سہیل آفریدی کی توجہ عوامی خدمت کی بجائے اڈیالہ جیل پر کیوں؟

 

 

 

وزیر اعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے وفاداری ثابت کرنے کے چکر میں خیبرپختونخوا کے عوام کا رگڑا نکال دیا۔ صوبے میں امن و امان کی مخدوش صورتحال، بے روزگاری اور گہرے ہوتے مالی بحران جیسے سنگین چلینجز کے باوجود سہیل آفریدی کی زیادہ تر توجہ اڈیالہ جیل کے باہر سیاسی سرگرمیوں اور عمران خان سے ملاقات کی کوششوں پر مرکوز نظر آتی ہے۔

 

ایک طرف صوبے کو درپیش مشکلات میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے جبکہ دوسری جانب وزیراعلٰی تمام امور چھوڑ کر اڈیالہ جیل کے باہر اپنے قائد سے ملنے کی تگ و دو میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق سہیل آفریدی کا طرز عمل اس بات کا غماز ہے کہ انہیں عوامی خدمت سے زیادہ عمران خان سے وفاداری نبھانے کے لیے وزیرِ اعلیٰ بنایا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ انھیں عوام کے دکھ، تکلیف اور مصائب سے کوئی سروکار نہیں ان کی صرف اتنی سی خواہش ہے کہ کسی طرح ان کی عمران خان سے ملاقات کروا دی جائے اسی مقصد کیلئے وہ دربدر ترلے منتیں کرنے نظر آتے ہیں۔

 

خیال رہے کہ وزیرِ اعلیٰ بننے کے بعد اب تک سہیل آفریدی پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان سے ملاقات نہیں کر سکے ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اب تک آٹھ مرتبہ عمران خان سے ملنے کے لیے اڈیالہ جیل آ چکے ہیں۔ تاہم انھیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ سہیل آفریدی کا موقف ہے کہ وہ ہر بار کورٹ کا آرڈر لے کر ملاقات کے لیے اڈیالہ پہنچتے ہیں مگر انہیں ملے بغیر واپس کر دیا جاتا ہے۔آئینی عہدہ ہونے کے باوجود انہیں جیل کے باہر ایک ایس ایچ او روک دیتا ہے۔

 

ناقدین کے مطابق خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی بھی اپنے پیشرو علی امین گنڈاپور کی طرح صوبائی معاملات پر توجہ دینے کی بجائے اپنا پیشتر وقت بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کیلئے تگ ودو اور احتجاجی جلسوں و جلوسوں میں شرکت میں گزارتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کو درپیش سنگین مسائل اور بڑھتی ہوئی بدامنی کے باوجود وزیرِ اعلیٰ صوبے کے عوام کو درپیش مسائل کا حل نکالنے کی بجائے عمران خان سے ملاقات کے لئے نئے سے نئے پاپڑ بیلنے میں صرف کرتے ہیں۔ حکومتی امور پر عدم توجہی اور صوبے میں مسلسل عدم موجودگی پر سہیل آفریدیسخت عوامی تنقید کی زد میں ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا اس وقت عملی طور پر ’’لاوارث صوبے‘‘ کا منظر پیش کر رہا ہے، کیونکہ صوبائی قیادت مقامی مسائل کے حل کے بجائے اپنا بیشتر وقت اسلام آباد کے سیاسی میلوں میں گزار رہی ہے۔ ان کے مطابق اسی رویے کی وجہ سے صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عوامی مسائل مسلسل شدت اختیار کر رہے ہیں۔

نواز شریف نے جنرل باجوہ، فیض اور عمران کو کیسے بلیک میل کیا؟

تاہم دوسری جانب معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا ان تمام دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہنا ہے کہ وزیراعلٰی سہیل آفریدی صوبے کے معاملات بخوبی نبھا رہے ہیں۔ تاہم اب بھی وہ بانی چئیرمین عمران خان سے ملاقات کر کے صوبے کے امور سے متعلق مشاورت کرنا چاہتے ہیں لیکن انھیں ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ وزیراعلٰی آٹھویں دفعہ اڈیالہ جیل ملاقات کے لیے گئے، لیکن انھیں ملاقات کی اجازت نہیں ملی تو مجبوراً ان کے پاس صرف احتجاج کا راستہ بچ جاتا ہے۔‘ ’وزیراعلٰی سیاسی ورکر کے طور پر ہر معاملے کو دیکھ رہے ہیں جبکہ صوبے کے آئینی سربراہ ہونے کی حیثیت سے عوامی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق وفاقی حکومت کو فوری وزیراعلٰی سہیل آفریدی کی اپنے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کروا دینی چاہیے تاکہ غیرضروری مزاحمتی سیاست کا خاتمہ ہو سکے۔مبصرین کے بقول صوبے کے چیف ایگزیگٹو ہونے کی حیثیت سے سہیل آفریدی کا حق ہے کہ انہیں مشاورت کے لیے اپنے قائد سے ملنے دیا جائے، اگر ان کو عمران خان کی صحت سے متعلق خدشات ہیں تو اسے دور کرنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔‘

مبصرین کے بقول سہیل آفریدی نے جب سے وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالا ہے ان کی پہلی ترجیح عمران خان ہیں۔ سیاسی  تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ’ہفتے میں پانچ ورکنگ ڈے ہوتے ہیں سہیل آفریدی ہفتے کے 5 ورکنگ ڈیز میں سے تین دن اڈیالہ کے باہر گزارتے ہیں، باقی دو دن چھٹی ہوتی ہے سہیل آفریدی کی پشاور کی بجائے ہفتے کے پانچ دن اڈیالہ جیل راولپنڈی اور اسلام آباد میں موجودگی سے صوبے کے معاملات شدید متاثر ہو رہے ہیں‘۔ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے مگر صوبے کے وزیراعلٰی نے اسلام آباد خیبر پختونخوا ہاؤس میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ جس کی وجہ سے خیبرپختونخوا کے عوام بددلی پھیل رہی ہے،ناقدین کا مزید کہنا ہے کہصوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے مگر صوبے کے وزیراعلٰی نے اسلام آباد خیبر پختونخوا ہاؤس میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔

ناقدین کے مطابق خیبرپختونخوا کے عوام کو امن و امان کے علاوہ بے روزگاری اور معیشت کے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ اگر اب بھی گڈ گورننس پر توجہ نہ دی گئی تو آنے والے دنوں میں معاملات مزید بگڑ سکتے ہیں۔‘ ناقدین کے بقول پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت تمام تر توانائیاں صرف عمران خان سے ملاقات کے لیے خرچ کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کا واحد ایجنڈا عمران خان کیلئے ریلیف کی فراہمی اور ان کی رہائی ہے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی یا تحریکِ انصاف کی مرکزی قیادت کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے احتجاجی، قانونی یا عدالتی، کوئی بھی حربہ اختیار کر لیا جائے،ان کی عمران خان سے اس وقت تک ملاقات ممکن نہیں جب تک فوجی اسٹیبلشمنٹبراہ راست اس کی اجازت نہیں دیتی۔ ان کے مطابق عمران خان تک رسائی کے تمام راستے اس وقت ایک ہی ادارے کے فیصلے سے مشروط ہیں، اور عدلیہ سے لے کر سول انتظامیہ تک کوئی بھی اس حد سے آگے جانے کی پوزیشن میں نہیں۔

Back to top button