8ججز نے کپتان کے مامے بن کر آئین دوبارہ کیسے تحریر کردیا؟

8ججز نے کپتان کے مامے بن کر آئین دوبارہ کیسے تحریر کردیا؟سپریم کورٹ کےسنی اتحاد کونسل کی درخواست پر تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے کے فیصلے نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق آرٹیکل 51 کی شق ڈی کے مطابق خواتین اور اقلیتی نشستیں صرف ان جماعتوں کو دی جاسکتی ہیں جوالیکشن کمیشن کو دی جانیوالی فہرست میں شامل ہوں
واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے نہ تو مخصوص نشستوں کے لیے درخواست دی تھی اور نہ ہی پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں مخصوص نشستوں کو چیلنج کیا تھا، پی ٹی آئی کا بنیادی معاملہ یہ تھا کہ پی ٹی آئی کے امیدوار سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو چکے ہیں اور اب مخصوص نشستوں کی حقدار سنی اتحاد کونسل ہے۔
کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ ایسا لگتا ہے سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکلزکی تشریح کرنے کے بجائے انہیں دوبارہ لکھا، اگر سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے والے پی ٹی آئی امیدوار مستقبل میں دوبارہ پی ٹی آئی میں شامل ہوتے ہیں تو مزید قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی کو وہ ریلیف دیا گیا جس کا اس نے دعویٰ بھی نہیں کیا اور سپریم کورٹ جب 185 کے تحت کسی بھی چیز کا جائزہ لیتی ہے تو یہ عام طور پر ان درخواستوں تک محدود ہوتا ہے جو نچلی عدالت سے سپریم کورٹ تک پہنچتی ہیں۔
ناقدین کے مطابق سپریم کورٹ نے دیگر جماعتوں کو دی گئی مخصوص نشستوں کے اراکین کو سنے بغیر پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو ایک طرف رکھ دیا اور عدالت میں جن 80 ارکان کا ذکر کیا گیا وہ نہ تو عدالت میں پیش ہوئے اور نہ ہی دعویٰ کیا کہ ان کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے۔مبصرین کا ماننا ہے کہ فیصلہ آئین کے مطابق نہیں ہے، یہ پارلیمنٹ کا استحقاق ہے، اسے پارلیمنٹ سے رجوع کرنا چاہیے تھا، یہ ایک منفرد فیصلہ ہے جو آئین سے بالاتر ہے، عدالت نے پی ٹی آئی کو ایک سیاسی جماعت کے طور پر قبول کر لیا ہے جبکہ اس کے اراکین نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا تھا۔ان کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اپنے نشان پر الیکشن لڑنے والی سیاسی جماعتوں کی قدر ختم ہو جائے گی، آزاد امیدوار اس فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے پارٹیاں تبدیل کر سکیں گے جبکہ اس قسم کے فیصلے کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔
ناقدین کے مطابق سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے ایک ایسا نیا سسٹم سامنے آئے گا جس کی قانون اور آئین میں کوئی جگہ نہیں ، بدقسمتی سے فیصلے آئین و قانون کے مطابق دینے کی بجائے سیاسی جماعتوں اور انکی سوشل میڈیا ٹیموں کو دیکھ کر دیئے جا رہے ہیں۔
مبصرین کے مطابق آج کل ہماری عدلیہ کے فیصلے کچھ اسی طرح کے ہیں، کبھی ایک کام کو غلط قرار دیتے ہیں تو پھر کچھ عرصے بعد اسی کو جائز کہہ دیتے ہیں۔ مخصوص نشستوں کے فیصلے میں بھی کچھ ایسے ہی سوالات جنم لیتے ہیں جس سے ’مامے دے قانون‘ کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ کہ پاکستان میں ’مامے دے قانون‘والا فارمولا رائج ہے
پہلا نکتہ جو کہ وضاحت طلب ہے وہ یہ ہے کہ فل کورٹ کے اس فیصلے میں 8 ججز نے جو اکثریتی فیصلہ دیا ہے اس میں عدالت نے قرار دیا کہ اس فیصلے کا اطلاق مئی سے آگے ہوگا۔ یعنی پی ٹی آئی کے حصے کی جو مخصوص نشستیں پہلے دوسری جماعتوں کو دی گئی تھیں وہ 13 مئی سے غیر آئینی تصور کی جائیں گی۔ الیکشن کمیشن نے یہ مخصوص نشستیں فروری اور مارچ میں دوسری جماعتوں میں بانٹی تھیں۔ ان نشستوں کو دوسری جماعتوں میں بانٹنے کے بعد سینیٹ کے انتخابات بھی ہوئے اور سب سے اہم صدارتی انتخاب بھی ہوا جس میں ان نشستوں والے اراکین نے بھی ووٹ ڈالا جو اب پی ٹی آئی کو دی جائیں گی۔ سوال یہ ہے کہ اگر الیکشن کمیشن نے وہ سیٹیں غیر آئینی طور پر دی تھیں تو یہ کام پہلے دن سے ہی غیر آئینی ڈیکلئیر ہونا چاہیے نا کہ 13 مئی سے۔ کیا عدلیہ نے ایسا صرف صدارتی انتخابات اور سینیٹ الیکشن کو ’پروٹیکٹ‘ کرنے کے لیے کیا؟ اگر کوئی کام غیر آئینی ہے تو وہ پہلے دن سے ہی غیر آئینی ہونا چاہیے۔
مخصوص نشستوں کے فیصلے میں پی ٹی آئی کے وہ اراکین جو آزاد حیثیت میں منتخب ہوئے تھے ان کو کہا گیا ہے کہ عوام نے آپ کو پی ٹی آئی کے مینڈیٹ پر ووٹ دیا ہے۔ اس لیے 15 دنوں میں پارٹی سرٹیفیکیٹ جمع کروا کر پی ٹی آئی اراکین پارلیمنٹ بن جائیں۔ حالانکہ آئین کے تحت آزاد اراکین کو کسی بھی پارٹی میں شمولیت کے لیے 3 دن دیے جاتے ہیں۔
اسی طرح 6 سال پہلے سپریم کورٹ نے نون لیگ کے نامزد کردہ منتخب اراکین کو فیصلہ دے کر آزاد ڈیکلئیر کردیا اور اب اسی سپریم کورٹ نے آزاد منتخب ہونے والوں کو پارٹی اراکین قرار دینے کی ہدایات جاری کردی۔ مطلب ماما جی کے قانون کی طرح کبھی کسی پارٹی کے نامزد کردہ رکن کو آزاد اور کبھی کسی آزاد رکن کو پارٹی کا نامزد کردہ منتخب نمائندہ قرار دیتے رہیں۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ اگر ہم نے ترقی یافتہ قوموں کی دوڑ میں شامل ہونا ہے تو پھر مملکت خداد داد میں آئین پاکستان کے ہوتے ہوئے ماما جی کے قانون کی کوئی گنجائش نہیں۔
اسی فیصلے پر حکومتی اتحاد اور بعض آئینی و قانونی ماہرین نے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کردی ہے۔ گوکہ فیصلے میں تبدیلی کے امکانات کم ہی لگتے ہیں لیکن ایک قانونی ضرورت بہرحال پوری کی جارہی ہے تاکہ عدلیہ کو یہ پیغام چلا جائے کہ اس فیصلے سے حکومت بالکل اتفاق نہیں کرتی۔
