سہیل آفریدی نے ایک بار پھر یوتھیوں کو ماموں کیسے بنایا؟

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا ایک بار پھر یوتھیوں کو ماموں بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ سہیل آفریدی نے رمضان المبارک کے بعد عمران خان کی رہائی کیلئے ایک خصوصی فورس تشکیل دینے کا اعلان کر کے یوتھیوں کو ایک نئے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ہے۔ تاہم وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے خصوصی ٹاسک فورس کے قیام کے فیصلے نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ پی ٹی آئی حلقے اس فیصلے کو سیاسی وابستگی اور عوامی مینڈیٹ کا تقاضا قرار دے رہے ہیں، جبکہ مخالفین اسے اداروں پر دباؤ بڑھانے اور قانونی عمل کو متاثر کرنے کی حکمتِ عملی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ تاہم سہیل آفریدی کے اس اعلان نے نہ صرف صوبائی اور وفاقی حکومت کے اختیارات پر سوال اٹھادیا ہے بلکہ یہ بحث بھی چھیڑ دی ہے کہ کیا اس طرح کے اقدامات سیاسی استحکام کو فروغ دیں گے یا مزید محاذ آرائی کو جنم دیں گے۔
مبصرین کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی شدید سیاسی کشیدگی، قانونی پیچیدگیوں اور ادارہ جاتی تناؤ کا شکار ہے،ایسے میں سہیل آفریدی کے نئی ٹاسک فورس کی تشکیل کے اقدام کو محض ایک انتظامی فیصلے کی بجائے ایک واضح سیاسی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق سوال یہ ہے کہ آیا کسی صوبائی حکومت کی جانب سے کسی مخصوص سیاسی رہنما کی رہائی کے لیے فورس قائم کرنا آئینی اور قانونی دائرہ کار میں آتا ہے یا یہ ریاستی اختیارات کے استعمال کو سیاسی مقاصد کے تابع کرنے کی کوشش ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت آنے والے دنوں میں ملکی سیاست کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ناقدین کے مطابق سہیل آفریدی نے ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان تو کر دیا ہے تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی واضح روڈمیپ سامنے نہیں آیا۔ اگر پی ٹی آئی کی جانب سے اس فورس کے خدوخال، اختیارات اور قانونی حیثیت واضح نہ کی گئی تو یہ فیصلہ آنے والے دنوں میں مزید ابہام اور محاذ آرائی کو جنم دے سکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سہیل آفریدی کی جانب سے خصوصی فورس کے قیام کا اعلان دراصل ایک سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہے، جس کا اصل مقصد کارکنوں کو متحرک رکھنا اور پارٹی کے اندر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنا ہے۔ ان کے نزدیک حالیہ احتجاجی سرگرمیوں، قیادت پر تنقید اور کارکنوں کی بے چینی کے پس منظر میں یہ اقدام پارٹی صفوں میں نظم و ضبط برقرار رکھنے اور تنظیمی کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے اعلانات سیاسی کارکنوں کو امید اور سمت فراہم کرتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب زمینی سطح پر واضح پیش رفت نظر نہ آ رہی ہو۔
تاہم آئینی ماہرین کے بقول سہیل آفریدی کی جانب سے فورس کے قیام کا اعلان کوئی معنی نہیں رکھتا، اصل معاملہ فورس کے اختیارات اور قانونی حیثیت کا ہے۔ اگر یہ فورس محض ایک سیاسی یا تنظیمی ڈھانچہ ہے تو اس پر اعتراض کی نوعیت مختلف ہوگی، لیکن اگر اسے مستقبل میں انتظامی یا نیم سرکاری اختیارات دئیے جاتے ہیں تو پھر یہ اقدام آئینی سوالات کو جنم دے سکتا ہے کیونکہ آئین میں صوبائی حکومت کا دائرہ کار واضح ہے، اور حکومت کے کسی بھی اقدام کا اسی آئینی فریم ورک کے اندر رہنا ناگزیر ہوتا ہے، ناقدین کے مطابق ملک پہلے ہی سیاسی کشیدگی اور ادارہ جاتی تناؤ کا شکار ہے۔ ایسے میں عمران خان کی رہائی کیلئے نئی فورس کی تشکیل کے علامتی اقدام سے سیاسی تقسیم مزید گہری ہو سکتی ہے۔ اگر اس فورس کے خدوخال، اہداف اور طریقہ کار شفاف انداز میں سامنے نہ لائے گئے تو یہ فیصلہ سیاسی استحکام کی بجائے مزید محاذ آرائی کو جنم دے سکتا ہے۔
کیا علیمہ خان کپتان سے پارٹی چھیننے کی سازش کر رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت آنے والے ہفتوں میں خیبرپختونخوا اور وفاق کے تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اگر فورس کا کردار قانونی معاونت، عوامی مہم اور سیاسی تنظیم تک محدود رہا تو اسے ایک سیاسی حکمتِ عملی سمجھا جائے گا، لیکن اگر اس کے اقدامات ریاستی اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کی صورت اختیار کرتے ہیں تو اس کے دور رس نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
