جنگلوں کے خونخوار شیر لاہور کی سڑکوں پر کیوں پھرنے لگے؟

 

 

 

لاہور کی گلیوں میں گھومتے پالتو خونخوار شیر، معصوم بچوں پر حملے اور خوف کی فضا، یہ کوئی فلمی منظر نہیں بلکہ پنجاب کی روزمرہ کی تلخ حقیقت بنتی جا رہی ہے۔ پنجاب میں حالیہ دنوں پالتو شیروں کے معصوم بچوں پر حملوں نے برسوں تک طاقت، حیثیت اور نمائش کی علامت قرار پانے والے اس خطرناک شوق پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ دو معصوم بچوں کے زندگی بھر کے معذور ہونے کے بعد حکومت نےخطرناک جنگلی جانوروں کے اجازت نامے منسوخ کرتے ہوئے کریک ڈاؤن کا اعلان تو کر دیا ہے  تاہم حکومتی اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر یہ بحث شدت اختیار کرگئی ہے کہ کیا حکومتی اقدامات محض عارضی پکڑ دھکڑ تک محدود رہیں گے یا واقعی پنجاب میں پالتو شیروں کے کلچر کا خاتمہ ممکن ہو پائے گا؟ عام گھروں، چھتوں اور نجی فارمز تک پہنچنے والے سینکڑوں شیروں کا اب انجام کیا ہو گا؟

خیال رہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران لاہور کے علاقوں نواں کوٹ اور سبزہ زار میں پیش آنے والے دو مختلف واقعات میں پالتو شیروں نے بچوں پر حملہ کیا۔ ایک واقعے میں کمسن بچے کا بازو بری طرح زخمی ہوا جسے بچانے کے لیے کاٹنا پڑا، جبکہ دوسرے واقعے میں ایک بچی اس وقت شیر کے حملے کا نشانہ بنی جب شیر کو رکشے کے ذریعے ایک سے دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے شیروں اور دیگر بڑے درندوں کو نجی طور پر رکھنے کے تمام اجازت نامے منسوخ کرنے اور قانون میں ترمیم کی ہدایت دی ہے۔ مسلسل دو واقعات سامنے آنے کے بعد نہ صرف حکومت نے گھروں اور نجی چڑیا گھروں میں شیر سمیت دیگر خطرناک جانور رکھنے پر مکمل پابندی عائد کر دی بلکہ غیر قانونی طور پر گھروں میں رکھے جانور بھی ضبط کرنا شروع کر دئیے۔ تاہم ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب میں اس وقت کتنے پالتو شیر موجود ہیں اور یہ عام لوگوں کی دسترس میں کیسے آئے؟

 

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق پنجاب میں اس وقت 584 خونخوار جانور موجود ہیں، جن میں 358 شیر، 194 چیتے اور دیگر نایاب انواع شامل ہیں۔ یہ جانور صوبے کے 18 اضلاع میں قائم لگ بھگ 179 نجی بریڈنگ فارمز اور گھروں میں رکھے گئے ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ جانور پاکستان کی مقامی جنگلی حیات کا حصہ نہیں بلکہ بیرونِ ملک سے درآمد کیے گئے یا مقامی سطح پر افزائش نسل کے ذریعے پھیلائے گئے ہیں۔ نجی رہائش گاہوں تک خطرناک جانوروں کی ترسیل کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں نجی وائلڈ لائف فارم کے مالک میاں ضیا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کئی دہائیاں قبل چند افراد نے بیرون ملک سے شیر درآمد کیے، جن کی بعد میں مقامی سطح پر افزائش نسل شروع ہوئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان میں سے کچھ فارمز نے شیروں کے بچے فروخت کیے جو غیر قانونی طریقوں سے عام لوگوں تک پہنچ گئے۔ان کا کہنا ہے کہ ’’یہ شیر کتے یا بلی نہیں کہ گھروں میں رکھے جا سکیں۔ کچھ لوگ صرف سوشل میڈیا پر نمائش یا طاقت کا اظہار کرنے کے لیے ان جانوروں کو گھروں کی چھتوں یا ڈرائنگ رومز میں زنجیروں سے باندھ کر رکھتے ہیں، جو نہ صرف غیر قانونی بلکہ انتہائی خطرناک بھی ہے۔‘‘

 

ماہرین کے مطابق پنجاب میں جنگلی حیات کے قوانین میں کئی برس تک غیر مقامی انواع کے لیے واضح ضوابط موجود نہیں تھے۔ اس خلا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نجی افراد نے بڑے پیمانے پر شیروں اور دیگر درندوں کی افزائش نسل شروع کی۔ ماہرین کے بقول’’شیر بنیادی طور پر جنگلی جانور ہے، چاہے وہ قید میں ہی کیوں نہ پیدا ہوئے ہوں۔ انہیں سدھانا ممکن نہیں، اور انہیں گھروں میں رکھنا انسانوں اور جانوروں دونوں کے لیے خطرے سے خالی نہیں‘‘ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے صرف اجازت نامے منسوخ کرنا کافی نہیں ہو گا۔ جب تک مستقل نگرانی، سخت سزائیں اور مکمل پابندی نہیں لگائی جاتی، یہ مسئلہ دوبارہ سر اٹھاتا رہے گا۔‘‘

عمران خان بالکل تندرست ہیں، معمول کا طبی معائنہ ہوا : عطاء اللہ تارڑ

مبصرین کے مطابق پنجاب میں پالتو شیروں کا مسئلہ محض چند حادثات تک محدود نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے پنپنے والے غیر ذمہ دارانہ رویے اور کمزور عملدرآمد کا نتیجہ ہے۔ اگر حالیہ کریک ڈاؤن عارضی ثابت ہوا تو یہ خونخوار شوق دوبارہ کسی نئی گلی، کسی نئے بچے اور کسی نئی ٹریجڈی کی شکل میں سامنے آ سکتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا حکومت اس بار واقعی انسانی جانوں اور جنگلی حیات دونوں کے تحفظ کو ترجیح دے پاتی ہے یا نہیں۔

Back to top button