پی آئی اے اور پی ایس ایل کی نیلامی سے معیشت کیسے بحال ہوئی؟

 

 

 

جیو ٹی وی سے وابستہ معروف اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ حال ہی میں اربوں روپوں کے عوض قومی ائیر لائینز پی آئی اے اور پاکستان سپر لیگ کی دو نئی ٹیمیں خریدنے والے لوگ مایوسی اور اندھیرے میں ڈوبے پاکستانیوں کے لئے روشنی کی طرح ہیں جنہوں نے اپنے ملک پر اعتماد کرکے اپنی مٹی سے محبت کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں۔

 

روزنامہ جنگ میں سینئیر صحافی لکھتے ہیں کہ ایک طویل سکوت کے بعد پی آئی اے کی پاکستانی صنعت کاروں پر مبنی کنسورشیم کو نیلامی اور پی ایس ایل کی دو ٹیموں کی 3 ارب 60 کروڑ روپے میں بیرونِ ملک آباد پاکستانیوں کو فروخت اس بات کی علامت ہے کہ ملک کا معاشی پہیہ چلنے لگا ہے ۔انکا کہنا ہے کہ جب پی آئی اے کی پہلی نیلامی ناکام ہوئی تو بہت مایوسی پھیل گئی تھی۔ انتہائی اعلیٰ سطح پر پریشانی یہ تھی کہ پاکستانیوں کی جانب سے اسے نہ خریدنے کے بعد اسے غیر ملکی کمپنیوں کو بیچنا پڑے گا۔ مسئلہ یہ تھا کہ اگر ایسا ہوتا تو پھر پی آئی اے کا منافع بھی بیرون ملک جاتا اور پاکستان کا برانڈ بھی ہاتھ سے چلا جاتا۔

 

اس تشویش اور مایوسی میں پاکستانی صنعت کاروں تک یہ پیغام پہنچایا گیا کہ وہ اپنے ملک کی نعمتوں اور برکتوں سے مستفید ہوتے ہوئے منافع بخش بینک اور فیکٹریاں خریدنے میں تو پیش پیش پیں لیکن جب خود پاکستان کو انکی ضرورت آن پڑی ہے تو کوئی آگے آنے کو تیار نہیں ! سہیل وڑائچ کے مطابق حکومت نے ایک ٹاپ کے سرمایہ کار سے درخواست کی کہ وہ پی آئی اے کی نیلامی میں حصہ لیں مگر نفع نقصان دیکھنے والا کوئی آگے نہ آیا۔ تاہم محب وطن صنعت کاروں کے ایک کنسورشیم نے آگے بڑھ کر پیش کش کی کہ وہ پی آئی اے کو بیرون ملک فروخت نہیں ہونے دینے دیں گے، چنانچہ جب وہ تیار ہوئے تو ان کے مدمقابل اور خریدار بھی آگئے۔

 

قومی ایئر لائنز کی نیلامی کے دوران ایک مرحلہ ایسا بھی آیا کہ ایک طرف آئی پی پی کے مالکان تھے تو دوسری طرف آئی پی پیز کے خلاف مہم چلانے والے موجود تھے۔ یوں پاکستانی سرمایہ کاروں کو پی آئی اے کی نیلامی کامیابی سے مکمل ہو گئی اور کئی دہائیوں سے رکا ہوا نجکاری کا عمل بھی بحال ہو گیا۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ حکومت کو خسارے میں چلنے والے قومی ادارے کو فروخت کرنے میں کامیابی ملنے سے پاکستان میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے کیونکہ یہ ملکی معیشت پر اعتماد کا اظہار ہے۔

 

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ کرکٹ کے حوالے سے بھی غیر ضروری تنازعات کے باعث جب پاکستان سپر لیگ کی دو نئی ٹیموں کی نیلامی کی بات چلی تو اندازہ نہیں تھا کہ ان کی بولی اس قدر مہنگی ہوجائے گی۔ بیرون ملک آباد پاکستانیوں نے دونوں ٹیمیں خرید کر ایک بار پھر سے وطن اور کرکٹ سے محبت کا اعادہ کیا ہے۔ پی ایس ایل کی ٹیم حیدرآباد خریدنے والے امریکی نژاد پاکستانی نے تو حیدرآباد میں نیا سٹیڈیم بنانے کا عزم بھی ظاہر کر دیا ہے۔ اسی طرح ٹیم سیالکوٹ کے خریدار آسٹریلین نژاد پاکستانی نے بھی ملکی معیشت اور اسکے مستقبل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اتنی بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔

 

سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ قرضوں کی ادائیگی کے لئے ہمیں ہر سال اربوں ڈالرز درکار ہوتے ہیں۔ بیرون ملک سے  100ارب ڈالرز آنے کی جو توقع لگائی گئی تھی وہ پوری نہیں ہوئی۔ نظر ثانی شدہ فیصلوں میں یہ بھی اندازہ لگایا گیا کہ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ سے ملک میں انفراسٹرکچر تو آجاتا ہے مگر اس سے حاصل ہونے والا منافع بیرونِ ملک چلاجاتا ہے۔ یہ پیسہ نہ تو ملکی معیشت میں دوبارہ لگتا ہے اور نہ ہی گردش میں آتا ہے، اس لئے یہی خیال غالب آیا کہ پاکستانی معاشی خوشحالی کا راز پاکستان ہی کے کامیاب بزنس گروپس کو سرمایہ کاری پر مائل کرنے میں مضمر ہے، اس حوالے سے یہ سوچ بھی سامنے آئی کہ غیر ملکی سرمایہ کار بھی پاکستان میں سرمایہ کاری تب کریں گے جب پاکستانی صنعت کار خود یا بیرون ملک پارٹیز کے ذریعے سرمایہ کاری پر تیار ہوں گے۔

 

سہیل وڑائچ کے بقول پاکستان اور تیسری دنیا میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ ہر دولت مند دراصل لوٹے ہوئے پیسے سے دولت مند بنا ہے۔ لیکن آج کی مارکیٹ اکانوی میں دولت پیدا کرنے والے کو سراہا جاتا ہے کیونکہ وہ روزگار بھی فراہم کرتا ہے اور ملکی معیشت میں استحکام اور بڑھوتری بھی لاتا ہے۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج کے اعدادوشمار کے مطابق فوجی گروپ سب سے ٹاپ پر رہا ہے لیکن اس گروپ میں 60 سے70 فیصد حصص عوام کے بھی ہیں۔

 

اعدادو شمار کے مطابق، دوسرے نمبر پر سر انور پرویز کا بیسٹ وے گروپ ہے، اس گروپ کے 80 فیصد شیئرز خود سر انور پرویز کے ہیں۔ انہوں نے صرف 20 فیصد شیئرز مارکیٹ میں بیچے ہیں۔ گویا برطانیہ سے پیسہ کمانے والے اور وہاں سے سر کا خطاب پانے والے سر انور پرویز اس وقت پاکستان کے ٹاپ بزنس مین ہیں۔ ان کی ملکیت میں یونائیٹڈ بینک اور بیسٹ وے سیمنٹ ہیں۔ یونائیٹڈ بینک کے پاس 3797 ملین ڈالرز کا سرمایہ موجود ہے اور بیسٹ وے سیمنٹ 1117 ملین ڈالرز سرمایہ رکھتا ہے۔ دونوں کے سرمائے کو ملایا جائے تو وہ پاکستان سٹاک ایکسچینج کے سب سے بڑے سرمایہ کار ہیں۔تاہم افسوس کہ انہیں حکومت برطانیہ نے سر اور انکے بھتیجے چودھری ضمیر حسین کو لارڈ کا خطاب دیا ہے لیکن ریاست پاکستان کی جانب سے انہیں کبھی کوئی اعزاز نہیں ملا۔ ایسے میں ضروری ہے کہ انہیں پاکستان کا سب بھی سے بڑا اعزاز نشان پاکستان دیا جائے اور وی وی آئی پی کے طور پر پاکستان کے دورے کی دعوت دی جائے۔ ویسے بھی وہ 90 برس سے زائد کے ہو چکے ہیں لہٰذا پاکستان سے ان کی محبت کا قرض اتارنے کا یہ ایک بہترین طریقہ ہوگا۔

Back to top button