تحریک انصاف کو PPP کی دی گئی عزت راس کیوں نہ آئی؟

کراچی میں سندھ پولیس کی جانب سے مٹھی بھر شرپسندوں کو ہنگامہ آرائی سے روکنے پر پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کے مابین قائم وقتی ہم آہنگی اور مختصر ترین محبت دردناک انجام کو پہنچ گئی۔ قانون شکن یوتھیوں کو بزور طاقت پٹا ڈالنے کی کوشش پر پیپلز پارٹی کے قصیدے پڑھنے اور رواداری کا گن گانے والی پی ٹی آئی قیادت گالیوں اور الزام تراشیوں پر اتر آئی۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے صدر آصف علی زرداری کو ڈکٹیٹر اور سندھ حکومت کو فسطائیت کی روشن مثال قرار دے دیا۔ تاہم ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ 10 جنوری کی صبح تک پیپلز پارٹی کی تعریفوں میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے والی پی ٹی آئی قیادت چند گھنٹوں بعد ہی سڑکوں پر احتجاج اور الزامات پر اتر آئی؟
ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی کراچی آمد پر پیپلز پارٹی کی جانب سے پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر سہیل آفریدی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی کھل کر تعریف کی، جبکہ اتوار کے روز باغ جناح میں جلسے کے انعقاد کی اجازت دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ جس پر حکومت سندھ نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے باغ جناح میں جلسے کی اجازت دے دی۔ تاہم 10 جنوری کو جب وزیر اعلیٰ کے پی کے جامشورو اور حیدرآباد پہنچے تو اچانک سہیل آفریدی کا مؤقف تبدیل ہو گیا۔ انہوں نے باغ جناح کے بجائے نمائش چورنگی سے شاہراہ فیصل کو جانے والی سڑک، یعنی شاہراہ قائدین پر جلسہ کرنے کی ضد پکڑ لی۔ سندھ حکومت نے واضح موقف اختیار کیا کہ جب جلسے کے لیے باقاعدہ گراؤنڈ موجود ہے تو سڑک پر اجتماع کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یوں پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے درمیان محض 24 گھنٹوں پر محیط یہ مختصر محبت کھلی عداوت میں بدل گئی۔
اتوار کی شام چار بجے کے بعد پی ٹی آئی کے سینکڑوں کارکن شاہراہ قائدین پر جمع ہونا شروع ہوئے۔ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹوں پر مٹھی بھر شرپسند ٹوٹ پڑے اور پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ جواباً پولیس نے چند آنسو گیس شیل داغے اور محدود لاٹھی چارج کیا، جس کے بعد ہنگامہ آرائی مزید شدت اختیار کر گئی۔ مشتعل عناصر نے میڈیا کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں چند صحافی زخمی ہوئے اور ایک نجی ٹی وی چینل کی ڈی ایس این جی کو نقصان پہنچا۔ ذرائع کے مطابق میڈیا پر حملوں کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ٹی وی چینلز جلسے میں شرکاء کی کم تعداد دکھا رہے تھے۔تاہم پی ٹی آئی قیادت اپنی ممکنہ ناکامی کو چھپانے کے لیے میڈیا کو جلسہ گاہ سے دور رکھنا چاہتی تھی اور حسبِ روایت صرف سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی مرضی کی کوریج کروانے کی خواہاں تھی۔ تاہم پولیسن اور پی ٹی آئی کارکنان کے مابین دو سے ڈھائی گھنٹے جاری رہنے والی اس ہنگامہ آرائی کے بعد اچانک پولیس نے تمام رکاوٹیں ہٹا لیں اور خاموشی اختیار کر لی۔ رات آٹھ بجے تک باغ جناح اور اطراف میں دو سے تین ہزار افراد موجود تھے، جن میں اکثریت غیر مقامی افراد کی تھی۔ واضح رہے کہ اتوار کے روز عام تعطیل کے باعث ویسے ہی شہریوں کی بڑی تعداد تفریح اور مزار قائد پر حاضری کے لیے اس علاقے کا رخ کرتی ہے۔
سندھ میں پیپلزپارٹی کی ڈکٹیٹر شپ قائم ہے : سہیل آفریدی
دلچسپ امر یہ ہے کہ رات آٹھ بجے تک نہ تو پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت جلسہ گاہ پر پہنچی اور نہ ہی کوئی باقاعدہ اسٹیج یا لائٹنگ کا انتظام موجود تھا۔ پی ٹی آئی کی حکمت عملی یہ تھی کہ موبائل فونز کی روشنی استعمال کر کے نیم اندھیرے میں چھوٹے ہجوم کو بڑا ظاہر کیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ باغ جناح جیسے وسیع گراؤنڈ کے ہوتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے پی کے نے سڑک پر جلسے کا انتخاب کیوں کیا؟ ذرائع کے مطابق اس کی اصل وجہ عوامی شرکت کی کمزور توقعات تھیں۔ 9 جنوری کو کراچی ایئرپورٹ پر وزیر اعلیٰ کے پی کے کے استقبال کے لیے محض ڈیڑھ سے دو ہزار افراد موجود تھے، جو پریس کلب پہنچتے پہنچتے مزید کم ہو گئے۔ حالانکہ انہیں سندھ حکومت کی جانب سے مکمل سرکاری پروٹوکول دیا گیا اور کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی۔ اسی طرح جامشورو میں سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سربراہ سید زین شاہ کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجتماع میں بھی زیادہ تر شرکاء سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے کارکن تھے۔ کوٹری اور حیدرآباد کے دیگر مقامات پر بھی پی ٹی آئی کو خاطر خواہ عوامی پذیرائی نہ مل سکی۔ ان حالات میں پی ٹی آئی قیادت نے اندازہ لگا لیا کہ کراچی میں باغ جناح بھرنا ممکن نہیں ہوگا، اسی لیے سڑک پر جلسے کا پینترا بدلا گیا تاکہ کم تعداد بھی بڑا تاثر دے سکے۔ پولیس کی محدود کارروائی نے پی ٹی آئی قیادت کو یہ جواز بھی فراہم کر دیا کہ ان کے جلسے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں، ورنہ عوام کا سمندر امڈ آتا۔
دوسری جانب سیاسی حلقوں میں اس بات پر بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ صدر آصف علی زرداری، جنہوں نے سب سے پہلے بانی پی ٹی آئی کو ”طالبان خان“ کا لقب دیا تھا، انہی کی جماعت سندھ میں پی ٹی آئی کو سہولت کیوں فراہم کر رہی ہے؟ حکومت سندھ کا مؤقف ہے کہ سہیل آفریدی ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں، اس لیے انہیں سرکاری حیثیت میں پروٹوکول دیا گیا۔ تاہم بعض ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی پنجاب میں پی ٹی آئی سے ہمدردی رکھنے والے ووٹرز کے دل میں نرم گوشہ پیدا کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مسلم لیگ (ن) دہشت گردی کے خلاف آپریشن کی مخالفت پر پی ٹی آئی کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ ذرائع یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ سندھ میں پی ٹی آئی کے ساتھ اس نرمی پر مقتدر حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے، اور پولیس کی جانب سے کی جانے والی محدود کارروائی محض ایک علامتی قدم ہو سکتا ہے تاکہ یہ تاثر قائم رہے کہ پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کو کھلی چھوٹ نہیں دے رکھی اور ساتھ ہی پی ٹی آئی کو بھی یہ بیانیہ میسر آ جائے کہ اسے ریاستی جبر کا سامنا ہے۔
