شہباز شریف نے روسی صدر پیوٹن کو کیسے کلین بولڈ کیا؟

ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد میں حال ہی میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کے دوران ایک ایسا غیر معمولی واقعہ پیش آیا جس نے عالمی سفارتی حلقوں کو چونکا کر رکھ دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی اس حکمتِ عملی کو عملاً ناکام بنا کر رکھ دیا جس کے تحت وہ ملاقات سے قبل عالمی رہنماؤں کو طویل انتظار کروا کر اپنی برتری اور طاقت کا تاثر قائم کرتے رہے ہیں۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے اپنی تحریر میں اس حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پہلے سے طے شدہ ملاقات کے لیے نہ صرف صدر پیوٹن کا انتظار کرنے سے انکار کیا بلکہ خود اس کمرے کا دروازہ کھول کر اندر گھس گئے جہاں روسی صدر، ترک صدر رجب طیب اردگان اور ترکمانستان کے صدر سردار بردی محمدوف کیساتھ گپ شپ میں مصروف تھے۔ شہباز شریف کا یہ فیصلہ سفارتی روایات سے ہٹ کر ضرور تھا، لیکن انہوں نے ایسا کر کے واضح پیغام دے دیا کہ پاکستانی وزیراعظم کے ساتھ کسی قسم کی نفسیاتی یا علامتی برتری کی پالیسی بالکل نہیں چلے گی۔
اشک آباد میں منعقدہ اس بین الاقوامی کانفرنس میں دنیا بھر سے سربراہانِ مملکت شریک تھے۔ شہباز شریف بھی اس کانفرنس میں مدعو تھے اور ان کی مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ سائیڈ لائن ملاقاتیں طے تھیں۔ انہی ملاقاتوں میں ایک اہم ملاقات روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ساتھ بھی طے تھی۔ جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ شہباز شریف اپنے وفد کے ہمراہ ملاقات کے لیے طے شدہ وقت پر مخصوص ہال میں پہنچے تو سٹیج پر دو کرسیاں رکھی تھیں اور پاکستان اور روس کے قومی پرچم نصب تھے۔ وزیراعظم اپنی نشست پر بیٹھ گئے جبکہ ان کے وفد نے ان کی دائیں جانب نشست سنبھال لی۔ تاہم مقررہ وقت گزر جانے کے باوجود روسی صدر ملاقات کے لیے نہیں آئے۔
جاوید چوہدری کے مطابق اس ملاقات میں تاخیر کے دوران بھارتی شہر میں موجود روسی میڈیا نیٹ ورک آر ٹی (RT) نے وزیراعظم پاکستان اور ان کے وفد کی انتظار کرتے ہوئے فوٹیج جاری کر دی۔ اس ویڈیو میں شہباز شریف کو سٹیج پر تنہا بیٹھے دکھایا گیا۔ آر ٹی نیٹ ورک کے مطابق وزیراعظم پاکستان کو 40 منٹ تک انتظار کرنا پڑا۔ اس فوٹیج کے سامنے آنے کے بعد پاکستانی اور غیر ملکی تجزیہ کاروں نے اسے پاکستان کی سفارتی بے عزتی قرار دیا۔ بعض مبصرین کا کہنا تھا کہ صدر پیوٹن نے یہ تاخیر جان بوجھ کر کی، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ وہ 5 اور 6 دسمبر کو بھارت کا دورہ کر چکے تھے۔
یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان اشک آباد میں پیوٹن سے ملاقات کے ذریعے بھارت کے ساتھ روس کی بڑھتی ہوئی قربت کے تاثر کو کم کرنا چاہتا تھا، مگر یہ کوشش الٹی پڑ گئی۔ یہ فوٹیج جاری ہونے کے بعد بھارتی میڈیا اور پاکستان میں پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے وزیراعظم پر شدید تنقید شروع کر دی۔ تاہم یہ لوگ نہیں جانتے تھے کہ اسی وقت وہ واقعہ پیش آیا جس نے پوری صورتحال کا رخ بدل دیا۔
جاوید چوہدری کے مطابق، 12 دسمبر کو 40 منٹ انتظار کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اچانک اپنی نشست سے اٹھے، اور اپنی سیکیورٹی ٹیم کے ساتھ سیدھے اس کمرے کی طرف روانہ ہو گئے جہاں صدر پیوٹن ترکی اور ترکمانستان کے صدور کے ساتھ ملاقات کر رہے تھے۔
وزیراعظم نے کسی رسمی اجازت یا پروٹوکول کا انتظار کیے بغیر کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گئے۔ شہباز شریف نے نہ صرف ان تینوں رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کی بلکہ ہیڈ چیئر پر خود بیٹھ گئے۔ نتیجتاً تینوں صدور ایک صوفے پر ایک ساتھ بیٹھنے پر مجبور ہو گئے جس کی تصاویر بھی وائرل ہیں۔ ترکمانستان کے صدر محمدوف اس صورت حال پر خاصے پریشان دکھائی دیے اور اسی لیے انہیں مختلف تصاویر میں ٹشو پیپر اٹھاتے اور پسینہ صاف کرتے ہوئے دیکھ گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف تقریباً 15 منٹ تک وہاں موجود رہے اور پھر اٹھ کر واپس چلے گئے۔
جاوید چوہدری کے مطابق اس دوران پاکستانی حکام نے روسی میڈیا نیٹ ورک کی جاری کردہ انتظار کی فوٹیج کو روسی حکام کے ذریعے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہٹوایا اور آر ٹی نیٹ ورک کی انتظامیہ کو باقاعدہ معذرت کرنے پر بھی مجبور کیا۔ آر ٹی نے اپنے آفیشل پیجز پر معذرت نامہ شائع کیا اور متنازع مواد ہٹا دیا۔ اس کے بعد پاکستان میں روسی سفارت خانے نے بھی پاکستانی موقف کی تائید کی اور شہباز شریف اور صدر پیوٹن کی ملاقات کی باضابطہ فوٹیج جاری کی۔
خیبرپختونخوا سے افغان باشندوں کی ملک بدری میں تیزی کیسے آئی؟
مبصرین کے مطابق صدر پیوٹن سربراہانِ مملکت کو ملاقات سے پہلے انتظار کروانے کی پالیسی کے لیے مشہور ہیں۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد سامنے والے رہنما کو نفسیاتی طور پر دباؤ میں لانا اور اپنی طاقت کا اظہار کرنا ہوتا ہے۔ ماضی میں یہ پالیسی جرمن چانسلر اینجلا مرکل سے لے کر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک کے ساتھ آزمائی گئی، مگر کسی رہنما نے کھل کر اس روایت کو چیلنج نہیں کیا۔ جاوید چوہدری کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات کے لیے انتظار کرنے کی بجائے پیوٹن کے کمرے میں گھس کر نہ صرف حساب برابر کیا بلکہ ایک نئی مثال قائم کر دی۔ جاوید چوہدری کے بقول اس واقعے نے یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنی قومی عزت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ پاکستان دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے اور عالمی سطح پر برابری اور احترام کی بنیاد پر تعلقات کا خواہاں ہے۔ اشک آباد میں پیش آنے والا یہ واقعہ نہ صرف روس بلکہ دنیا بھر کے رہنماؤں کے لیے ایک واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے کہ پاکستان یا اسکے وزیراعظم اعظم کو نفسیاتی دباؤ میں لانے کی پالیسی اب نہیں چلے گی۔
