جنگ نے پاکستانی ایوی ایشن انڈسٹری کا کباڑا کیسے کر دیا ؟

ایران جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال نے عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے فضائی شعبے کی بھی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔سینکڑوں پروازوں کی منسوخی، روٹس کی تبدیلی، اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے ایوی ایشن انڈسٹری کو مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے، گزشتہ ایک ماہ کے دوران پاکستان ایوی ایش انڈسٹری کا نہ صرف 7 کروڑ 20 لاکھ ڈالر یعنی تقریباً 20 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے بلکہ ایران امریکہ اسرائیل جنگ کی وجہ سے پروازوں کی منسوخی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ ایران امریکہ کشیدگی کے باوجود پاکستانی فضائی حدود بدستور کھلی اور محفوظ ہیں، تاہم خطے میں جاری جنگ نے فضائی آپریشنز کو شدید متاثر کیا ہے 28 فروری کے بعد سے پاکستان سے جڑی 500 سے زائد پروازیں مکمل طور پر منسوخ ہو چکی ہیں، جبکہ 600 سے زیادہ پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔ صرف قومی ایئرلائن پی آئی اے ہی تقریباً 350 پروازیں منسوخ کر چکی ہے، جس سے متعلقہ اداروں کو اربوں روپے کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔
ماہرین کے مطابق جنگ کے باعث اہم فضائی راستے غیر محفوظ یا محدود ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں ایئرلائنز کو اپنے روٹس تبدیل کرنے یا پروازیں منسوخ کرنی پڑ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور فضائی صنعت کو مزید سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فضائی صنعت کا بڑا انحصار خلیجی ممالک پر ہے۔ دبئی، دوحہ، ابوظبی، مسقط اور شارجہ جیسے روٹس پاکستان کی بین الاقوامی فضائی ٹریفک کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، جہاں محنت کشوں، زائرین اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد سفر کرتی ہے۔ ایسے میں جب یہی راستے متاثر ہوتے ہیں تو پورا نظام دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے اور آپریشنل تسلسل برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جس سے پاکستانی صنعت کو بھی اربوں روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے بھی ایئرلائنز کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایندھن کسی بھی ایئرلائن کی آپریٹنگ لاگت کا تقریباً 40 سے 45 فیصد حصہ ہوتا ہے، اس لیے قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی مجموعی اخراجات پر بڑا اثر ڈالتا ہے۔ اسی تناظر میں ماہرین نے حکومت کو فیول ہیجنگ جیسے اقدامات پر غور کرنے کا مشورہ دیا ہے تاکہ مستقبل میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ ایوی ایشن حکام کاماننا ہے کہ موجودہ عالمی بحران میں پاکستان کے لیے مواقع بھی موجود ہیں۔ ان کے مطابق حکومت اگر بڑے خلیجی کیریئرز کو عارضی طور پر اضافی اور لچکدار فلائٹ سلاٹس فراہم کرے تو وہ پاکستان کو بطور متبادل حب استعمال کرتے ہوئے یہاں سے براہِ راست یورپ اور دیگر ممالک کے لیے پروازیں چلا سکتے ہیں۔ اس اقدام سے نہ صرف ایوی ایشن انڈسٹری کو لینڈنگ، پارکنگ اور فیول چارجز کی مد میں آمدن حاصل ہو سکتی ہے بلکہ مقامی ہوٹل اور سروس سیکٹر کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
موٹر سائیکل اور رکشہ والوں کو سبسڈی پر پیٹرول فراہمی کا فیصلہ
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو پاکستان کی فضائی صنعت کو مزید نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ پالیسی سطح پر بروقت فیصلے کیے جائیں، متبادل روٹس اور حکمت عملیاں تیار کی جائیں اور ایوی ایشن سیکٹر کو سہارا دینے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، تاکہ اس بحران کے طویل المدتی اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
