پنجاب اسمبلی میں ہنگامے پرسہیل آفریدی کومعافی کیسے ملی؟

پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کارکنان کی ہنگامہ آرائی بارے تحقیقات میں اسمبلی سیکریٹریٹ کی سیکیورٹی کی خلاف ورزی اور بد نظمی کی تصدیق کے باوجود سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی نہ کرنے کا اشارہ دے دیا ہے۔ جس کے بعد پنجاب اسمبلی میں جبری داخلے، ہلڑ بازی اور ہنگامہ آرائی میں ملوث وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ آنے والے افراد کو معافی ملنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے دورہ لاہور کے دوران پنجاب اسمبلی آمد پر اسمبلی سیکریٹریٹ میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی تھی۔ ابتدائی انکوائری میں یہ بات سامنے آئی کہ عمرانڈو رہنماؤں کی جانب سے اسمبلی کی سیکیورٹی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر مجاز افراد کو زبردستی اور دھوکہ دہی کے ذریعے سیکریٹریٹ میں داخل کرنے کی کوشش کی گئی۔ بعد ازاں ہونے والی مفصل انکوائری رپورٹ میں بھی ان الزامات کی مکمل تصدیق ہو گئی۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں کی طرف سے پنجاب اسمبلی آمد پر ایوان کے تقدس کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا اور جان بوجھ کر ماحول میں کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ تحقئقات میں یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ عمرانڈو کارکنان کی جانب سے اسمبلی سیکریٹریٹ کے عملے کے ساتھ سخت کلامی کی گئی جس کی وجہ سے سیکیورٹی اہلکاروں کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ انکوائری کے بعد معاملہ محکمہ قانون و انصاف کے سپرد کیا گیا جہاں شواہد اور ثبوتوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ جس کے بعد ابتدا میں حکومتی حلقوں کی جانب سے پی ٹی آئی کے ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا عندیہ دیا جا رہا تھا، تاہم اب صورتحال اس کے برعکس نظر آ رہی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعدسرکاری سطح پر پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف کارروائی بارےنہ تو باضابطہ تصدیق کی جا رہی ہے اور نہ ہی تردید، تاہم سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کے حالیہ بیانات نے واضح کر دیا ہے کہ ہلڑ بازی میں ملوث پی ٹی آئی ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کا امکان کم ہے۔
سپیکر ملک محمد احمد خان کا کہنا ہے کہ اسمبلی میں پیش آنے والے واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا چکی ہیں، جس میں چہروں کی شناخت، ویڈیو فوٹیج اور دیگر شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔ ملک احمد خان کے مطابق اگر ہنگامہ آرائی میں ملوث پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف ضروری قانونی کارروائی مقصود ہوتی تو اس میں تاخیر نہ کی جاتی۔ ان کے بیان کو اس بات کے اشارے کے طور پر لیا جا رہا ہے کہ معاملہ برداشت اور تحمل کی پالیسی کے تحت نمٹایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پنجاب اسمبلی کے بعض اراکین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سپیکر کھلے دل اور جمہوری مزاج کے حامل ہیں، تاہم اس قسم کی نرمی مستقبل میں غلط مثال بن سکتی ہے۔ ان اراکین کے مطابق اسمبلی کے تقدس اور سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے تاکہ آئندہ اس نوعیت کے واقعات کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔تاہم بعض دیگر اراکین کے مطابق ملک محمد احمد خان ایک دور اندیش اور جمہوری رویہ رکھنے والے انسان ہیں جو آئین، اخلاقی روایات اور پارلیمانی اقدار کو مقدم رکھتے ہیں۔ اس حوالے سےسپیکر جو بھی فیصلہ کریں گے، حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہو گی، تاہم یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ کسی ادارے میں زبردستی داخل ہونا اور بدتمیزی کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ تاہم انھوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے اب تک پارلیمان کے فورم کو مثبت انداز میں استعمال نہیں کیا اور صرف ہنگامہ آرائی کی سیاست کو فروغ دیا۔ ان کے مطابق حکومت نے اہم فیصلے کیے اور عوامی فلاح کے لیے عملی اقدامات اٹھائے، تاہم اپوزیشن نے تعمیری کردار ادا کرنے کی بجائے ہمیشہ منفی سیاست کو پروان چڑھایا۔
اپوزیشن کی 8 فروری کی احتجاجی کال ناکام کیوں ہو گی؟
تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے پیش آنے والا ہلڑ بازی کا واقعہ محض ایک وقتی ہنگامہ آرائی نہیں بلکہ پارلیمانی نظام، ریاستی رِٹ اور قانون کی عملداری کے لیے ایک سنجیدہ امتحان بن چکا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر تفصیلی انکوائری میں سیکیورٹی کی خلاف ورزی، جبری داخلے اور بد نظمی جیسے سنگین الزامات ثابت ہونے کے باوجود ذمہ داران کو سیاسی مفاہمت یا برداشت کے نام پر نظر انداز کیا گیا تو یہ طرزِ عمل نہ صرف آئندہ ایسے واقعات کی حوصلہ افزائی کرے گا بلکہ پارلیمان کے تقدس اور ادارہ جاتی وقار کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جمہوری نظام میں برداشت ایک اہم قدر ضرور ہے، مگر جب برداشت قانون کی بالادستی اور اداروں کے احترام پر حاوی ہو جائے تو یہ کمزوری میں بدل جاتی ہے۔ اگر منتخب ایوانوں میں نظم و ضبط کے قیام کے لیے واضح اور غیر مبہم مثال قائم نہ کی گئی تو یہ پیغام جائے گا کہ طاقتور سیاسی وابستگی قانون سے بالاتر ہے، جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ اس لئے حکومت کو اسمبلی کے تقدس کے تحفظ اور ریاستی اداروں کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے محض بیانات کی بجائےعملی اقدامات کرنےچاہیں تاکہ آئندہ کسی کو ایوان کا تقدس پامال کرنے کی جرات نہ ہو۔
