آفریدی حکومت نے PTI میں بڑی بغاوت کی بنیاد کیسے رکھی؟

 

 

 

وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی تعریف اور پارٹی قیادت پر تنقید کرنے کے جرم میں تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا حکومت نے علی امین گنڈاپور کے خلاف انضباطی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے اُن کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے۔گنڈاپور کے خلاف مبینہ انضباطی کارروائی اور سیکیورٹی کی واپسی کے معاملے نے پی ٹی آئی کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف پارٹی کے اندرونی اختلافات کو نمایاں کیا ہے بلکہ اس سے حکومتی مؤقف اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کے بیانات میں واضح تضاد بھی سامنے آگیا ہے۔

 

پارٹی کے اندرونی معاملات پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق آفریدی حکومت کا یہ اقدام وقتی نظم و ضبط قائم کرنے کی کوشش تو ہو سکتا ہے، تاہم اس سے جماعت کے اندر موجود اختلافات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس جارحانہ فیصلے کے بعد آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کے اندر بغاوت کا ایسا طوفان برپا ہو گا جسے سنبھالنا پارٹی قیادت کیلئے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور سے سیکیورٹی واپس لینے کا فیصلہ داخلی تقسیم کو مزید نمایاں کر سکتا ہے، اور اگر معاملات کو مفاہمت اور مشاورت سے حل نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں خان کی جماعت مزید کمزور ہو سکتی ہے۔

 

علی امین گنڈاپور کے ترجمان فراز مغل کے مطابق شدید تھریٹ کے باوجود سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور سے گزشتہ رات اچانک سرکاری سیکیورٹی واپس لے لی گئی۔ رات 11 بجے وزیراعلیٰ ہاؤس سے سیکیورٹی اسکواڈ کو واپس بلانے کی ہدایت دی گئی۔ ترجمان کے مطابق علی امین گنڈاپور کی سیکیورٹی پر 16 اہلکار، گاڑیاں اور ایک جیمر تعینات تھا، جو اب واپس لے لیا گیا ہے۔ اس وقت ان کے ساتھ صرف ذاتی سیکیورٹی اور ڈی آئی خان پولیس کے مقامی اہلکار موجود ہیں، تاہم ان کے پاس جدید اسلحہ نہیں ہے۔ فراز مغل نے بتایا کہ علی امین گنڈاپور نے سیکیورٹی واپس لینے پر کسی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا بلکہ اہلکاروں کو خوشی سے واپس جانے کی اجازت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ نے کبھی سرکاری سیکیورٹی کا مطالبہ نہیں کیا، تاہم تھریٹ الرٹس کے باعث انہیں یہ سہولت فراہم کی گئی تھی۔ فراز مغل نے مزید کہا کہ اگر سہیل آفریدی کو بلٹ پروف اور بم پروف گاڑیاں چاہییں تو علی امین ذاتی جیب سے انھیں یہ گاڑیاں فراہم کر سکتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس وسائل موجود ہیں۔ ’علی امین کے آباؤ اجداد کی ہزاروں کنال زمین ہے، چند کنال بیچ کر گاڑیاں فراہم کی جاسکتی ہیں۔‘

 

دوسری جانب سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بھی صوبائی حکومت کی جانب سے سیکیورٹی واپس لینے پر اپنی پارٹی کی حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس ایک جیمر، دو ڈبل کیبن گاڑیاں، ڈرائیور سمیت 14 افراد پر مشتمل عملہ تعینات تھاتاہم گزشتہ رات ان سے سیکیورٹی وزیر اعلیٰ کے چیف سیکیورٹی آفیسر کے حکم پر واپس لے لی گئی ہے۔ ان کے مطابق جب چیف سیکیورٹی آفیسر سے اپنی سیکیورٹی واپس لئے جانے بارے وجوہات معلوم کیں تو بتایا گیا کہ احکامات “اوپر سے” آئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈی ائی خان خیبرپختونخوا کا دہشت گردی سے متاثرہ علاقہ ہے پھر بھی میری سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے، گنڈاپور کا حکومتی فیصلے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اگر وزیراعلیٰ ہاؤس میں گاڑیوں کی کمی ہے تو وہ اپنی گاڑیاں بھجوا سکتے ہیں، اور اگر انہیں دوبارہ سیکیورٹی یا گاڑیاں دی گئیں تو وہ قبول نہیں کریں گے۔ ان کے بقول صوبے میں ان کی اپنی جماعت کی حکومت ہونے کے باوجود ان سے سیکیورٹی واپس لینے کا اقدام بلاجواز ہے۔تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے دفتر نے گنڈاپور کے دعوؤں کی تردید کر دی ہے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ کی سیکیورٹی واپس لینے سے متعلق زیرِ گردش خبروں میں کوئی صداقت نہیں، نہ اس حوالے سے کوئی فیصلہ کیا گیا اور نہ ہی متعلقہ حکام کو کوئی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ کی سیکیورٹی پر تعینات عملہ تاحال وہاں موجود ہے،

 

مبصرین کے مطابق اس متضاد صورتحال نے پارٹی کے اندرونی ماحول پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک طرف سابق وزیراعلیٰ اور ان کے ترجمان سیکیورٹی کی واپسی کی تصدیق کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب وزیراعلیٰ ہاؤس اس کی تردید کر رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ محض سیکیورٹی کا نہیں بلکہ جماعت کے اندر پائے جانے والے اختلافات کی علامت بن چکا ہے۔ اگر قیادت نے بروقت مفاہمت اور مشاورت کا راستہ اختیار نہ کیا تو یہ تنازع پارٹی کے اندر مزید دراڑیں ڈال سکتا ہے۔ ایسے میں نہ صرف صوبائی حکومت کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے بلکہ جماعت کی مجموعی سیاسی پوزیشن بھی کمزور پڑنے کا خدشہ ہے۔

پی ٹی آئی کےلیے کوئی ڈیل یا ڈھیل دستیاب نہیں: رانا ثنا اللہ

تاہم پی ٹی آئی ذرائع علی امین گنڈاپور کے زیرعتاب آنے کی تصدیق کرتے دکھائی دیتے ہیں پارٹی ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور کی جانب سے وزیر داخلہ محسن نقوی کو سراہنا اور پی ٹی آئی قیادت کی حکمت عملی پر سوالات اٹھانا ناقابل معافی جرم ہے۔ انکے مطابق گنڈاپور نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور ہمشیرہ علیمہ خان سے متعلق بھی ایسے بیانات دیے جو کہ غیر مناسب تھے اور پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کی مرکزی قیادت نے گنڈاپور کے انٹرویوز اور تقاریر کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گنڈاپور کے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو اور دیگر بیانات کی چھان بین کے بعد ان کے خلاف انضباطی کارروائی کا اصولی فیصلہ کیا گیا تھا۔ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے واضح کیا تھا کہ بانی چیئرمین کے اہل خانہ سے متعلق کسی بھی قسم کا بیان برداشت نہیں کیا جائے گا، جبکہ سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے عندیہ دیا تھا کہ گنڈاپور کے خلاف پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر جلد ایکشن لیا جائے گا۔ پی ٹی آئی ذرائع کے بقول علی امین گنڈاپور سے سیکیورٹی واپس لے کر ان کے خلاف تادیبی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور آنے والے دنوں میں انھیں پارٹی کی فیصلہ سازی سے مکمل آؤٹ کرتے ہوئے کھڈے لائن لگایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب مبصرین کے مطابق گنڈاپور کے خلاف کارروائی سے پارٹی کے اندر ایک اور گروپ بندی جنم لے سکتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں گنڈاپور کے حامی ارکانِ اسمبلی اور کارکن اس فیصلے کو سیاسی انتقام یا اندرونی طاقت کی کشمکش کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ اگر یہ اختلافات کھل کر سامنے آتے ہیں تو پارٹی کی پارلیمانی اور تنظیمی یکجہتی متاثر ہو سکتی ہے۔

 

Back to top button