عمران خان کے اندھے پن کے ڈرامے کا ڈراپ سین کیسے ہوا؟

 

 

 

گزشتہ کئی روز سے عمران خان کی آنکھ کے پردہ بصارت کو لے کر ایوانوں، سڑکوں اور سوشل میڈیا کو اپنی لپیٹ میں رکھنے والے ڈرامے کا ڈراپ سین ہو گیا۔ اڈیالہ جیل کی دیواروں کے اندر ہونے والا تفصیلی طبی معائنہ اور اس کے بعد سامنے آنے والی میڈیکل رپورٹ نے بالآخر اس ڈرامائی کشمکش کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ حکومتی وزرا عمران خان کی نظر کو نوجوانوں جیسی قرار دیتے ہوئے بہتری اور اطمینان کی تصویر پیش کر رہے ہیں جبکہ اپوزیشن رپورٹس کی شفافیت پر سوال اٹھا رہی ہے، جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی جیل کے حالات کو تسلی بخش قرار دے دیا ہے۔

خیال رہے کہ اتوار کے روز ماہر امراضِ چشم پر مشتمل دو رکنی طبی بورڈ نے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کا تفصیلی معائنہ کیا۔ بورڈ میں الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی اور پمز اسلام آباد کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف شامل تھے۔ دونوں ڈاکٹرز نے جدید مشینری کی مدد سے عمران خان کی دونوں آنکھوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ تفصیلی معائنے کے بعد سامنے آنے والی طبی رپورٹ کے مطابق عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی عینک کے بغیر 6/24 پارشل جبکہ بائیں آنکھ کی 6/9 ریکارڈ کی گئی۔ عینک کے استعمال سے دائیں آنکھ کی بینائی بہتر ہو کر 6/9 پارشل اور بائیں آنکھ کی 6/6 ہو گئی۔ مجموعی طور پر بینائی 6/36 سے بہتر ہو کر 6/9 پارشل تک پہنچ گئی جسے ماہرین نے اطمینان بخش قرار دیا ہے۔ عمران خان کی دائیں آنکھ میں پردۂ بصارت پر سوزش کے آثار موجود تھے تاہم سوجن میں نمایاں کمی آئی ہے اور آنکھ کی موٹائی 550 سے کم ہو کر 350 ہو گئی، جو بہتری کی علامت ہے۔ طبی بورڈ نے دونوں آنکھوں کے لیے مخصوص قطرے تجویز کیے اور علاج مکمل ہونے کے بعد مزید خصوصی ٹیسٹ کرانے کا مشورہ بھی دیا ہے۔

 

عمران خان کے جیل میں کئے جانے والے طبی معائنے اور سامنے آنے والی رپورٹ بارے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی عینک کے ساتھ ستر فیصد تک بحال ہو چکی ہے جبکہ دوسری آنکھ کی بینائی مکمل طور پر درست ہے۔ وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے بھی عمران خان کی صحت میں بہتری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی نظر نوجوانوں جیسی ہے۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے سوجن میں کمی اور بینائی میں بہتری کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بیرون ملک علاج سے متعلق خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی درخواست نہ کی گئی ہے اور نہ ہی حکومت اس پر غور کر رہی ہے۔ تاہم جیل میں عمران خان کو صحت کی تمام سہولیات پہنچائی جا رہی ہیں اور ان کی زندگی یا بینائی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ تاہم بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے حکومتی معائنے اور رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انہیں کسی نجی ہسپتال میں منتقل کیا جائے اور ذاتی معالجین کی نگرانی میں علاج کرایا جائے جبکہ شوکت خانم ہسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عاصم یوسف کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ وہ عمران خان کے علاج کے عمل میں شامل نہیں رہے، اس لیے وہ مکمل تصدیق نہیں کر سکتے، تاہم انہیں بریفنگ میں بہتری سے آگاہ کیا گیا ہے۔

عمران خان کے طبی معائنے میں محسن نقوی نے اہم کردار ادا کیا

دوسری جانب عمران خان کی طبی رپورٹس سامنے آنے کے بعد پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا ہاؤس اور پارلیمنٹ لاجز میں دیے گئے دھرنوں کو اچانک ختم کر دیا ہے۔ سڑکوں پر قائم کیمپ سمیٹ کر بند راستے کھول دئیے ہیں، تاہم پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر اپوزیشن اتحاد نے مطالبات پورے ہونے تک پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر احتجاج ختم کرنے کے فیصلے کو بعض مبصرین وقتی حکمتِ عملی اور بعض اندرونی اختلافات کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت میں اس بات پر اختلاف تھا کہ سڑکوں پر دباؤ برقرار رکھا جائے یا پارلیمنٹ کے اندر رہ کرحکومت پر آئینی اور سیاسی دباؤ ڈالا جائے۔ اسی دوران پارٹی کے اندر بعض فیصلوں، خصوصاً طبی معائنے کے موقع پر نمائندگی کے معاملے پر بھی بحث سامنے آئی، جس نے اختلافات کو مزید نمایاں کیا۔ جس کے بعد پی ٹی آئی قیادت نے اچانک خیبرپختونخوا اور پارلیمنٹ ہاؤس کے ابرہ سے احتجاجی کیمپ ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ پارٹی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ لائحہ عمل تحریری طبی رپورٹ سامنے آنے کے بعد طے کیا جائے گا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں طبی رپورٹ اور قیادت کے باہمی رابطے اس بحران کی سمت کا تعین کریں گے کہ احتجاج شدت اختیار کرتا ہے یا پارلیمانی دائرے تک محدود رہتا ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے 12 فروری کی سماعت کے تحریری حکم نامے میں عمران خان کے جیل میں روزمرہ معمولات، خوراک اور بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی کو تسلی بخش قرار دے دیا یے اور اپنے حکمنامے میں واضح کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو سہولیات کی فراہمی بارے عدالتی احکامات پر عمل ہو چکا ہے اور فی الحال کسی ہنگامی عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں۔

مبصرین کے مطابق عمران خان کے طبی معائنے کے بعد سامنے آنے والی رپورٹ بہتری کی طرف اشارہ کرتی ہے، عمران خان کی صحت بارے حکومتی حلقے مطمئن ہیں اور عدالت نے بھی حالات کو قابلِ اطمینان قرار دیا ہے، مگرپی ٹی آئی اب بھی عمران خان کی بینائی کو لے کر وکٹم کارڈ استعمال کرتے ہوئے سیاسی بیانیہ بنانے میں مصروف ہے۔ تاہم آنے والے دنوں میں واضح ہو گا کہ عمران خان کے طبی معائنے کے بعد سامنے آنے والی رپورٹ ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کو ختم کرتی ہے یا اختلافات اور احتجاج کے جاری سلسلے میں نئی روح پھونکتی ہے،

 

Back to top button