صدر زرداری کے خطاب نے ملکی سیاست میں ہلچل کیسے مچائی؟

 

 

 

حالیہ دنوں ایک جلسے کے دوران صدر آصف علی زرداری کے غیر معمولی سخت اور طنزیہ لہجے نے نہ صرف حکومتی صفوں بلکہ اپوزیشن حلقوں میں بھی ہلچل مچا دی صدر زرداری نے جہاں ایک طرف حکومت کو ملک چلانے کی پیشکش کی وہیں دوسری جانب بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ہدف تنقید بناتے ہوئے قید وبند کی صعوبتیں صبر و تحمل سے برداشت کرنے کا مشورہ دے ڈالا۔ صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ملک میں تبدیلی کا دعویدار عمران خان جیل میں قید کے دوران کبھی دودھ کی عدم دستیابی پر چیخیں مارتا ہے اور کبھی اندھے پن کا رونا روتا ہے۔ عمران خان مجھ سے سیکھے کہ صبر اور برداشت کے ساتھ جیل کیسے کاٹی جاتی ہے۔ صدر آصف علی زرداری کی جانب سے طویل خاموشی کے بعد سامنے آنے والی جارحانہ طرز گفتگو کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ صدر کی اس غیر معمولی سیاسی فعالیت اور سخت زبان کے پیچھے اصل محرکات کیا ہیں؟ ایوانِ صدر سے آنے والی یہ سخت آواز محض جذباتی ردعمل ہے یا کسی سوچے سمجھے سیاسی پیغام کا حصہ؟ کیا یہ بڑھتی سیاسی کشیدگی کا ردعمل ہے یااتحادی سیاست کے تناظر میں کوئی نئی حکمتِ عملی؟۔ مبصرین کے مطابق صدرآصف علی زرداری کی حالیہ فعالیت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ خاموش تماشائی بن کر بیٹھنے کے بجائے براہِ راست سیاسی بیانیے کا حصہ بننے کا ارادہ رکھتے ہیں، اور یہی پہلو آنے والے دنوں میں ملکی سیاست کی سمت متعین کرنے کے ساتھ ساتھر سیاسی منظرنامے کی نئی صف بندیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

صدر آصف علی زرداری کے جارحانہ خطاب کے بعد جہاں حکومتی صفوں میں بے چینی پائی جاتی ہے وہیں سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی رہنما اور کارکنان بھی سوشل میڈیا پر تلملاتے نظر آتے ہیں تاہم پیپلز پارٹی رہنما قمر زمان کائرہ کے مطابق صدرآصف زرداری کے خطاب کو غلط تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق صدر مملکت نے کسی کو ہدف تنقید نہیں بنایا بلکہ اپنی ذاتی زندگی اور جیل میں برداشت کی گئی سختیوں کے پس منظر میں بات کی ہے کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ قید کا ماحول آسان نہیں ہوتا اور وہاں صبر و تحمل ہی اصل آزمائش ہے۔قمر زمان کائرہ کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی اہلِ خانہ سے ملاقات یا طبی بنیادوں پر ہسپتال منتقلی کے معاملے پر پیپلز پارٹی کو کوئی اعتراض نہیں۔ ان کے بقول اگر طبی ضرورت ہو تو علاج کی سہولت ملنی چاہیے ان کے مطابق عمران خان کی ملاقاتوں پر پابندی یا علاج کے لیے ہسپتال منتقلی کا فیصلہ حکومت کا اختیار ہے پیپلز پارٹی کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

 

دوسری جانب سیاسی مبصرین اس صورتحال کو وسیع تر سیاسی تناظر میں دیکھتے نظر آتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق صدر زرداری کا حالیہ جارحانہ اور تنقیدی لب ولہجہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ محض علامتی کردار تک محدود رہنے کے بجائے فعال سیاسی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ تجزیہ کار اس حکمت عملی کو اتحادی سیاست میں دباؤ اور طاقت کے توازن کی نئی ترتیب سے جوڑتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ بعض اسے آئندہ سیاسی منظرنامے کی پیش بندی قرار دیتے ہیں۔ تاہم بعض دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق صدر مملکت کے منصب کا تقاضا ہے کہ گفتگو میں شائستگی اور تحمل نمایاں ہو۔ کسی بھی صدر ممکت کو ذاتی یا سیاسی اختلاف کے باوجود الفاظ کے چناؤ میں احتیاط برتنی چاہیے۔ اگر کسی کی مشکل میں عملی مدد ممکن نہ ہو تو کم از کم غیر ضروری طعن و تشنیع سے گریز بہتر راستہ ہوتا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول ملک پہلے ہی سیاسی تناؤ کا شکار ہے اور ایسے میں صدر کا براہِ راست اور جارحانہ لب و لہجہ سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔

 

تاہم بعض دیگر سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک صدر آصف علی زرداری کی حالیہ گفتگو کو محض سخت لب و لہجہ قرار دینا درست نہیں، بلکہ اسے ایک تجربہ کار سیاستدان کی بے باک رائے سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق زرداری طویل قید و بند اور سیاسی نشیب و فراز کا سامنا کر چکے ہیں، اس لیے جب وہ صبر و برداشت کی بات کرتے ہیں تو وہ محض سیاسی نکتہ چینی نہیں بلکہ ذاتی تجربے کی بنیاد پر بات کر رہے ہوتے ہیں۔ ویسے بھی ملکی سیاست میں اصولی مؤقف اختیار کرنا اور قیادت کے معیار پر سوال اٹھانا جمہوری عمل کا حصہ ہے، اور صدر نے اسی تناظر میں اپنی رائے دی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ صدر زرداری کی سیاسی فعالیت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ملکی سیاسی معاملات سے لاتعلق نہیں بلکہ حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے بقول ایک آئینی منصب پر فائز ہونے کے باوجود اگر وہ قومی سیاست کے اہم معاملات پر رائے دیتے ہیں تو اسے غیر معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ موجودہ سیاسی کشیدگی کے ماحول میں کھل کر بات کرنا قیادت کی مضبوطی کی علامت ہے، اور صدر کا حالیہ انداز اسی سیاسی خود اعتمادی کی عکاسی کرتا ہے۔

سیاست میں برداشت نہیں کرسکتے تو کوئی اور کام کرلو، صدر آصف زرداری کی عمران خان پر تنقید

تاہم حقیقت یہ صدر آصف علی زرداری کی حالیہ تقریر نے سیاسی بیانیے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف ان کے حامی اسے تجربے اور استقامت کا اظہار قرار دے رہے ہیں، تو دوسری جانب ناقدین اسے منصبِ صدارت کے وقار کے منافی قرار دیتے نظر آتے ہیں۔ تاہم صدر زرداری نے طویل خاموشی توڑ کر یہ پیغام دے دیا ہے کہ وہ موجودہ سیاسی بساط میں اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، اور آنے والے دنوں میں یہی طرزِ عمل ملکی سیاست کی نئی جہت متعین کر سکتا ہے۔

 

Back to top button