں شمولیت کے موقع پر شہباز شریف اور صدر ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات اور دستخطوں کے مناظر نے نہ صرف پاکستانی بلکہ عالمی میڈیا میں خاصی توجہ حاصل کی اور دونوں رہنماؤں کے درمیان گرم جوشی کی تصاویر وائرل ہو گئیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بورڈ آف پیس پر بھارت کی جانب سے کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا، حالانکہ صدر ٹرمپ نے بھارت کو بھی اس میں شامل ہونے کی دعوت دے رکھی ہے۔ سفارتی ماہرین کے مطابق یہی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ نئی دہلی بدلتے ہوئے حالات میں تذبذب کا شکار ہے۔ گزشتہ ایک برس کے دوران بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی بڑھتی چلی گئی۔ یہ فاصلہ تب بڑھنا شروع ہوا جب مئی 2025 میں صدر ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ رکوائی لیکن مودی نے امریکی صدر کو یہ کریڈٹ دینے سے انکار کر دیا۔ اسکے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے بھارت پر اضافی محصولات عائد کر دیے۔ اس صورت حال کا فائدہ پاکستان نے اٹھایا اور ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت میں سرد پڑنے والے تعلقات کو نہ صرف بحال کیا بلکہ انہیں مزید مضبوط بھی کر لیا۔
عالمی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت نے دو بڑی غلطیاں کیں، پہلی غلطی امریکہ کے ساتھ اپنے تجارتی مذاکرات کو غیر ضروری طور پر طول دینا اور دوسری غلطی ٹرمپ کو پاک بھارت سیز فائر کا کریڈٹ نہ دینا تھی۔ انکے مطابق اصل مسئلہ ٹرمپ کی شخصیت ہے اور مودی انہیں سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کی امریکہ کے ساتھ سفارتی کامیابیوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ اسلام آباد اکثر یہ اندازہ لگا لیتا ہے کہ امریکی فیصلو کے ساتھ کھڑا ہونا واشنگٹن کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے، چاہے اس کے مستقبل میں کچھ نقصانات ہی کیوں نہ ہوں۔ پاکستان کی پالیسی یہ رہی ہے کہ آج کے مسائل کم کیے جائیں اور مستقبل کے خدشات سے بعد میں نمٹا جائے۔
امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کا کہنا ہے کہ امریکہ نے دو دہائیوں تک بھارت پر تکیہ کیا، لیکن وہ امریکی ترجیحات کے ساتھ مکمل ہم آہنگ نہ ہو سکا۔ سال 2025 میں بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں ایسی تبدیلیاں آئیں جن کا تصور بھی نہیں کیا جا رہا تھا، خاص طور پر پار بھارت جنگ کے بعد سے دونوں سابقہ اتحادیوں کے تعلقات میں ایسی سرد مہری آئی ہے جس کے ختم ہونے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔
مودی سرکار ٹرمپ کے امن بورڈ میں شمولیت سے انکاری کیوں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بھی پاکستان کی اہمیت بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان ٹرمپ کے امن بورڈ کا حصہ ہے جبکہ بھارت کو دعوت ملنے کے باوجود مودی حکومت تاحال کوئی فیصلہ نہیں کر پایا۔ ان کے مطابق پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات امریکہ کو یہ صلاحیت دیتے ہیں کہ وہ خطے میں توازن قائم رکھ سکے اور بحران کے وقت مؤثر کردار ادا کر سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرد جنگ کے دور سے لے کر آج تک پاکستان اور امریکہ مختلف ادوار میں شراکت دار رہے ہیں، اور حالیہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ عاصم منیر کی زیر قیادت پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت کی امریکہ پالیسی نے نہ صرف بھارت بلکہ تحریک انصاف کی وہ تمام امیدیں بھی خاک میں ملا دی ہین ہیں جو وہ صدر ٹرمپ کی واپسی سے وابستہ کیے ہوئے تھے۔
