وفاق کے دباؤ پرKPسےغیرقانونی افغانوں کی ملک بدری میں تیزی

وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں چھپے بیٹھے افغان باشندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرتے ہوئے انھیں ڈنڈے کے زور پر ملک بدر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی جانب سے افغان باشندوں کی واپسی کے عمل میں عدم تعاون کے بعد وفاقی حکومت نے ایف آئی اے، ایف سی اور دیگر سیکیورٹی اداروں کو مشترکہ چھاپہ مار کارروائیاں مزید سخت کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ جس کے بعد غیر قانونی افغان باشندوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ سمجھے جانے والے خیبرپختونخوا سے بھی افغانوں کے انخلاء میں واضح تیزی دکھائی دے رہی ہے۔
خیال رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے افغان باشندوں کی واپسی کے حوالے سے دی گئی ڈیڈ لائن میں مزید توسیع نہ دینے کے فیصلے کے بعد پنجاب اور سندھ سے افغانوں کی ملک بدری کا عمل تیزی سے جاری ہے۔تاہم پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت سیاسی مخاصمت کی بناء پر وفاقی حکومت کی افغان پالیسی کی سخت مخالفت کر رہی تھی جس کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں افغانوں کے انخلاء کا عمل کافی سست روی کا شکار تھا جبکہ پولیس کی جانب سے بھی کوئی واضح کارروائی نہیں ہو رہی تھی۔ تاہم اب وفاقی حکومت نے پولیس کے علاوہ دیگر سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر افغان باشندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
اس حوالے سے صوبائی محکمہ داخلہ و قبائلی امور نے پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو وفاقی حکومت کی واضح ہدایات کے مطابق مہاجرین کے کیمپ ختم کرنے اورافغان باشندوں کی جلد واپسی یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کا حکم دے دیا ہے۔ جبکہ متعلقہ اداروں کو افغان باشندوں کا مکمل ڈیٹا سیکیورٹی فورسز کو فراہم کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں جبکہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو کرائے کے گھروں میں رہنے والے افغان باشندوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کا احکامات دے دئیے ہیں۔ محکمہ داخلہ کی واضح ہدایات کے بعدایف آئی اے، ایف سی۔ پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں نے افغان باشندوں کے خلاف باقاعدہ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی افغان باشندوں کی بزور طاقت واپسی کے خلاف ہیں پھر صوبائی حکومت نے خیبرپختونخوا میں وفاقی سیکیورٹی فورسز کو کارروائی کی اجازت کیسے دی ہے؟ پولیس ذرائع کے مطابق یہ تاثر سراسر غلط ہے کہ صوبے میں پولیس اور دیگر ادارے افغان باشندوں کے خلاف کارروائی کے لیے تیار نہیں ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ صوبائی سیکیورٹی ادارے افغان باشندوں کی ملک بدری کے خواہاں ہیں مگر خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کارروائی کے حق میں نہیں تھی، جس کی وجہ سے انخلا کا عمل سست روی کا شکار تھا۔چترال اپر و لوئر دیر، مانسہرہ، ہزارہ سے کچھ حد تک افغان باشندوں کی واپسی جاری تھی۔ تاہم پشاور سے افغان باشندوں کی واپسی کا عمل نہ ہونے کے برابر تھا، اس کے ساتھ ساتھ پشاور میں تو بدستور مہاجر کیمپس بھی اب تک قائم ہیں جبکہ خیبرپختونخوا حکومت صوبے میں افغان باشندوں کے خلاف کارروائی کی اجازت دینے سے انکاری ہے، مبصرین کے مطابق قانونی طور پر صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر سیکیورٹی ادارے خیبرپختونخوا میں کوئی کارروائی نہیں کر سکتے۔ تاہم اب صوبائی محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی باقاعدہ ہدایات موصول ہونے کے بعد سیکورٹی فورسز شیر ہو گئی ہیں اور انھوں نے افغان مہاجرین کے خلاف مختلف ٹیمیں تشکیل دے کر کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔تاہم سہیل آفریدی سرکار اب تک افغان باشندوں کی زبردستی واپسی کی مخالفت کرتے ہوئے صرف رضاکارانہ واپسی پر زور دے رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ’ایک میٹنگ میں سہیل آفریدی نے واضح طور پر کہا تھا کہ افغانوں کی واپسی صوبائی حکومت کی بجائے وفاق کا فیصلہ ہے، صوبہ اس کی مخالفت نہیں کر سکتا، تاہم واپسی باعزت اور رضاکارانہ ہونی چاہیے۔‘ پولیس ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کی مخالفت کے باوجود افغانوں لے خلاف اب کارروائیاں شروع ہو چکی ہیں اوراب حکومتی احکامات اور مہلت کے باوجود واپس نہ جانے والے افغان باشندوں کو گرفتار کرکے ملک بدر کیا جائے گا۔
ذرائع کے بقول پرائیویٹ اور سرکاری سکولوں سے بھی رابطے کیے گئے ہیں اور پشاور کے مختلف بازاروں اور علاقوں میں افغان شہریوں کی اسکریننگ کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ صوبے کے تمام نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم افغان طلبہ کا ڈیٹا جمع کرنے کو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق افغان طالبعلموں کی تفصیلات معلوم کرنے کیلئے خصوصی فارم بھی جاری کیا گیا ہے۔ جس کے تحت فارم میں ضلع، سکول اور دیگر بنیادی معلومات درج کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تمام تعلیمی اداروں کو ایک ہفتے میں افغان طلبہ کا ڈیٹا فراہم کرنے کا ہدف دیاگیا ہے۔
فیض حمید نے عمران کی خاطر چیف الیکشن کمشنر کو کیسے دھمکایا؟
اس حوالے سے مبصرین کا کہنا ہے کہ جہاں ایک طرف وفاقی حکومت کی جانب سے افغان باشندوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے وہیں دوسری جانب وفاق کے برعکس صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت افغانوں کو بے دخل کرنے کے معاملے میں کسی قدر تذبذب کا شکار دکھائی دیتی ہے جبکہ خیبر پختونخوا کا دشوار گزار پہاڑی سرحدی علاقہ، ملک میں عسکری گروہوں کی سرگرمیاں اور فرقہ وارانہ لڑائیاں مرکزی حکومت کی غیرملکیوں بالخصوص افغانوں کو نکالنے کی مہم کے لیے چیلنج بن رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان کیلئے افغانوں کو مکمل طور پر بے دخل کرنا ناممکن ہے کیونکہ عوامی رد عمل سے بچنے کیلئے خیبرپختونخوا حکومت افغانوں کی بے دخلی میں مکمل تعاون سے انکاری ہے۔ اسی لئے افغانستان بارے وفاقی پالیسی پر عمل درآمد مجموعی طور پر سست روی کا شکار ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کئی وجوہات کی بناء پر افغانوں کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہے کیونکہ جہاں افغان شہریوں اور ان کی روایات اور ثقافت ایک جیسی ہیں وہیں جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان بھی اپنے دور حکومت میں افغان پناہ گزینوں کے ساتھ زور زبردستی کے رویے کی مسلسل مخالفت کرتے رہے ہیں۔‘ اسی لئے سہیل آفریدی بھی اس حوالے سے جارحانہ حکمت عملی اپنانے سےگریزاں نظر آتے ہیں۔
