فوج کا سیاسی کردار ختم کرنے والے چارٹر نے کیسے دم توڑا؟

2006 میں فوج کی سیاست میں مداخلت کا راستہ روکنے کے لیے محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے جس میثاق جمہوریت پر دستخط کیے تھے وہ اب بوٹوں تلے دب کر دم توڑ چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ چارٹر آف ڈیموکریسی کی ڈکشنری ہی بدلی جا چکی ہے۔ میثاق جمہوریت کے تحت فوج کا سیاسی کردار محدود کرنا تو دور کی بات، اب جمہوریت کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں۔ آج کی اتحادی حکومت چلانے والی نواز لیگ اور پیپلز پارٹی ہائبرڈ نظام کی پجاری ہیں چنانچہ وزیراعظم شیباز شریف بیک سیٹ ڈرائیونگ کرتے ہیں جبکہ عسکری قیادت ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان ہوتی ہے۔

بی بی سی اردو کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں وسعت اللہ خان کہتے ہیں کسی کو یاد ہے کہ 19 برس پہلے 14 مئی 2006 کو میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے 36 نکاتی چارٹر آف ڈیموکریسی یعنی میثاقِ جمہوریت پر دستخط کیے تھے۔ اس چارٹر میں جنرل پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے سے پہلے والے 1973 کے آئین کی بحالی کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ایک آزاد و خود مختار و غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے قیام کا عہد کیا گیا تھا۔ کمیشن کے ارکان کی تقرری حزبِ اقتدار و اختلاف کی مشاورت اور کھلی پبلک سماعت کے بعد ہونا تھی۔

چارٹر کے تحت ایک سچائی کمیشن بھی بننا تھا جس کا کام سیاسی انتقام، ٹارچر، جھوٹے ریاستی مقدمات، مخصوص سیاسی مفادات کے تحت ہونے والی قانون سازی اور جانبدار احتسابی عمل کی روک تھام تھا۔نکارگل جیسی عسکری مہم جوئی کی چھان بین کے لیے ایک کمیشن کے قیام کا وعدہ بھی تھا۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ آئندہ منتخب حکومتیں اور اپوزیشن ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے بالائے آئین ہتھکنڈے استعمال نہیں کریں گی اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہوں گی۔

یہ بھی طے ہوا تھا کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ میں سے کوئی بھی جماعت کسی منتخب حکومت کے خاتمے یا برسرِ اقتدار آنے کے لیے فوجی قیادت سے مدد نہیں لے گی۔ ارکانِ پارلیمان کی طرح عدالتی و عسکری عہدے داروں پر بھی لازم ہو گا کہ وہ اپنے اثاثہ جات کے سالانہ تفصیلی گوشوارے مشتہر کریں۔ 2006 کے چارٹر آف ڈیموکریسی میں یہ بھی لکھا گیا تمام سیاسی جماعتوں اور سیاسی شخصیات کو بلا امتیاز و دباؤ انتخابی عمل میں حصہ لینے کی اجازت ہو گی۔ عام انتخابات کے انعقاد کے نوے روز کے اندر بلدیاتی انتخابات لازماً کروائے جائیں گے۔
خصوصی عدالتیں بشمول دہشت گردی سے متعلق اور احتساب عدالتیں ختم کر دی جائیں گی اور تمام مقدمات معمول کی سویلین عدالتوں میں چلیں گے یا منتقل کر دیے جائیں گے۔

اسکے علاوہ میثاق جمہوریت میں یہ بھی طے ہوا کہ اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تقرری چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں ایک خود مختار کمیشن کرے گا اور چیف جسٹس بھی وہ جو ماضی میں کسی عبوری آئینی حکم نامے یعنی پی سی او کا حلف یافتہ نہ رہا ہو۔ اس جوڈیشل کمیشن میں ہائی کورٹوں کے غیر پی سی او حلف یافتہ چیف جسٹس یا سینیئر جج اور سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز کے صدور شامل ہوں گے۔ اسکے عکاوہ کمیشن میں حکومت کی نمائندگی صرف وفاقی وزیرِ قانون و اٹارنی جنرل کریں گے۔

بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے مابین طے ہونے والے میثاق جمہوریت کے مطابق آئی ایس آئی، ایم آئی سمیت تمام حساس ادارے وزیرِ اعظم سیکرٹیریٹ، وزارتِ دفاع اور کیبینٹ ڈویژن کے توسط سے منتخب حکومت کو جوابدہ ہوں گے۔ ان اداروں کے بجٹ کی ڈیفنس کمیٹی منظوری دے گی۔ ان اداروں کے سیاسی ونگز ختم کر دیے جائیں گے۔ یہ بھی طے ہوا کہ ملکی سلامتی کے نام پر سکیورٹی اداروں میں بجٹ کے درست استعمال کو باقاعدہ بنانے کے لیے جائزہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ ایجنسیوں میں سینیئر آسامیوں پر تقرریاں متعلقہ وزارت کے توسط سے حکومت کی منظوری سے ہوں گی۔ دفاعی بجٹ پارلیمنٹ میں بحث مباحثے کے بعد منظور کیا جائے گا۔

چارٹر اف ڈیموکریسی میں لکھا گیا کہ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کو مزید مؤثر اور کارگر بنانے کے لیے کمان کی گردشی سربراہی یعنی روٹیشن کا اصول قانونی طور پر لاگو ہو گا اور باری باری ارمی نیوی اور ایئر فورس سے سربراہان کا تقرر کیا جائے گا۔ یہ بھی لکھا گیا کہ دفاعی اداروں کو جو زرعی اراضی اور کنٹونمنٹ ایریاز کی زمین الاٹ کی گئی ہے اس کی شفاف قانونی حیثیت کا تعین اور الاٹمنٹ کے قواعد کی چھان پھٹک ایک کمیشن کرے گا۔ وغیرہ وغیرہ۔

لیکن وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ آج 19 برس بعد حالات یہ ہیں کہ پاکستان کی دونوں بڑی جماعتوں کے مابین طے ہونے والے چارٹر آف ڈیموکریسی کے برعکس معاملات چلائے جا رہے ہیں حالانکہ یہی جماعتیں اس وقت اتحادی حکومت چلا رہی ہیں۔ چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستحظوں کی کئی برس تک سالگرہ بھی منائی جاتی رہی۔ لیکن بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد اسے بھلا دیا گیا۔

اس دوران ہمیں عدلیہ کی آزادی کی تحریک بھی پورے جذبے سے دیکھنے کو ملی۔ نئے نئے جوش میں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بھی کچھ عرصہ سنائی دیتا رہا۔ ایک منتخب حکومت سے دوسری منتخب حکومت کو دو بار پرامن انتقالِ اقتدار کی خوشیاں بھی منائی گئیں اور یہ بھی سننے میں آیا کہ پاکستان بالاخر اس جمہوریت کی پٹڑی پر چڑھ گیا ہے کہ جسکا خواب ملک کے بانیوں نے دیکھا تھا۔ لیکن درحقیقت چارٹر آف ڈیموکریسی کی ڈکشنری بدلتی چلی گئی۔ ہائبرڈ جمہوریت، آر ٹی ایس سسٹم والے الیکشن، انتخابی نشان سے محرومی، مخصوص نشستوں کا بٹوارا، پھر فارم 47 والے الیکشن، 26ویں آئینی ترمیم، فائر وال اور پیکا ایکٹ کے بوٹوں تلے میثاقِ جمہوریت ایسا دبا کہ اب اسے تلاش کرنے والا تو دور۔کی بات، اسکا نام لینے والا بھی کوئی نہیں۔ اور یہ کارِ خیر بھی میثاقِ جمہوریت کے دستخط کنندگان یعنی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی تائید سے ہوا۔

وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ 2006 میں طے ہونے والے چارٹر کی ایک دستخط کنندہ محترمہ بے نظیر بھٹو اس دنیا میں نہیں اور دوسرے دستخط کنندہ نواز شریف ایوانِ سیاست کے عقبی کمرے میں گوشہ نشین ہیں۔ ان دونوں کے وارث سندھ اور پنجاب کو ایسے وقت ایک دوسرے سے عظیم تر ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں جب انتخابی مہم کا دور دور تک ماحول نہیں اور موثر حزبِ اختلاف نام کی کوئی شے دوربین سے بھی نظر نہیں آ رہی۔

Back to top button