آبنائے ہرمز کی بندش نے صدر ٹرمپ کی بولتی کیسے بند کی؟

 

 

 

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش نے امریکی صدر ٹرمپ کا منصوبہ الٹا دیا ہے اور اب وہ شدید جھنجھلاہٹ کا شکار ہو کر یہ دعویٰ کرنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں کہ ایران نے امریکہ سے جنگ بند کرنے کا کہا ہے،ایران نے ٹرمپ کا دعویٰ سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ جب تک اس کے قومی مفادات کو خطرہ لاحق رہے گا، آبنائے ہرمز بند رہے گی اور اسے دشمنوں کے لیے کسی صورت نہیں کھولا جائے گا۔

 

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے کیونکہ یہ آبی گزرگاہ دنیا کی اہم ترین تجارتی شاہراہوں میں شمار ہوتی ہے۔ چھتیس کلومیٹر چوڑی آبنائے ہرمز دنیا کے بیس فیصد تیل کی ترسیل کا ذریعہ ہے اور اس کی بندش کے باعث پہلے ہی بحری آمد و رفت بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں ایران کی جانب سے ایک اور اہم آبی راستے آبنائے باب المندب کو بند کرنے کی دھمکی نے عالمی تجارت کے لیے خطرات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ یمن کے ساحل کے ساتھ بحیرہ احمر میں واقع ہے جبکہ اس کے بالمقابل جبوتی اور اریٹیریا کے افریقی ساحل ہیں۔ یہ آبی راستہ بحرِ ہند اور خلیج عدن سے آنے والی بحری ٹریفک کو نہر سویز تک پہنچنے کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتا ہے اور 1973 میں نہر سویز کی تعمیر کے بعد سے یورپ اور ایشیا کے درمیان سب سے مختصر سمندری راستہ بن چکا ہے۔ اس کی لمبائی 115 کلومیٹر اور چوڑائی تقریباً 36 کلومیٹر ہے، تاہم اس کی اہمیت اس کے جغرافیے سے کہیں بڑھ کر ہے کیونکہ دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی بحری تجارت اسی راستے سے گزرتی ہے۔

 

باب المندب کو عربی میں آنسوؤں کا دروازہ کہا جاتا ہے، جو اس کی خطرناک نوعیت، تیز سمندری دھاروں، غیر متوقع ہواؤں، قزاقی کے خطرات اور علاقائی تنازعات کی عکاسی کرتا ہے۔ ماضی میں بھی اس خطے میں قزاقی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں، جنہوں نے عالمی برادری کو سکیورٹی اقدامات سخت کرنے پر مجبور کیا تھا، اور اب ایک بار پھر یہ علاقہ عالمی بحران کے مرکز میں آتا دکھائی دے رہا ہے۔

 

ماہرین کے مطابق روزانہ تقریباً پچاس لاکھ بیرل تیل اس گزرگاہ سے منتقل ہوتا ہے جو مشرقِ وسطیٰ اور ایشیائی ممالک سے مغربی دنیا کی جانب جاتا ہے، جبکہ عالمی سطح پر مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا بھی قابل ذکر حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہو جاتا ہے تو عالمی تیل کی سپلائی میں مزید نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے، جس سے پہلے سے موجود توانائی بحران مزید شدت اختیار کر جائے گا۔

آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد بحیرہ احمر کی اہمیت پہلے ہی بڑھ چکی ہے اور سعودی عرب جیسے ممالک نے اس متبادل راستے کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ سعودی حکومت اپنی مشرقی آئل فیلڈز سے خام تیل پائپ لائن کے ذریعے ینبع بندرگاہ تک پہنچا رہی ہے تاکہ اسے باب المندب کے راستے عالمی منڈیوں تک بھیجا جا سکے، تاہم اگر یہ راستہ بھی متاثر ہوتا ہے تو متبادل راستے تقریباً ختم ہو جائیں گے۔

 

اس بڑھتی ہوئی کشیدگی میں یمن کے حوثی باغیوں کا کردار بھی نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے، جو ایران کے حمایت یافتہ ہیں اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ ماضی میں یہ گروہ سو سے زائد تجارتی جہازوں پر حملے کر چکا ہے جن میں میزائلز اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا، اس کے نتیجے میں کئی جہاز تباہ ہوئے اور عملے کے افراد ہلاک بھی ہوئے۔

 

حال ہی میں ایک حوثی رہنما نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کی حمایت میں اس اہم گزرگاہ کو نشانہ بنانے کے لیے عسکری طور پر تیار ہیں، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیل پر حملوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع مزید بڑھتا ہے تو حوثی اس جنگ میں باقاعدہ طور پر شامل ہو سکتے ہیں اور اس آبی راستے کو بند یا غیر محفوظ بنا سکتے ہیں۔ ان حالات کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے۔ یکم اپریل کو ختم ہونے والے عرصے میں برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں 64 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو گلف وار کے بعد سب سے بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے اور باب المندب بھی بند ہوتی ہے تو یہ اضافہ مزید تیز تر ہو سکتا ہے، اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہو سکتی ہے۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بحران صرف تیل اور گیس تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی تجارت کے دیگر شعبوں کو بھی متاثر کرے گا کیونکہ یہی راستہ مشرق اور مغرب کے درمیان سامان کی ترسیل کا مرکزی ذریعہ ہے۔ روزانہ درجنوں کارگو جہاز اس گزرگاہ سے گزرتے ہیں اور کسی بھی رکاوٹ کے باعث سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے، جس سے اشیائے ضروریہ کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو جائے گا۔

ٹرمپ کا مقاصد کی تکمیل تک ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان

موجودہ صورتحال میں ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ایران اور یمن کے ہاتھوں دونوں آبی گزرگاہیں بند ہو جاتی ہیں تو دنیا کو ایک ایسے شدید معاشی اور توانائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کے اثرات عالمی معیشت پر طویل عرصے تک مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اب ایک علاقائی تنازع سے بڑھ کر عالمی سطح کا بحران بنتی جا رہی ہے، جس کے اثرات ہر ملک اور ہر صارف تک پہنچ سکتے ہیں۔

Back to top button