ریاستی پالیسیوں نے KPK اور بلوچستان میں آگ کیسے لگائی؟

 

 

 

سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ ’قومی مفاد‘ کے نام پر بننے والی ریاستی پالیسیوں کے نتیجے میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں جبکہ آج ہم دہشت گردی کے مسئلے کو افغان طالبان کے خلاف جنگ اور بلوچستان کے ایشو کو شفیق مینگل اور فارم 47 کی حکومت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مظہر عباس کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگر آج بھی ہم جذباتیت کے بجائے دانشمندی اور تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اتفاقِ رائے سے ایک جامع قومی پالیسی تشکیل نہ دے سکے تو آنے والے وقت میں پاکستان کو مزید سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

روزنامہ جنگ کیلئے اپنے تازہ سیاسی تجزیہ میں مظہر عباس کا کہنا ہے کہ جنگوں اور ریاستی پالیسیوں کے نتائج کس قدر تباہ کن ہو سکتے ہیں، اس کا اندازہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی سے لگایا جا سکتا ہے جب دونوں ممالک میں ایٹمی جنگ کے خدشات پیدا ہوگئے تھے۔ جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ سامنے آیا تھا کہ انہوں نے اس ممکنہ جنگ کو رکوا کر لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بچائیں۔ تاہم عالمی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ اسی امریکہ نے اب ایران پر حملہ کر کے پورے مشرق وسطیٰ کو ایسی تباہ کن جنگ میں دھکیل دیا ہے جس کے اثرات اب پوری دنیا بھگت رہی ہے۔ مظہر عباس کے بقول جنگ کی آگ اگرچہ کسی ایک خطے میں بھڑکتی ہے مگر اس کی تپش دور دور تک محسوس کی جاتی ہے۔ اگرچہ پاکستان براہِ راست امریکہ کی شروع کردہ کسی نئی جنگ کا فریق نہیں، مگر خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات سے مکمل طور پر محفوظ بھی نہیں رہ سکتا۔ مظہر عباس کے بقول جنگی حالات کا سب سے بڑا بوجھ عموماً عام لوگوں کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ معاشی مشکلات بڑھتی ہیں اور حکومتیں اس کا خراج عوام سے وصول کرتی ہیں۔ مظہر عباس کا مزید کہنا ہے کہ جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی بلکہ اس کے اثرات نسلوں تک پھیل جاتے ہیں۔ پاکستان نے اس حقیقت کو دو افغان جنگوں کے دوران بخوبی محسوس کیا۔ پہلی افغان جنگ کے نتیجے میں پورا معاشرہ منشیات، اسلحہ اور مذہبی انتہا پسندی کی لپیٹ میں آ گیا۔ دوسری افغان جنگ کے بعد فرقہ وارانہ اور دہشت گرد تنظیمیں ابھریں اور ملک خودکش حملوں اور ٹارگٹ کلنگ جیسے واقعات کا شکار ہوا۔ ان پالیسیوں کے اثرات کا سب سے زیادہ بوجھ خیبرپختونخوا اور بلوچستان نے اٹھایا، جبکہ کراچی جیسا بڑا شہر بھی تشدد اور بدامنی کی لپیٹ میں آ گیا۔ ایک وقت تھا جب یہ خطے نسبتاً پرامن تھے اور کراچی کو روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا، مگر بعد ازاں مختلف پراکسی جنگوں اور ریاستی پالیسیوں کے نتیجے میں یہاں عدم استحکام پھیلتا چلا گیا۔

ایرانی مزاحمت نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کو ذہنی مریض بنا دیا؟

مظہر عباس کے مطابق مسئلے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں قومی سلامتی کی پالیسی اکثر قومی اتفاقِ رائے کے بغیر بنائی جاتی رہی ہے۔ کبھی افغان جہاد، کبھی دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ، کبھی پاک بھارت تنازع اور کبھی خطے میں ہونے والی دیگر تبدیلیاں ہمیں مسلسل نئے مخمصوں میں مبتلا کرتی رہی ہیں۔ اکثر ان فیصلوں پر جاری بحث مباحثوں کو صرف “قومی مفاد” کہہ کر ختم کر دیا جاتا ہے۔ مظہر عباس کے بقول تاریخ گواہ ہے کہ کئی ایسے سیاسی رہنما اور جماعتیں جنہیں ایک وقت میں ریاست کی جانب سے غدار یا غیر محب وطن قرار دیا گیا، وہی دراصل جنگوں اور پراکسی پالیسیوں سے دور رہنے کا مشورہ دیتے رہے۔ خان عبدالغفار خان اور خان عبدالولی خان جیسے رہنماؤں نے بھی ایسے ہی خدشات کا اظہار کیا تھا تاہم انھیں نظر انداز کیا گیا لیکن وہ وقت کے ساتھ درست ثابت ہوئے۔

مظہر عباس کے مطابق ماضی میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں تعلیم اور ترقی کے لیے بھی سنجیدہ کوششیں کی گئیں۔تاہم بعد کی ریاستی پالیسیوں نے ان خطوں کو افغان جہاد اور علاقائی تنازعات کی بھینٹ چڑھا دیا۔ آج بھی اگر بلوچستان جیسے پیچیدہ مسئلے کو صرف وقتی سیاسی بندوبست یا طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی تو یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ مظہر عباس کے مطابق افغانستان بارے ریاستی پالیسیوں دونوں ممالک کے عوام کو شدید متاثر کیا ہے۔ ہم نے روس کے خلاف لاکھوں جہادی تو پیدا کیےان کے جانے کے بعد نہ تو ہم’سول وار‘ نہ روک سکے اور نہ ہی اب تک ہم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کو قابو کرنے میں کامیاب ہو پائے ہیں۔ مظہر عباس کے مطابق پاکستان کو ایران امریکی جنگ کی تپش بھی محسوس کرنی چاہیے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں شدت کا خمیازہ پاکستان کو بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ مظہر عباس کے بقول  وقت آ گیا ہے کہ پاکستان جذباتی فیصلوں کے بجائے دانشمندانہ حکمت عملی اختیار کر کے قومی سلامتی کے سوال پر سنجیدگی سے غور کرے اور ایک وسیع تر قومی اتفاقِ رائے پیدا کرے تاکہ مستقبل میں ملک کو مزید بحرانوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ تا اگر پاکستان نے تاریخ سے سبق نہ سیکھا اور ماضی کی غلطیاں دہرائیں تو اس حماقت کی قیمت پوری قوم کو خانہ جنگی کی صورت میں ادا کرنا پڑسکتی ہے۔

 

Back to top button