سہیل آفریدی پاکستان دشمن افغانوں کے ہیرو کیسے بن گئے؟

 

 

 

قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ حکام کے بلند وبانگ دعوؤں کے برعکس خیبرپختونخوا غیر قانونی افغان باشندوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے جس کے نتیجے میں متعدد ڈیڈ لائنز گزرنے کے باوجود صوبے سے افغان شہریوں کی ملک بدری سست روی کا شکار نظر آتی ہے۔  وفاقی حکومت کی مخاصمت میں غیر قانونی افغان باشندوں کیلئے خیبر پختونخوا کو محفوظ پناہ گاہ بنانے کے بعد وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت ایک بار پھر آمنے سامنے آ گئے ہیں۔

 

خیال رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے غیر قانونی مقیم افغانوں کو گرفتار کر کے ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے بعد  آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاوہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے حکام نے بھی وفاقی حکومت کی پالیسی پر لبیک کہا ہے جبکہ خیبرپختونخواہ کے علاوہ ملک کے تمام حصوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے افغان باشندوں کی ملک بدری کیلئے مربوط کارروائیاں جاری ہیں تاہم پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت نہ صرف وفاقی حکومت کی افغانستان بارے پالیسی کی کھل کر مخالفت کر رہی ہے بلکہ خیبرپختونخوا حکومت غیر قانونی افغانوں کی مکمل سہولتکاری کرتی بھی نظر آتی ہے۔ اس حوالے سے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ  ملک بھر سے افغان کیمپ ختم کئے جا رہے ہیں جبکہ ڈی نوٹیفائی کرنے کے باوجود خیبر پختونخوا میں افغان مہاجرین کے کیمپ اب تک قائم ہیں، حقیقت میں خیبر پختونخوا میں غیر قانونی افغانوں کو تحفظ دیا جا رہا ہے، محسن نقوی کا مزید کہنا تھا کہ قومی سلامتی پر کوئی صوبہ اپنی پالیسی بنا کر نہیں چل سکتا، خیبرپختونخوا کو افغان مہاجرین بارے وفاقی حکومت کے فیصلے پر عمل کرنا پڑے گا۔ ہمیں ہر صورت میں افغان مہاجرین کو واپس بھیجنا ہے، ہم مزید بم دھماکے افورڈ نہیں کر سکتے

تاہم ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کے دباؤ کے باوجود افغان مہاجرین بارے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی وفاقی حکومت کی مخالفت سے افغان باشندوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ جبکہ اطلاعات ہیں کہ راولپنڈی سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں مقیم افغانوں نے پشاور اور صوبے کے دیگر اضلاع کا رخ کر لیا ہے۔تاہم وفاقی حکومت نے افغان مہاجرین بارے اپنی حکمت عملی پر سختی سے عملدرآمد کا فیصلہ کرتے ہوئے افغان مہاجرین کی واپسی کیلئے چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دے کر اسکریننگ کا عمل تیز کر دیا ہے۔چھاپہ مار ٹیموں کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر رپورٹس حکومت کو بھجوائی جارہی ہیں۔ جبکہ ٹیموں میں پولیس، ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت کمشنریٹ افغان مہاجرین وغیر ہ شامل ہیں۔ اسی طرح مختلف تھانوں کی سطح پر بھی ٹیموں کی تشکیل عمل میں لائی گئی ہیں۔

 

ذرائع کے بقول پرائیویٹ اور سرکاری سکولوں سے بھی رابطے کیے گئے ہیں اور پشاور کے مختلف بازاروں اور علاقوں میں افغان شہریوں کی اسکریننگ کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ صوبے کے تمام نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم افغان طلبہ کا ڈیٹا جمع کرنے کو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق افغان طالبعلموں کی تفصیلات معلوم کرنے کیلئے خصوصی فارم بھی جاری کیا گیا ہے۔ جس کے تحت فارم میں ضلع، سکول اور دیگر بنیادی معلومات درج کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تمام تعلیمی اداروں کو ایک ہفتے میں افغان طلبہ کا ڈیٹا فراہم کرنے کا ہدف دیاگیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو بزور طاقت ملک بدر کرنے کے وفاقی حکومت کے فیصلے پر اعتراض نے فیڈریشن اور صوبے کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ جس کی وجہ سے وفاق اور صوبے کے درمیان معاملات مزید سرد مہری کا شکار ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ تاہم وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے وفاقی حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت نے افغان باشندوں کیلئے نئی امید پیدا کر دی ہے اور انہوں نے خیبرپختون کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔ جہاں انھیں نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں مہیا کی جا رہی ہیں بلکہ انھیں خیبر پختونخوا میں روزمرہ ضروریات زندگی کے حوالے سے تمام سہولیات بھی دستیاب ہیں۔ یعنی خیرپختونخوا کی آفریدی سرکار افغانوں کا ہیرو بننے کے چکر میں ریاستی اداروں کی مخالفت پر اتر آئی ہے۔

احتجاج کا اعلان کر کے خود غائب : کیا آفریدی نے کرسی بچائی

اس حوالے سے مبصرین کا کہنا ہے کہ جہاں ایک طرف وفاقی حکومت کی جانب سے افغان باشندوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے وہیں دوسری جانب وفاق کے برعکس صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت افغانوں کو بے دخل کرنے کے معاملے میں کسی قدر تذبذب کا شکار دکھائی دیتی ہے جبکہ خیبر پختونخوا کا دشوار گزار پہاڑی سرحدی علاقہ، ملک میں عسکری گروہوں کی سرگرمیاں اور فرقہ وارانہ لڑائیاں مرکزی حکومت کی غیرملکیوں بالخصوص افغانوں کو نکالنے کی مہم کے لیے چیلنج بن رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان کیلئے افغانوں کو مکمل طور پر بے دخل کرنا ناممکن ہے کیونکہ وہ سرحدی باڑ نصب ہونے کے باوجود غیرقانونی راستوں یا نظام کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر پھر واپس آ جاتے ہیں۔‘انہوں نے بتایا کہ ’سرحد پر کئی گاؤں ایسے ہیں جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان منقسم ہیں۔ اور گزشتہ تین چار دہائیوں سے انھیں راستوں سے دونوں ممالک کے باشندے مسلسل آر پار آ جا رہے ہیں۔‘

تجزیہ کاروں کے مطابق افغان مہاجرین کی ملک بدری میں سست روی کی دوسری وجہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا چونکہ افغانستان کے ساتھ متصل ہے اور اس کے افغانستان کے ساتھ صدیوں پرانے نسلی، لسانی اور ثقافتی رشتے ہیں۔ ایسے افغان بھی کم نہیں ہیں جن کے پاکستانی شہریوں کے ساتھ ازدواجی بندھن قائم ہیں۔ عوامی رد عمل سے بچنے کیلئے خیبرپختونخوا حکومت افغانوں کی بے دخلی میں مکمل تعاون سے انکاری ہے۔ اسی لئے افغانستان بارے وفاقی پالیسی پر عمل درآمد مجموعی طور پر سست روی کا شکار ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کئی وجوہات کی بناء پر افغانوں کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہے کیونکہ جہاں افغان شہریوں اور ان کی روایات اور ثقافت ایک جیسی ہیں وہیں جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان بھی اپنے دور حکومت میں افغان پناہ گزینوں کے ساتھ زور زبردستی کے رویے کی مسلسل مخالفت کرتے رہے ہیں۔‘ اسی لئے سہیل آفریدی بھی اس حوالے سے جارحانہ حکمت عملی اپنانے سے انکاری ہے۔

Back to top button