جنرل عاصم منیر کے خلاف بغاوت کی سازش کیسے ناکام ہوئی؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے پس منظر میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے عمران خان کے ساتھ مل کر جنرل عاصم منیر کے خلاف فوجی بغاوت کا منصوبہ تیار کیا تھا۔ تاہم یہ منصوبہ تب ناکام ہو گیا جب چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ساحر شمشاد نے جنرل فیض حمید کا ساتھ دینے کی بجائے جنرل عاصم منیر کے ساتھ کھڑا رہنے کا فیصلہ کیا۔
جاوید چوہدری کے مطابق تب کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بھی فوجی بغاوت کے بعد عمران خان کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے لیے مرکزی کردار ادا کرنا تھا۔ انکے مطابق، جنرل فیض حمید اور عمران کا منصوبہ نہایت واضح تھا۔ دونوں چاہتے تھے کہ تحریک انصاف کے کارکن اور "ٹائیگرز” مختلف چھاؤنیوں پر حملے کریں، یادگاروں کو نذرِ آتش کریں اور اس ہنگامے کے نتیجے میں راستہ بناتے ہوئے راولپنڈی پہنچ جائیں۔ یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کے روز آرمی چیف جنرل عاصم منیر ملک سے باہر تھے، منصوبہ سازوں کے خیال میں یہ صورتحال فوج میں بغاوت کی کوشش کامیاب کر سکتی تھی۔
جاوید چوہدری کے مطابق منصوبہ یہ تھا کہ اس عشرہ انتشار میں جنرل عاصم منیر کی غیر موجودگی میں جنرل ساحر شمشاد مرزا مجبور ہو کر فوج کی کمان سنبھال لیتے، جسکے فوری بعد سپریم کورٹ جنرل عاصم منیر کو "ڈی نوٹی فائی” کر دیتی، اور سیاسی و عسکری منظرنامے میں فوری تبدیلی آ جاتی۔ جاوید چوہدری کا دعویٰ ہے کہ منصوبے کے اگلے مرحلے میں سپریم کورٹ عمران کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کو غیرقانونی قرار دے دیتی، جسکے بعد پی ڈی ایم حکومت تحلیل ہو جاتی اور عمران خان دوبارہ اقتدار میں آ جاتے۔ ان کے مطابق یہ پورا پلان کاغذ پر مضبوط دکھائی دیتا تھا مگر "بدقسمتی” سے جنرل ساحر شمشاد مرزا حالات کے دھوکے میں نہ آئے اور 9 مئی کو فوج اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ساتھ کھڑے رہے۔
جاوید چوہدری کے مطابق ساحر شمشاد کا یہ فیصلہ عمران خان اور جنرل فیض حمید کے منصوبے کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔ دوسری طرف حکومت نے بھی اعصاب قابو میں رکھے جبکہ پی ٹی آئی کے انقلابی یوتھیے 22 یادگاروں پر حملے کے بعد منظر سے غائب ہو گئے۔ چوہدری دعویٰ کرتے ہیں کہ اس موقع پر جنرل فیض حمید نے بھی عمران خان کو تنہا چھوڑ دیا۔ ان کے مطابق فیض حمید 8 سے 11 مئی تک منظر سے غائب رہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر وہ کسی مقام پر نظر آ گئے تو بغاوت کی ناکامی کی صورت میں ان کا کورٹ مارشل یا آرٹیکل 6 کے تحت سزائے موت بھی ممکن تھی۔ اس لیے وہ پس منظر میں چلے گئے اور عمران خان انہیں تلاش کرتے رہے۔ جاوید چوہدری یاد دلاتے ہیں کہ 11 مئی 2023 کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے آئی جی اسلام آباد کو حکم دیا کہ عمران خان کو عدالت میں پیش کریں، اور جب وہ پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے انہیں "گُڈ ٹو سی یو” کہا اور آئی جی کو خصوصی پروٹوکول دینے کی ہدایت کی۔ عمران خان کو بعد ازاں بلٹ پروف مرسڈیز میں پولیس گیسٹ ہاؤس منتقل کیا گیا جہاں اس رات صدر عارف علوی صدارتی پروٹوکول کے ساتھ ان کے لیے بکرے کی روسٹ ران لے کر پہنچے۔
جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ عمران اس رات بکرا پارٹی کے دوران لطیفے سناتے رہے۔ اسی گیسٹ ہاؤس سے انہوں نے پی ٹی آئی کی خاتون رہنما مسرت چیمہ کو فون کر کے ہدایت کی کہ وہ "اعظم سواتی” سے رابطہ کریں۔ چوہدری کے مطابق یہ کال بعد میں لیک ہوئی اور آج بھی یوٹیوب پر موجود ہے۔ ان کے مطابق اس کال میں جس "اعظم سواتی” کا ذکر ہوا وہ دراصل سینیٹر اعظم سواتی نہیں بلکہ جنرل فیض حمید تھے، جو 8 مئی سے غائب تھے۔ بعد میں پتہ چلا کہ جنرل فیض حمید کا کوڈ نیم اعظم سواتی رکھا گیا تھا تاکہ ان کا کور بے نقاب نہ ہو۔
جاوید چوہدری ان تین دنوں کے اصل "ہیرو” جنرل ساحر شمشاد مرزا کو قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر وہ استقامت نہ دکھاتے یا پی ٹی آئی کی حکمتِ عملی کا شکار ہو جاتے تو آج ملک کی صورتحال یکسر مختلف ہوتی۔ چوہدری کے مطابق موجودہ حکمران جیلوں میں ہوتے، عمران خان ممکنہ طور پر اگلے پانچ سال کے لیے وزیراعظم بن چکے ہوتے یا ملک میں مارشل لا نافذ ہو چکا ہوتا اور ان کے بقول "مئی 2025 میں بھارت پاکستان کو سنگین نقصان پہنچا چکا ہوتا”۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے فضل سے ملک 9 مئی کو بڑے بحران سے بچ گیا اور فوج نے تین دن میں حالات قابو میں کر لیے، ورنہ عمران اور جنرل فیض حمید نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
جاوید چوہدری کے مطابق 9 مئی کے بعد پی ٹی آئی کی پوری قیادت منظر سے غائب ہو گئی اور فوج نے سب سے پہلے اپنی صفوں میں احتساب شروع کیا۔ ان کے مطابق ایک لیفٹیننٹ جنرل سمیت متعدد افسران فارغ کیے گئے، جس کے بعد سویلین حلقوں کی چھان بین شروع ہوئی جو آج تک جاری ہے۔ چوہدری کا کہنا ہے کہ جنرل فیض حمید کو صورتحال کی سنگینی سمجھ کر پیچھے ہٹ جانا چاہیے تھا مگر وہ مختلف وارننگز کے باوجود مبینہ طور پر رابطوں اور سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ 22 جولائی 2024 کو پی ٹی آئی کے ڈیجیٹل میڈیا سیل پر چھاپہ مارا گیا، پارٹی کا ڈیٹا اپنی تحویل میں لیا گیا اور پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن گرفتار ہوئے۔
رؤف حسن کے موبائل فون سے جنرل فیض حمید کے مختلف فون نمبر برآمد ہوئے جبکہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) آصف یاسین ملک کے فون نمبرز بھی موجود تھے۔ پارٹی کے کمپیوٹرز سے بھی اہم مواد سامنے آیا۔ چوہدری کے مطابق رؤف حسن نے تفتیش میں سب کچھ بیان کر دیا جس کے بعد جنرل فیض حمید کے گرد گھیرا تنگ ہو گیا۔
ان کے مطابق اگست 2024 میں جنرل فیض حمید کو بلا کر تمام شواہد دکھائے گئے اور انہیں دو آپشن دیے گئے: یا تو اپنے جرائم تسلیم کر کے معافی مانگ لیں یا پھر کورٹ مارشل کا سامنا کریں۔ جنرل فیض حمید نے دوسرا راستہ اختیار کیا اور یوں ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی شروع ہو گئی جس کا نتیجہ جلد ہی نکلنے والا ہے۔