سینیٹر پلوشہ خان نے علیم خان کی دم پر پاؤں کیسے رکھا؟

 

 

 

حال ہی میں کئی فٹ تک پانی میں ڈوب جانے والی لاہور کی پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک اور وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اس وقت سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں ہیں جسکی بنیادی وجہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان سے ان کی بدتمیزی اور تلخ کلامی ہے، اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے۔

 

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ایک وفاقی وزیر کا ایک خاتون سینیٹر کی جانب سے کیے گئے سوال کے جواب میں بدتمیزی کرنا نہ صرف غیر پارلیمانی رویہ ہے بلکہ جمہوری اقدار کے بھی منافی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے علیم خان کے رویے کو تحقیر آمیز اور چور مچائے شور کے مترادف قرار دیا ہے۔

 

یہ واقعہ جمعے کو سینیٹر پرویز رشید کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس کے دوران پیش آیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر علیم خان سے مختلف امور پر سوالات کیے جا رہے تھے کہ اسی دوران سینیٹر پلوشہ خان نے ایک سوال اٹھایا جس پر ماحول کشیدہ ہو گیا۔ پلوشہ خان نے سوال کیا کہ کیا لاہور میں ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کو فائدہ پہنچانے کے لیے سرکاری خرچ پر ایک بڑی سڑک تعمیر کی جا رہی ہے؟ ان کا اشارہ پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کی جانب تھا۔ واضح رہے کہ اس برس اگست میں آنے والے شدید سیلاب کے دوران لاہور میں واقع پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کے ہزاروں تعمیر شدہ مکانات چھ سے دس فٹ تک پانی میں ڈوب گئے تھے۔ اس کے بعد متاثرین نے الزام لگایا تھا کہ یہ سوسائٹی دریائے راوی کی زمین پر بنائی گئی ہے اور اسی وجہ سے ان کے گھر ڈوب گئے ہیں، تاہم علیم خان اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ زمین سرکاری اجازت سے خریدی گئی اور سوسائٹی کو محفوظ بنانے کے لیے اس کے اطراف ترقیاتی کام کیے جا رہے ہیں۔

 

پلوشہ خان کے مطابق جس سڑک کا سوال اٹھایا گیا، وہ بھی اسی مقصد کے لیے سرکاری خرچ پر بنائی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کی وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پلوشہ کے سوال پر علیم خان شدید برہم ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ مجھ پر اپنی ہاؤسنگ سوسائٹی کو فائدہ پہنچانے کا الزام لگایا جا رہا ہے جسے میں اسے اپنی تذلیل سمجھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں اس لیول پر نہیں آنا چاہتا جس پر آپ آ گئی ہیں۔ میں نے تو جواب دے دیا ہے، لیکن آپ جواب نہیں دے پائیں گی۔ بات یہیں نہیں رکی بلکہ غصے میں علیم خان نے یہاں تک کہہ دیا کہ اس کمیٹی میں سب بے ایمان اکٹھے ہو کر بیٹھے ہوئے ہیں۔

 

اس پر پلوشہ خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ اس سوال کا جواب دینے کی بجائے غصہ اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ آپ قصوروار ہیں۔ کمیٹی کے دیگر ارکان نے دونوں کے درمیان بیچ بچاؤ کرانے کی کوشش کی، تاہم کشیدگی برقرار رہی اور دونوں ایک دوسرے پر چیختے اور چنگھاڑتے رہے۔ علیم خان نے اس دوران پلوشہ خان کو شٹ اپ کہہ دیا جس پر پلوشہ خان نے بھی جوابی طور پر شٹ اپ کہا۔ بعد ازاں سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ انہوں نے علیم سے یہ سوال نہیں کیا تھا کہ سیلاب کے دوران ان کی سوسائٹی کیوں ڈوبی یا متاثرین کو کیوں لاوارث چھوڑ دیا گیا، انکا سوال صرف یہ تھا کہ آیا لاہور کی کسی ہاؤسنگ سوسائٹی کو فائدہ پہنچانے اور ایک سڑک تعمیر کرنے کے لیے سرکاری وسائل استعمال ہو رہے ہیں یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جواب دینے کے بجائے وفاقی وزیر بھڑک اٹھے اور غیر پارلیمانی زبان استعمال کی۔ پلوشہ خان نے کہا کہ حکومت اب خود کو جواب دہ ہی نہیں سمجھتی، کیا اب ڈنڈے کے زور پر سوال بند کروائے جائیں گے؟ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ کمیٹی کے ارکان کو بے ایمان کہا گیا، حالانکہ ان کی اپنی وزارت کے معاملات آئی ایم ایف کی رپورٹس میں زیرِ بحث آ چکے ہیں۔

 

اس دوران سینیٹ آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر علیم خان نے کمیٹی کو رنگ روڈ اور پارک ویو سے متعلق امور پر بریفنگ دی اور بتایا کہ یہ معاملہ پہلے بھی سینیٹ میں زیر بحث آ چکا ہے۔ اعلامیے کے مطابق چیئرمین کمیٹی نے بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کے تحفظات مناسب طریقے سے دور کر دیے گئے ہیں۔ اعلامیے میں یہ بھی تصدیق کی گئی کہ اجلاس کے دوران علیم خان اور پلوشہ خان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، تاہم چیئرمین کی ہدایت پر علیم خان نے پلوشہ خان سے معذرت کر لی، جس کے بعد اجلاس کا باقی ایجنڈا آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا گیا۔

 

اجلاس کی کوریج کرنے والے ایک صحافی نے بتایا کہ پلوشہ خان نے علیم خان کی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق سوال کیا تھا، جس پر صورت حال بگڑ گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے بعض ارکان اس بات پر بھی نالاں تھے کہ علیم خان ماضی میں متعدد اجلاسوں میں طلب کیے جانے کے باوجود شریک نہیں ہوتے رہے، تاہم جب وہ اس اجلاس میں آئے تو یہ تنازع کھڑا ہو گیا۔ صحافی کے مطابق سیکریٹری ہاؤسنگ نے بیچ بچاؤ کرانے کی کوشش کی، تاہم پلوشہ خان واک آؤٹ کر گئیں۔

 

واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے علیم خان کے رویے پر تنقید کی۔

ایک صارف حمزہ نے لکھا کہ کسی شریف آدمی کو کسی خاتون سے اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے۔ پلوشہ خان ایک سینیٹر ہیں، لہٰذا ایک وفاقی وزیر اور میڈیا چینل کے مالک کو یہ رویہ زیب نہیں دیتا۔ زبیر احمد نامی صارف نے لکھا کہ یہ ہیں آپ کے وفاقی وزیر، جو ایک سوال پوچھنے پر اتنا بھڑک جاتے ہیں۔ ایک اور صارف عائشہ وحید کا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ پلوشہ خان علیم خان کی بدتمیزی اور دھمکیوں کے باوجود ڈٹی رہیں اور وزیر کی دو نمبری پر سوال اٹھاتی رہیں۔

جنرل باجوہ کے احتساب کے ن لیگی مطالبے کے پیچھے کیا ہے؟

واضح رہے کہ عبدالعلیم خان ماضی میں تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے، تاہم بعد ازاں انہوں نے عمران خان سے راہیں جدا کر کے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ وہ اس وقت استحکام پاکستان پارٹی کے صدر ہیں۔ علیم خان لاہور اور اسلام آباد میں کئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مالک ہیں اور نجی نیوز چینل سما نیوز کے مالک بھی ہیں۔

Back to top button