کراچی کے گل پلازہ میں آگ کیسے لگی؟ابتدائی رپورٹ میں ہوشرباانکشافات

کراچی کے گل پلازہ میں آتشزدگی کی تحقیقاتی رپورٹ میں آگ لگنے کے حوالےسےاہم انکشافات سامنے آگئے۔
تحقیقاتی حکام نےسانحہ گل پلازہ کی ابتدائی رپورٹ عینی شاہدین اور متاثرین کے بیانات کی مدد سے تیار کرلی۔گل پلازہ میں آگ مصنوعی پھولوں کی دکان میں لگی، دکان میں موجود بچوں کے کھیلنے کے دوران آگ لگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر بچے دکان میں ماچس یا لائٹر سے کھیل رہے تھے، ابتدائی طور پر آگ دکان میں موجود سامان میں لگی اور بجلی کی تاروں میں پھیلی۔
آگ شارٹ سرکٹ کے باعث نہیں لگی، آگ لگتے ہی عمارت میں موجود افراد خارجی راستوں کی طرف بھاگے، عمارت کے دروازے بند ہونے کی وجہ سے بھگدڑ مچی۔
ذرائع نے کہا کہ عمارت میں زیادہ تر دکانیں کھلی ہوئی تھیں، عمارت کی چھت کے راستے پر بھی گرل لگی ہوئی تھی، آگ لگنے سے عمارت میں موجود سی سی ٹی وی سسٹم مکمل طور پر متاثر ہوا ہے۔
دوسری جانب سانحہ گل پلازہ پر میونسپل کمشنر کے ایم سی افضل زیدی کو عہدے سے ہٹادیا گیا۔چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق افضل زیدی کو سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن ڈیپارٹمنٹ میں رپورٹ کرنےکی ہدایت کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق 19 گریڈکی ایکس پی سی ایس افسر سمیراحسین کو میونسپل کمشنر کے ایم سی کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے۔
سابق میونسپل کمشنرافضل زیدی 30 نومبر کو 3 سالہ ابراہیم کے گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے کے واقعےکے بعد سے تنقید کی زد میں تھے۔
ذرائع سندھ حکومت کے مطابق گل پلازہ میں ہونے والی آتشزدگی میں بھی افضل زیدی کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں تھی۔گزشتہ ماہ افضل زیدی کو بیرون ملک سفر سے روک دیا گیا تھا۔
