ایرانی حملوں نے دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ کا کباڑہ کیسے نکالا؟

ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے جہاں متحدہ عرب امارات کی سیاحت اور معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، وہیں دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ کا بھی کباڑہ نکال دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور اس کے بعد ایران کی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں چند ہی دنوں میں دبئی میں جائیدادوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے اور متعدد پراپرٹیز کی قیمتیں نصف کے قریب نیچے گر گئی ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق پراپرٹی کی قیمتوں میں اس اچانک گراوٹ کے باعث سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوبنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے اور مارکیٹ میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔ ایران کی جانب سے جاری میزائل اور ڈرون حملوں نے خطے کی صورتحال کو غیر یقینی بنا دیا ہے، جس کے باعث سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری کے مستقبل کے بارے میں فکر مند دکھائی دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی مزید طول پکڑتی ہے تو دبئی کی رئیل سٹیٹ مارکیٹ مکمل زمین بوس ہوسکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے فروری کے آخر سے شروع ہونے والی جھڑپوں کے دوران اب تک چودہ سو سے زائد ڈرونز، دو سو باسٹھ بیلسٹک میزائل اور آٹھ کروز میزائل داغے ہیں۔ اگرچہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے بیشتر حملے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم ان واقعات نے دبئی کو محفوظ سرمایہ کاری کے مرکز کے طور پر دیکھنے والے عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ پراپرٹی ماہرین کے مطابق دس روزہ کشیدگی کے دوران دبئی میں جائیدادوں کی قیمتیں بعض علاقوں میں تقریباً نصف تک گر چکی ہیں جبکہ پام جمیرہ کے قریب بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ نتیجتاً دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی ہے اور سرمایہ کاروں نے اپنے سرمائے کو بچانے کیلئے کم قیمت پر پراپرٹیز کی فروخت شروع کر دی ہے جس کی وجہ سے دبئی کی رئیل سٹیٹ مارکیٹ میں شدید گراوٹ دیکھنے میں آ رہی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اس صورتحال کا سب سے بڑا اثر ان غیر ملکی سرمایہ کاروں پر پڑ رہا ہے جنہوں نے دبئی میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ ان میں پاکستانی سرمایہ کار بھی نمایاں تعداد میں شامل ہیں۔ مختلف تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق پاکستانی شہریوں نے متحدہ عرب امارات میں تقریباً گیارہ ارب ڈالر کی جائیدادیں خرید رکھی ہیں۔
واضح رہے کہ چند سال قبل منظر عام پر آنے والی دبئی پراپرٹی لیکس میں بھی انکشاف ہوا تھا کہ دنیا بھر کی اشرافیہ نے دبئی میں اربوں ڈالر کی جائیدادیں خرید رکھی ہیں، جن میں بعض ایسے افراد بھی شامل ہیں جو عالمی پابندیوں، منی لانڈرنگ یا دیگر جرائم سے وابستہ رہے ہیں۔ ان ہزاروں سرمایہ کاروں میں پاکستانی سیاست دانوں، کاروباری شخصیات اور دیگر بااثر افرادبھی شامل ہیں جنہوں نے دبئی میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔
سعودی عرب اور ایران تنازعہ: پاکستان سینڈوچ کیسے بن گیا؟
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی حملوں نے جہاں یو اے ای کی معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے وہیں دبئی کے اس تصور کو بھی چیلنج کر دیا ہے کہ یہ خطے کے شورش زدہ ماحول میں ایک محفوظ معاشی پناہ گاہ ہے۔ ماہرین کے بقول اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی اور ایرانی میزائل حملے جاری رہے تو سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری کو سنگاپور، لندن اور زیورخ جیسے متبادل مراکز کی طرف منتقل کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دبئی کی معیشت کا بڑا انحصار عالمی سرمایہ کاری اور پراپرٹی مارکیٹ پر ہے۔ اگر یہ اعتماد متزلزل ہوا تو نہ صرف جائیدادوں کی قیمتیں مزید گر سکتی ہیں بلکہ متحدہ عرب امارات کی معیشت کو بھی طویل مدتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔مختصراً کہا جائے تو خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی اور عسکری صورتحال نے دبئی کے اس خواب کو خطرے میں ڈال دیا ہے جس میں اسے مشرق وسطیٰ کا محفوظ معاشی مرکز سمجھا جاتا تھا۔ اگر حالات جلد بہتر نہ ہوئے تو دبئی میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
