ایرانی مزاحمت نے صدر ٹرمپ کو شدید مشکل میں کیسے ڈال دیا؟

 

 

 

ایران پر حملے کا فیصلہ کرنے والے امریکی صدر ٹرمپ نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے قتل اور ایران پر مسلسل وحشتناک بمباری کے باوجود ایرانی ریاست نہ صرف ڈٹ کر کھڑی رہے گی بلکہ دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور کا مقابلہ کرتے ہوئے اسے ناکوں چنے چبوا دے گی۔

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار ایاز امیر اپنے تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ انقلاب کے کندن میں پک جانے والی ایرانی قوم کا کردار ہے کہ امریکہ کو ایسے سنگین نتائج بھگتنے پڑ رہے ہیں جو پہلے کسی کے تصور میں نہ تھے۔ ایک جانب صدر ٹرمپ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکہ نے ایران کی بحری اور فضائی طاقت کا خاتمہ کر دیا ہے تو دوسری جانب ایران کی جانب سے تہران پر حملہ کرنے والے اربوں ڈالرز مالیت کے امریکی جنگی جہاز گرائے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب صدر ٹرمپ مذاکرات کے لیے بے تاب ہیں اور مسلسل ایران کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کے لیے دھمکیوں سے دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

ایاز امیر کے مطابق، جنگوں میں اصل شکست صرف نقصان اٹھانے سے نہیں بلکہ حوصلہ ہارنے سے ہوتی ہے۔ وہ فرانس کی جنگ کی مثال دیتے ہیں جہاں پیرس پر بمباری کے بغیر ہی فرانس نے ہتھیار ڈال دیے، انکا کہنا ہے کہ 1971 کا سانحہ مشرقی پاکستان بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں ایک لاکھ پاکستانی افواج نے لڑے بغیر ہی ہتھیار ڈال دیے تھے۔ ان کے بقول، ایران کو شدید جانی و مالی نقصان کے باوجود اس کے حوصلے پست نہیں ہوئے، جبکہ وائٹ ہاؤس میں بے چینی بڑھتی جا رہی ہے کہ ایران جھکنے پر آمادہ کیوں نہیں۔

 

ایاز امیر کہتے ہیں کہ امریکی میڈیا بھی اب یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو رہا ہے کہ صدر ٹرمپ اس جنگ میں پھنس چکے ہیں اور اس سے نکلنے کا کوئی واضح راستہ موجود نہیں۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو زمانۂ قدیم میں پہنچا دینے جیسے بیانات کو تجزیہ کار بے ان کی بسی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ اس جنگ کے اثرات عالمی سطح پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ سب سے بڑا دھچکا اس نام نہاد سیکیورٹی ڈھانچے کو لگا ہے جو امریکہ نے خلیجی عرب ریاستوں کے ساتھ مل کر تشکیل دیا تھا۔ امریکہ نے خلیجی ممالک کو دفاع کے نام پر اپنے فوجی اڈے قائم کرنے پر آمادہ کیا تھا اور ان سے اربوں ڈالرز بھی وصول کرتا تھا، لیکن جب ان پر برا وقت آیا تو امریکہ خلیجی ریاستوں کے دفاع میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ ایران کے حملوں کے سامنے نہ صرف امریکی فوجی اڈے بلکہ تیل و گیس کی تنصیبات بھی غیر محفوظ ثابت ہوئی ہیں۔ خطے میں توانائی کی پیداوار متاثر ہوئی ہے اور خلیجی ریاستوں میں قائم کئہ امریکی اڈے میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں آ کر تباہ ہو چکے ہیں۔

 

ایاز امیر کے مطابق خلیج فارس میں واقع ہرمز نامی اہم ترین آبی گزرگاہ  کی بندش نے دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور عالمی طاقتوں کو ایک بڑی مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ مفروضہ تھا کہ امریکہ اپنی بحری طاقت کے ذریعے اس راستے کو ہر حال میں کھلا رکھے گا، تاہم امریکی حملوں کے بعد ایران نے اس پر عملی کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور تیل کی ترسیل اس کی مرہونِ منت بن چکی ہے۔

 

ایاز امیر کے مطابق، اس بدلتی صورتحال کی وجہ امریکی یا اسرائیلی عسکری طاقت کی کمزوری نہیں بلکہ ایران کی غیر معمولی مزاحمت ہے۔ اسرائیل کی فضائی برتری اور اسکے جدید جنگی طیارے بدستور موثر ہیں، جبکہ امریکہ کی عسکری صلاحیت بھی برقرار ہے، لیکن دوسری جانب ایران کی استقامت ایک انوکھا عنصر بن کر ابھری ہے۔ شدید بمباری کے باوجود ایران نہ صرف قائم ہے بلکہ اسرائیل کے مختلف شہر اور ادکی فوجی تنصیبات جوابی حملوں کی زد میں ہیں۔

 

ایاز امیر کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں عالمی معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے، خاص طور پر تیل کی ترسیل میں رکاوٹ کے باعث بین الاقوامی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہو گئی ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا خیال تھا کہ چند روز کی بمباری سے ایرانی قیادت ختم ہو جائے گی، ایرانی عوام حکومت کے خلاف بغاوت کر دیں گے اور ریاست کمزور ہو جائے گی، جس کے بعد رجیم تبدیل ہو جائے گا، مگر یہ اندازے غلط ثابت ہوئے۔ ایرانی ریاست بدستور قائم ہے اور بھرپور مزاحمت کر رہی ہے۔

امریکی ناکامی کے نتیجے میں تیسری عالمی جنگ شروع ہونے کا امکان

ایاز امیر کہتے ہیں کہ جنگ سے قبل امریکہ کے اندر ہی کچھ حلقوں کی جانب سے ایران پر حملے کو خطرناک قرار دیا جا رہا تھا، مگر ان آوازوں کو نظرانداز کر دیا گیا۔ اس دوران ایران مذاکرات میں سنجیدگی اور لچک کا مظاہرہ کر رہا تھا، اور معاہدہ قریب تھا، تاہم اچانک حملے نے صورتحال کو جنگ میں بدل دیا۔، امریکی وزیر دفاع سمیت دیگر حکام کے بیانات اور زمینی حقائق میں تضاد واضح ہے۔ ایک طرف ایران کی عسکری صلاحیت کے خاتمے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف مسلسل میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔ ایسے میں ایاز امیر نے مسلم دنیا، خصوصاً تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بدلتی صورتحال کا ادراک کریں۔ امریکہ کی دفاعی ضمانتیں غیر مؤثر ثابت ہو رہی ہیں، اس لیے ایک نئے علاقائی دفاعی نظام کی ضرورت ہے جس میں ایران اور عرب ممالک برابر کے شریک ہوں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایک مسلم ملک پر حملے کے باوجود مسلم دنیا کی جانب سے مؤثر ردعمل سامنے نہیں آیا، جب کہ ایران کی جانب سے اکیلے ہی کم ترین وسائل کے باوجود امریکہ جیسی سپر پاور کے خلاف بے مثال مزاحمت کا مظاہرہ کیا جا  رہا ہے۔

 

Back to top button