پی ٹی آئی نے پنجاب میں مریم نواز حکومت کو مضبوط کیسے بنایا؟

 

عمران خان کی ناکام سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے پی ٹی آئی کا پنجاب سے صفایا ہو چکا ہے، پی ٹی آئی کی صورت میں کمزور اور لاغر اپوزیشن نے مریم نواز کو پنجاب کی مضبوط ترین وزیر اعلیٰ بنا دیا ہے۔ جہاں ایک طرف پنجاب میں تحریک انصاف کی قیادت منظر عام سے غائب ہے وہیں دوسری جانب صوبائی اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی اراکین بھی خاموشی کی طنابوں میں جکڑے نظر آتے ہیں جبکہ حالیہ ضمنی الیکشن میں شکست فاش نے پی ٹی آئی کی رہی سہی ساکھ کا بھی جنازہ نکال دیا ہے۔

مبصرین کے مطابق پنجاب اسمبلی میں بطور اپوزیشن پی ٹی آئی کی کمزور پوزیشن سے وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز خوب فائدہ اٹھا رہی ہیں۔تحریکِ انصاف کے پنجاب اسمبلی میں بطور اپوزیشن اپنا کردار ادا کرنے میں یکسر ناکامی کے بعد وزیر اعلی پنجاب مریم نواز بادشاہوں کی طرح عوام پر جابرانہ فیصلے مسلط کرنے کے ساتھ ساتھ من مرضی کی قانون سازی کرتی دکھائی دیتی ہیں،پی ٹی آئی کی کمزور پوزیشن اور معنی خیز خاموشی کی وجہ سے نہ تو انھیں ایوان میں ٹف ٹائم مل رہا ہے اور نہ ہی سڑکوں پر کوئی احتجاجی تحریک نظرآتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان کے جیل جانے کے بعد تحریکِ انصاف کے ’’انقلابی‘‘ رہنما صرف سوشل میڈیا تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، جبکہ عملی میدان میں پنجاب سے پی ٹی آئی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رکن پنجاب اسمبلی امتیاز شیخ کے مطابق تحریک انصاف کے اراکین پنجاب اسمبلی ایوان کے اندر اور باہرجو وہ کر سکتے ہیں وہ کر رہے ہیں،پی ٹی آئی کارکن اور اراکین اسمبلی قیادت کی ہر کال پر متحرک ہوتے ہیں، تاہم حکومت کی جانب سے پرتشدد کارروائیوں اور گرفتاریوں کی وجہ سے وہ سامنے نہیں آ پاتے امتیاز شیخ کے بقول پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 100 کے قریب اراکین موجود ہیں، تاہم جو بھی رکن ایوان میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز یا حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتا ہے اس کے خلاف انتقامی کارروائی کر کے مقدمات درج کروا دیے جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اکثریتی اراکین خاموش رہتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے آدھے سے زائد اراکین کے خلاف مقدمات درج ہیں اراکین کے گھروں پر چھاپے مار کر خاندانوں تک کو ہراساں کیا جاتا ہے،ایسے میں کون عوام کیلئے آواز اٹھانے کا رسک لے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز یاد رکھیں جو ظلم وہ اپوزیشن کے ساتھ کر رہی ہیں اس کا سامنا ان کو بھی بہت جلد کرنا پڑے گا۔

تاہم صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری پنجاب میں پی ٹی آئی کی پراسرار خاموشی کو اپنی کارکردگی سے جوڑتی دکھائی دیتی ہیں عظمیٰ بخاری کے مطابق پنجاب کی عوام مریم نواز کی حکومت سے خوش ہیں، عوام کسی انتشاری ٹولے کا حصہ بننے کو تیار نہیں ہے۔‘ حالیہ ضمنی الیکشن میں کارکردگی کی بنیاد پر عوام نے نون لیگ کو ووٹ دے کرپی ٹی آئی کو مسترد کردیا ہے۔ ان کے مطابق پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن اراکین شور شرابے اور بےجا تنقید کے علاوہ کچھ نہیں کرتے، مریم نواز کو ایسی اپوزیشن سے فرق نہیں پڑتا۔ ‘ دوسری جانب سیاسی مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی دیگر اپوزیشن جماعتوں کی طرح احتجاجی کالز اور جلسے جلوسوں کے ذریعے اپنے کارکنوں کو متحرک رکھنے کی کوشش تو کرتی ہے تاہم پنجاب میں قیادت کے فقدان اور ایوان میں مؤثر اپوزیشن کا کردار ادا نہ کرنے پر نہ صرف کارکن بلکہ اراکین اسمبلی بھی مایوس دکھائی دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ’پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف نے حکومت کو ابھی تک کوئی ٹف ٹائم نہیں دیا، وزیر اعلی کے انتخاب سے اب تک حکومت کو کبھی بھی کسی قسم کی مشکل پیش نہیں آئی۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن اتنی کمزور اور لاغر ہے کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کے خلاف نعرے بازی پر پی ٹی آئی کے متعدد اراکین کی رکنیت ہی معطل کر دی گئی تھی۔‘
مبصرین کے مطابق مریم نواز کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلے پہل تو پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت مخالف آوازیں سنائی دیتی تھیں تاہم اب تو تحریک انصاف کی اختلافی آوازیں اور بیان بازی بھی محدود ہوگئی ہے‘ ’ملک احمد خان بھچر نے بطور اپوزیشن لیڈر ن لیگ کو تھوڑا بہت ٹف ٹائم دیا تھا۔ تاہم جب سے وہ نااہل ہوئے ہیں اس وقت سے اب تک اپوزیشن کا پنجاب اسمبلی میں کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب سے نئے اپوزیشن لیڈر معین قریشی آئے ہیں، پی ٹی آئی پنجاب اسمبلی میں کمپرومائزڈ نظر آرہی ہے۔ ’گزشتہ کئی ماہ کے دوران پنجاب حکومت کے خلاف اسمبلی میں اپوزیشن کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے قانون سازی ہو یا قراردادوں کی منظوری حکومت تمام امور بغیر کسی رکاوٹ کے سرانجام دے رہی ہے، کسی پالیسی یا منصوبے میں تبدیلی کرانے میں اپوزیشن تاحال ناکام نظر آتی ہے۔‘ پی ٹی آئی بطور جماعت اس وقت پنجاب میں نہ ہونے کے برابر ہے، پی ٹی آئی کا ووٹ بینک موجود ہے لیکن وہ بھی موجودہ قیادت سے مایوس ہوتا جارہا ہے۔

Back to top button