الیکشن میں دوغلی پالیسی PTI کی شکست کی بنیادی وجہ

 

 

 

ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کی ’دوہری پالیسی‘ نے اس کی سیاست اور رہی سہی ساکھ کا جنازہ نکال دیا ہے۔ ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے معاملے پر غیر واضح، متضاد اور دوغلی پالیسی اپنانے کی وجہ سے جہاں پی ٹی آئی کو بدترین انتخابی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، وہیں سیاسی حلقوں میں بھی اس کی قیادت سخت تنقید کی زد میں ہے۔ ناقدین کے مطابق قومی و صوبائی اسمبلی کے 13 حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات نے پاکستان تحریکِ انصاف کی موجودہ سیاسی حکمتِ عملی اور تنظیمی بحران کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔

 

خیال رہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے 13 حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کا مکمل صفایا ہو گیا ہے۔ مسلم لیگ ن نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے قومی و صوبائی اسمبلی کے 6 چھ حلقوں میں فاتح رہی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی صوبائی اسمبلی کی ایک نشست اپنے نام کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو ہری پور اور لاہور سمیت تمام حلقوں میں بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اب قومی و صوبائی اسمبلی کے تمام حلقوں میں شکست فاش کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے واویلا مچایا جا رہا ہے کہ چونکہ تحریک انصاف نے ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا، اس لیے وہ کوئی نشست نہیں جیت سکی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی بطور جماعت تو میدان میں موجود نہیں تھی تاہم تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں نے ضمنی الیکشن میں بھرپور طریقے سے حصہ لیا ہے لیکن مجموعی طور پر ضمنی انتخابات کے حوالے سے پی ٹی آئی کی حکمت عملی مسلسل تبدیل ہوتی رہی ہے۔ ابتدا میں سوشل میڈیا پر پارٹی قیادت کی جانب سے ضمنی الیکشن کے بائیکاٹ کے اعلانات کیے گئے، لیکن الیکشن سے صرف دو روز قبل ہری پور کے حلقہ این اے-18 اور لاہور کے حلقہ پی پی-129 کے امیدواروں کی انتخابی مہم پارٹی کے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے چلائی جانے لگی، اور ووٹروں سے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی گئی۔ پی ٹی آئی کی اس غیر واضح اور متضاد پالیسی نے پارٹی کے اپنے ووٹرز کو بھی شدید کنفیوژن کا شکار کیے رکھا۔ جس کی وجہ سے پی ٹی آئی ووٹرز پولنگ سٹیشنز کیلئے نہیں نکلے اور تحریک انصاف کو ضمنی الیکشن میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

 

ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کی جانب سے اپنائی جانے والی دوغلی پالیسی بارے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر صحافی وتجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ ’تحریک انصاف بار بار اپنے سیاسی فیصلوں سے زیادہ مشکلات کا شکار ہو رہی ہے۔ الیکشن بائیکاٹ اگر مسائل کا حل ہوتا تو 1985 کے غیرجماعتی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی پیپلز پارٹی آج تک پنجاب میں اپنی غیرمقبولیت کو اس فیصلے سے نہ جوڑتی۔‘ سلمان غنی کے مطابق سیاسی لڑائیاں سیاسی طریقے سے ہی اچھی لگتی ہیں، تاہم ضمنی الیکشن میں حصہ لینے یا لینے بارے پی ٹی آئی قیادت میں جتنی کشمکش اس بار نظر آئی اس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ ایک طرف پی ٹی آئی الیکشن بائیکاٹ کی کال دے رہی تھی جبکہ دوسری طرف لاہور اور ہری پور کے الیکشن میں ووٹ دینے کیلئے ترلے کئے جا رہے تھے۔

تحریک انصاف کی دوہری پالیسی نہ صرف سیاسی مبصرین کے نشانے پر ہے بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ضمنی الیکشن بارے پارٹی فیصلوں کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کارکنان اور ہمدرد بھی پارٹی پالیسی سے نالاں دکھائی دیتے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما فواد چوہدری نے ایکس پر لکھا کہ ’امید ہے عمر ایوب کا الیکشن لڑنے کا شوق اچھی طرح پورا ہو گیا ہو گا۔ عمر ایوب نے عمران خان کا انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ نہ مان کر اتنی ہی بڑی غلطی کی جتنی 8 فروری کی رات احتجاج میں نہ جا کر کی تھی۔ ہری پور کی ایک نشست پر شکست نے پی ٹی آئی کے کامیاب الیکشن بائیکاٹ کا آدھا اثر ضائع کر دیا ہے۔‘

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی ضمنی انتخابات میں اپنائی جانے والی سیاسی حکمت عملی پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ’ضمنی الیکشن کے جو نتائج آئے ہیں وہ زیادہ اچنبھے کی بات نہیں ہے البتہ ہری پور کا نتیجہ کافی اہم ہے۔ سہیل وڑائچ کے بقول، تحریکِ انصاف ہمیشہ سے متضاد فیصلوں اور لیڈرشپ کے بحران کا شکار رہی ہے۔ اپنی دوغلی اور غیر سیاسی حکمتِ عملیوں کے باعث اسے متعدد مواقع پر ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کا اصل المیہ یہ ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کے بجائے ہر نئے موقع پر پہلے سے بڑا بلَنڈر کر بیٹھتی ہے، جس کا خمیازہ اسے ناکامی اور شرمدنگی کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ ضمنی انتخابات میں ہونے والی شکستِ فاش بھی اسی سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے، جہاں پارٹی اپنے ہی فیصلوں کے بوجھ تلے دب گئی ہے۔

Back to top button