اسپیکر اسد قیصر قومی اسمبلی کے لیے کلنک کا ٹیکہ کیسے بنے؟

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اپنی غیر جانبداری کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کسی وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کی کوششوں میں سپیکر قومی اسمبلی بھی کھل کر اپنا حصہ ڈال رہے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے ماتھے ہر کلنک کا ٹیکا بن چکے ہیں۔
سپیکراسد قیصر نہ صرف وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کو لٹکاتے چلے جارہے ہیں بلکہ اس حکومتی وفد کا بھی حصہ ہیں جو عمران خان کی ناراض اتحادی جماعتوں اور ان کی پارٹی کے باغی اراکین کو منانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے آٹھ مارچ کو دائر کردہ تحریک عدم اعتماد پر آئین کے مطابق 14 دن کے اندر ووٹنگ کروانا لازمی تھا لیکن وزیراعظم کو زیادہ سے زیادہ وقت دلوانے کے لیے اسد قیصر نے آئینی پابندی کا بھی پاس نہیں کیا۔
پاکستانی پارلیمانی تاریخ کے جانب دار ترین سپیکر قرار دیے جانے والے اسد قیصر نے 25 مارچ کو تین ہفتوں کی تاخیر کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس بلا ہی لیا تو اسے پانچ منٹ کے بعد ہی 28 مارچ تک ملتوی کر دیا۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپنی تمام کوششوں کے باوجود اسد قیصر اپنے باس عمران خان کی وزارت عظمی بچانے میں ناکام ہوں گے اور جس روز عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ ہو جائے گی، وزیر اعظم اسی روز فارغ ہو جائیں گے۔
اسپیکر قومی اسمبلی کی کھلی جانبداری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسد قیصر نہ صرف بنی گالا میں ہونے والے پی ٹی آئی اجلاسوں میں باقاعدہ شرکت کر رہے ہیں بلکہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے کی منصوبہ بندی کا بھی حصہ ہیں جو کہ سپیکر کے کردار کے منافی ہے۔ اسد قیصر حکومت بچانے کی خاطر متحدہ قومی موومنٹ، قاف لیگ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے لوگوں سے بھی ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
اس دوران ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے اپنے خلاف دائر کردہ تحریک عدم اعتماد کا پارلیمنٹ کے اندر سامنا کرنے کی بجائے وزیر اعظم نے سڑکوں پر اپوزیشن کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عمران 27 مارچ کو اسلام آباد کے جلسے میں اپنا خفیہ ٹرمپ کارڈ دکھانے جارہے ہیں۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں کہ آج تک کسی کو اس ’’پراسرار کارڈ‘‘ کے بارے میں کچھ معلوم نہیں، وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا عمران کے اس ٹرمپ کارڈ کا تعلق ایک بڑی تقرری کے متعلق ہے۔
وزیراعظم کا سسپنس برقرار رکھتے ہوئے دوٹوک موقف ہے کہ انکے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوگی اور اگر ان کی حکومت ختم بھی کردی گئی تو وہ استعفیٰ نہیں دیں گے۔ لیکن وزیراعظم کا سب سے حیران کن فقرہ یہ تھا: دیکھتے ہیں استعفی میں دیتا ہوں یا کوئی اور؟
علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر کیلئے درخواست
یاد رہے کہ وزیراعظم اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر ہونے سے پہلے تک باقاعدگی سے کابینہ اجلاس کی صدارت کرتے رہے ہیں، تاہم اب ایک ماہ سے وہ۔کسی اجلاس کی صدارت نہیں کر سکے۔ عمران خان نے خبردار کیا ہے کہ انہوں نے اپنا ٹرمپ کارڈ ابھی تک سنبھال رکھا ہے جبکہ اپوزیشن نے جلدبازی میں تمام پتے شوکر دیئے ہیں۔
مظہر عباس سوال کرتے ہیں کہ کیا واقعی عمران کی جیب میں کچھ موجود ہے یا صرف نفسیاتی چالوں کے ذریعے مخالفین کا مقابلہ کر رہے ہیں؟ وزیراعظم اپنی قانونی ٹیم کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہیں، تاکہ تحریک عدم اعتماد سے پہلے اور بعد کی حکمت عملی تیار کی جاسکے۔ بظاہر انکے آر یا پار کی صورتحال ان کے تین حکومتی اتحادیوں مسلم لیگ (ق)، ایم کیوایم پاکستان اور بی اے پی کے فیصلے پر منحصر ہے،
دوسرا وزیراعظم نئے وزیراعلیٰ پنجاب کا اعلان کرسکتے ہیں اور فائدہ جہانگیر ترین یا علیم خان کو جاسکتاہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے وہ پرویزالہٰی کو وزیراعلیٰ بنانے پر رضامند ہوجائیں یا پہلے ہی ہوچکے ہوں بشرطیہ کہ وہ بی اے پی اور ایم کیو ایم کے ساتھ حکومتی اتحادی کی حیثیت سے پوزیشن برقرار رکھیں، لیکن بہت کم امکان ہے کہ وزیراعظم اہم عسکری تقرری کے سلسلے میں تمام فیصلے کرلیں جبکہ خود پی ٹی آئی میں بہت سے لوگ اسے خود پر ایک خودکش حملہ سمجھتے ہیں۔
