ڈکی بھائی سے رشوت سائبر کرائم ایجنسی کے کرپٹ افسران کے گلے کیسے پڑی؟

این سی سی آئی اے یعنی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ڈکی بھائی کرپشن سکینڈل نے ادارے کے اندر برسوں سے جاری بدعنوانی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس حوالے سے جاری تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے کرپٹ اہلکاروں کی جانب سے جرائم کی سہولت کاری سے اب تک اربوں روپے کمائے جاچکے ہیں، تاہم اس مکروہ دھندے کا بھانڈا ان سرکاری کرپٹ افسران اور ان کے با اثر سہولت کاروں کی گروپ بندی، آپسی چپقلش اور اختیارات کی جنگ کی وجہ سے پھوٹا۔ جس کے بعد ایف آئی اے کو اپنی جاگیر سمجھنے والی بڑی مچھلیاں گرفت میں آ گئیں۔
یہی وجہ ہے کہ سابق ڈائریکٹر جنرل وقار الدین کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد کرپٹ افسران کے خلاف مہینوں کی دبی انکوائریاں سامنے آنے لگی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رشوت کی رقم اعلیٰ ترین دفاتر تک اثر دکھا رہی تھی۔ تاہم اب ایف آئی اے میں کرپشن کے خلاف فیصلہ کن کارروائی شروع ہونے کے بعد گرفت میں آنے والے کئی کرپٹ افسران نے رقم واپس کرنے کی بھی پیشکش کر دی ہے تاکہ ان کے خلاف کارروائی روک دی جائے۔ تاہم اعلیٰ حکام نے ملزمان کو اس حوالے سے کسی قسم کی رعایت دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق ایف آئی اے نے اپنے ہی ادارے کے کرپٹ اہلکاروں کے خلاف 2 مقدمات میں مجموعی طور پر 21 افسران کو نامزد کیا ہے۔ جبکہ تحقیقات کا دائرہ کار ملک بھر میں پھیلے ان کے 59 پرائیویٹ فرنٹ مینوں اور مخبروں تک پھیلا دیا گیا ہے۔
این سی سی آئی اے افسران کی جانب سے ڈکی بھائی سے کروڑوں روپے رشوت لینے کے بعد اب راولپنڈی میں کال سینٹرز سے ماہانہ بھتہ وصولی کا نیا سکینڈل بھی سامنے آ گیا ہے۔ جس میں دو ایڈیشنل ڈائریکٹرز، تین ڈپٹی ڈائریکٹرز، پانچ سب انسپکٹرز اور ان کے ایک نجی فرنٹ مین سمیت مجموعی طور پر چودہ افراد پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ وہ غیر قانونی کال سینٹرز سے ماہانہ کروڑوں روپے بھتہ اور رشوت وصول کر کے انہیں قانونی تحفظ فراہم کرتے رہے۔ ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سیل اسلام آباد میں درج ایف آئی آر کے مطابق، ان افسران پر الزام ہے کہ وہ چھاپوں کے بعد مختلف مقامات پر جا کر کال سینٹرز کے مالکان اور غیر ملکی ملازمین کے ساتھ ڈیلز کرتے اور بھاری رقوم وصول کرتے تھے۔ اس سلسلے میں چھاپوں کے دوران گرفتار افراد کی رہائی اور کیسوں کو دبانے کے لیے بھی بھاری مالی لین دین کیا جاتا رہا ہے۔
ایف آئی اے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد کے پوش علاقوں خصوصاً بر بی ٹاؤن اور سیکٹر ایف الیون میں غیر قانونی کال سینٹر طویل عرصے سے سرگرم تھے۔ ان کال سینٹرز کو چینی شہری چلا رہے تھے جو پاکستانی ملازمین کو بھاری تنخواہوں پر رکھ کر مختلف آن لائن فراڈ اور ڈیٹا چوری کی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ ان مراکز کے مالکان این سی سی آئی اے کے کچھ افسران سے ملی بھگت کر کے قانون سے بچ نکلنے میں کامیاب رہتے۔ تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ راولپنڈی میں تقریباً پندرہ غیر قانونی کال سینٹرز کام کر رہے تھے ان سے ہر ماہ اوسطا ڈیڑھ کروڑ روپے بھتہ وصول کیا جاتا تھا، جو افسران کے درمیان با قاعدہ تقسیم کیا جاتا۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر شہزاد حیدر اور عامر نذیر کی سربراہی میں بھتہ وصولی کا ایک منظم نظام قائم تھا۔ رقوم کا بڑا حصہ ایک ہی شخص حسن امیر کے ذریعے اکٹھی کیا جاتا تھا جو بلو باکس نامی سیکیورٹی کمپنی کا مالک ہے اور ان ہی کال سینٹر ز کو سیکورٹی گارڈ فراہم کرتا تھا۔
ایف آئی اے کے پاس ملزمان کے خلاف متعدد ڈیجیٹل شواہد بھی موجود ہیں، جن میں وٹس ایپ چیٹس، ویڈیوز، بینک ٹرانزیکشنز اور گفتگو کی آڈیو ریکارڈنگ شامل ہے۔ ان شواہد میں ملزمان کے درمیان ڈیلز اور رشوت کے تبادلے کی تفصیلات شامل ہیں۔ بعض چیٹس میں ون ٹائم پرمیشن ٹو اوپن“ نامی فیچر استعمال کر کے فائلز بھیجی گئی تھیں۔ ادارے کے مطابق غیر قانونی ذرائع سے حاصل ہونے والی مجموعی رقم پچیس کروڑ روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ ایف آئی آر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کال سینٹرز سے حاصل ہونے والی رقم کی تقسیم با قاعدہ طے شدہ فارمولے کے تحت کی جاتی تھی۔ رقم کا ایک حصہ سینئر افسران کو، دوسرا سب انسپکٹرز اور فرنٹ مین کو دیا جاتا، جبکہ کچھ رقم کوارڈینیشن فیس“ کے نام پر دیگر عملے میں بانٹی جاتی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ رقم کے تبادلے کے لیے بعض اوقات ایک خاتون کو مڈل پر سن کے طور پر استعمال کیا گیا، جو ملزمان اور افسران کے درمیان رابطے کا کام کرتی تھی۔ ایف آئی اے کی مزید تحقیقات میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ مذکورہ افسران غیر قانونی کال سینٹرز کے ساتھ ساتھ شہریوں کے اغوا، بھتہ خوری اور ڈکیتی جیسی سنگین وارداتوں میں بھی ملوث رہے۔ کئی متاثرہ افراد نے بیان دیا کہ انہیں این سی سی آئی اے کے اہلکاروں نے گرفتار کرنے کے بعد پیسے کے عوض چھوڑا۔ جس کے بعد این سی سی آئی اے افسران کے خلاف درج مقدمات میں اغواء برائے تاوان سمیت دیگر سنگین جرائم بارے دفعات بھی شامل کر لی گئی ہیں۔
پاکستان کو فیض احمد فیض کی بجائے فیض حمید جیسے کیوں ملے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی این سی سی آئی اے چند ماہ قبل یوٹیوبر سعد الرحمن عرف ڈ کی بھائی کے خلاف کارروائی کر کے خبروں میں آئی تھی۔ بعد ازاں ڈکی کی اہلیہ عروب جتوئی نے انہی افسران پر کروڑوں روپے رشوت لینے اور غیر قانونی گرفتاریوں کے الزامات عائد کیے تھے۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق مقدمے میں نامزد تمام افسران کو گرفتار کر کے ان کے دفاتر سیل کر دیے گئے ہیں، جب کہ ان کے استعفے وزارت داخلہ کو ارسال کر دیے گئے ہیں جو تا حال منظور نہیں ہوئے۔ ذرائع کے مطابق بعض افسران نے اپنے دفاع میں رقم واپس کرنے کی پیشکش بھی کی ہے لیکن ایف آئی اے کا مؤقف ہے کہ معاملہ قومی نوعیت کا ہے، اس میں کسی نرمی کی گنجائش نہیں۔
