سہیل آفریدی کا گارڈمحکمہ تعلیم کاانچارج کیسے بن گیا؟

تبدیلی کی دعویدار خیبر پختونخوا سرکار میں الٹی ہی گنگا بہنے لگی، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے پرسنل سیکیورٹی گارڈ نے محکمہ تعلیم کے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لئے، سگے بھائی کو کلرک کی نوکری دینے سے انکار پر ایک کالج کے پرنسپل کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا، پہلے عہدے سے ہٹوایا گیا اور پھر سزا کے طور پر دور افتادہ علاقے میں تبادلہ کر دیا گیا۔ ناقدین کے مطابق ایک سیکیورٹی گارڈ کی خواہش پر کالج پرنسپل کا تبادلہ ہو جانا خیبر پختونخوا حکومت کی بدترین نااہلی، سفارش کلچر اور نظام کی مکمل تباہی کو بے نقاب کردیا ہے۔ اس واقعہ سے واضح ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں اقربا پروری اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی وجہ سے میرٹ کا جنازہ نکل چکا ہے،

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلٰی سہیل آفریدی کے ذاتی سکیورٹی گارڈ عارف خٹک پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ نہ صرف سرکاری معاملات پر اثرانداز ہو رہے ہیں بلکہ انہوں نے اپنے بھائی کو گورنمنٹ ڈگری کالج تخت نصرتی کرک میں کلاس فور میں بھرتی کروانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ عارف خٹک کے مسلسل دباؤ ڈالنے پر کالج  کے پرنسپل پروفیسر امداد اللہ نے نہ صرف کلاس فور کی بھرتی روک دی بلکہ وزیراعلٰی کے گارڈ کی بات ماننے سے بھی انکار کر دیا، جس پر عارف خٹک غصے سے پاگل ہو گیا اور اس نے اپنا اثر و  رسوخ استعمال کرتے ہوئے پرنسپل کا دور دراز علاقے میں تبادلہ کروادیا۔

اس حوالے سے پروفیسر امداد اللہ نے بتایا کہ ’کالج میں کلاس فور کی بھرتیاں ہو رہی تھیں جس کے لیے محکمہ تعلیم سے کال آئی اور انھیں خلاف میرٹ عارف خٹک کے بھائی کو نوکری دینے کی سفارش کی گئی تاہم انھوں نے بات ماننے سے انکار کر دیا۔ تاہم بعدازاں سہیل آفریدی کے سکیورٹی گارڈ نے وزیراعلٰی ہاؤس سے کال بھی کروائی لیکن وہ اپنے مؤقف پر قائم رہے،پروفیسر امداد اللہ نے الزام عائد کیا کہ ’ان کے بار بار انکار کرنے کے باوجود عارف خٹک نے بھائی کی سفارش کے لیے کال کی اور ان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے خلاف میرٹ نوکری دینے سے صاف انکار کر دیا۔ پروفیسر امداد اللہ کے مطابق ’سفارش نہ ماننے پر وزیراعلٰی کے گارڈ سخت برہم ہوئے اور انھوں نے میرا بنوں تبادلہ کروا دیا۔

اساتذہ تنظیموں نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے تعلیمی اداروں میں مداخلت قرار دیا ہے۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ ’صوبائی حکومت اس معاملے کی انکوائری کروائے تاکہ حقیقت سامنے آئے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’سکیورٹی گارڈ اگر گریڈ 20 کے پرنسپل کا تبادلہ کروا سکتا ہے تو پھر تعلیمی نظام کو تباہی سے کوئی نہیں روک سکتا۔‘دوسری جانب تخت نصرتی کالج کے طلبہ نے پرنسپل کے تبادلے کے خلاف کرک روڈ کو بند کر کے احتجاج کیا اور پروفیسر امداد کو عہدے پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔

PTI کے کوٹ لکھپت گروپ کی اڈیالہ گروپ کی پالیسیوں کیخلاف بغاوت

تاہم دوسری جانب محکمہ تعلیم نے کالج پرنسپل کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ ڈائریکٹر کالجز خیبرپختونخوا فرید اللہ کا کہنا ہے کہ سکولوں اور کالجز میں تقرر اور تبادلے معمول کی بات ہے اور یہ کوئی غیر معمولی اقدام نہیں جبکہ اس میں کسی قسم کا سیاسی اثرورسوخ قبول کرنے کے دعوے بے بنیاد ہیں۔‘فرید اللہ کے مطابق ’کالج فنڈز سے عارضی بنیادوں پر ہر دو سال بعد کلاس فور میں بھرتی ہوتی ہے۔ تاہم پروفیسر امداد اللہ معاملے کو سیاسی رنگ دے رہے ہیں جس کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔‘

دوسری جانب وزیراعلٰی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ذاتی باڈی گارڈ عارف کے قریبی ساتھیوں نے بھی الزامات کی تردید کی اور کہا کہ ’عارف خٹک عمران خان کے نظریاتی کارکن ہیں جس کے باعث اس پورے معاملے کو سیاسی رنگ دے کر متنازع بنایا جا رہا ہے۔‘

Back to top button