’آزادی یا موت‘ یوتھیے نئے ٹرک کی بتی کے پیچھے کیسے لگے؟

8 فروری کی احتجاجی کال کی ناکامی کے بعد پی ٹی آئی قیادت نے یوتھیوں کو ایک بار پھر نئے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ہے۔ پی ٹی آئی نے 8 فروری کی شٹرڈاون ہڑتال ناکام ہونے کے باوجود ایک بڑے احتجاج کی تیاریوں کا اعلان کر دیا ہے اور ’آزادی یا موت‘ کے نام سے ایک بڑا کنٹینر بھی تیار کر لیا ہے، جسے آئندہ ممکنہ احتجاجی تحریک کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی حلقے اس اقدام کو غصے سے بھرے کارکنان کو قابو میں رکھنے اور پارٹی کو متحرک رکھنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں، جبکہ سیاسی مبصرین پی ٹی آئی کے اس فیصلے کو حالیہ احتجاجی کال کی ناکامی کے اثرات مٹانے اور قیادت پر بڑھتے دباؤ کو کم کرنے کی حکمت عملی سمجھتے ہیں۔
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق پارٹی نے بڑے احتجاج کی تیاریاں شروع کر دی ہیں، اس حوالے سے باقاعدہ طور پر کنٹینر بھی تیار کرلیا گیا ہے جسے آزادی یا موت کا نام دیا گیا ہے۔ وزیراعلٰی سہیل آفریدی نے بھی دو روز قبل پشاور رِنگ روڈ کے مقام پر تیار ہونے والے اس کنٹینر کی تیاری اور سہولیات کا جائزہ لیا۔ سہیل آفریدی نے اس موقعے پر کارکنوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ بڑے احتجاج کی تیاری کررہے ہیں لہٰذا ورکرز اپنی تیاری مکمل کر لیں۔‘ رُکنِ قومی اسمبلی شاہد خٹک کے مطابق پشاور میں ہمارا کنٹینر تیار ہے جس پر لکھا ہے آزادی یا موت۔‘ ’کنٹینر پر ہم کسی بھی وقت سوار ہو سکتے ہیں، کنٹینر کی ڈرائیونگ سیٹ وزیراعلٰی خود سنبھالیں گے۔‘
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پشاور میں تیار کیا جانے والا بڑا احتجاجی کنٹینر وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایت پر تیار کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 40 فٹ طویل اس کنٹینر کو طویل احتجاجی سرگرمیوں کے پیشِ نظر خصوصی طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کے اندر واش روم، چار کمرے اور ایک علیحدہ ریسٹ ایریا قائم کیا گیا ہے، جبکہ ایئرکنڈیشنرز اور کھانا پکانے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے تاکہ قیادت طویل دھرنے یا مارچ کی صورت میں اسی کنٹینر سے سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔ تاہم اسلام آباد مارچ کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی تاریخ طے نہیں کی جا سکی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق احتجاجی حکمتِ عملی پر صوبائی قیادت اور مرکزی رہنماؤں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، جس کے باعث فیصلہ مؤخر ہے۔ پی ٹی آئی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ 8 فروری کی شٹرڈاؤن ہڑتال توقعات کے مطابق کامیاب نہیں ہو سکی، جس سے کارکنوں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔اب وزیرِاعلیٰ نئی حکمتِ عملی ترتیب دینے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ کارکنان کو دوبارہ متحرک کیا جا سکے تاہم ابھی تک پارٹی قیادت اس حوالے سے ایک پیج پر نہیں ہے۔ دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر ممکنہ مارچ کی تیاریوں سے لاعلم دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان احتجاج کا اختیار محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دے چکے ہیں، لہٰذا آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ انہی کی صوابدید پر ہوگا۔ بیرسٹر گوہر کے اس بیان نے پارٹی کے اندر پائے جانے والے ابہام کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے کنٹینر کی تیاری کو اندرونی سیاست کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے بقول یہ اقدام ورکرز میں اپنی ساکھ اور مقبولیت برقرار رکھنے کی کوشش ہو سکتا ہے، کیونکہ فی الحال اسلام آباد مارچ کا کوئی واضح اور متفقہ فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پارٹی کی اکثریتی قیادت فوری طور پر دارالحکومت کی جانب مارچ کے حق میں دکھائی نہیں دیتی، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ کنٹینر کی تیاری اور عملی احتجاجی اقدام کے درمیان ابھی خاصا فاصلہ موجود ہے۔
تحریک انصاف کی احتجاج کی کال کس وجہ سے ناکام ہوئی؟
تجزیہ کاروں کے مطابق 8 فروری کی کال پر محدود ردعمل نے پارٹی کی سٹریٹ پاور پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے سوشل میڈیا پر متحرک دکھائی دینے والی پی ٹی آئی عملی میدان میں وہ عوامی دباؤ پیدا نہیں کر سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ اسی وجہ سے جہاں پارٹی کارکن مایوسی کا شکار ہیں وہیں وہ قیادت کی حکمت عملی پر بھی شدید برہم ہیں۔ ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے بڑے احتجاج کی تیاری کے اعلانات دراصل کارکنوں کے غصے کو ٹھنڈا کرنے اور سیاسی خفت کم کرنے کی کوشش ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے بڑے احتجاج کی تیاریوں کے دعوے تو سامنے آ رہے ہیں تاہم زمینی حقائق فی الحال کسی بڑی تحریک کے لیے سازگار نہیں۔ رمضان المبارک کی آمد قریب ہے، جس دوران روایتی طور پر سیاسی سرگرمیاں محدود ہو جاتی ہیں۔ ایسے میں بغیر مکمل تیاری اور واضح حکمت عملی کے سڑکوں پر آنے کا خطرہ مول لینا پارٹی کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ویسے بھی وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی اس وقت اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم رکھنے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور مقتدر حلقوں کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ان کی جانب سے کسی جارحانہ احتجاجی مہم کی قیادت کرنا فی الحال بعید از قیاس دکھائی دیتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مجموعی طور پر صورتحال یہ بتاتی ہے کہ ’آزادی یا موت‘ کے نعرے اور کنٹینر کی تیاری اپنی جگہ، مگر عملی طور پر کسی بڑے مارچ یا تحریک کے امکانات فوری طور پر واضح نہیں۔ آنے والے ہفتے اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ محض سیاسی دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی ہے یا واقعی کوئی منظم احتجاجی مرحلہ شروع ہونے والا ہے۔
