اسلام آباد کے جلسے نے گنڈاپور کی وزارت اعلی کیسے بچائی؟

تحریک انصاف کے اسلام آباد جلسے میں اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ، لیگی قیادت اور صحافیوں سمیت ریاستی اداروں کو ہدف تنقید بنا کر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اپنا اقتدار بچانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

خیال رہے کہ اسلام آباد جلسے سے قبل گنڈاپور کے خلاف نہ صرف سیاسی مخالفین بلکہ تحریک انصاف کے اندر سے بھی آوازیں بلند ہونا شروع ہوچکی تھیں اور جہاں گنڈاپور کی مبینہ کرپشن کی کہانیاں زبان زد عام تھیں وہیں ان کی مقتدر حلقوں سے قربت کی شکایات بھی اڈیالہ کے قیدی نمبر 804 عمران خان تک پہنچ رہی تھیں جب کہ یوتھیوں کی طرف سے بھی وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی تبدیلی کا مطالبہ زور پکڑ رہا تھا۔ تاہم اسلام آباد جلسے کی کامیابی میں علی امین گنڈاپور کے کردار کے بعد عمران خان کی تھپکی سے نہ صرف گنڈاپور مخالف آوازیں دب گئیں بلکہ مخالفین بھی ماننے لگے ہیں کہ پی ٹی آئی حلقوں میں علی امین گنڈاپور کی پوزیشن پہلے سے بہت زیادہ مضبوط ہوگئی ہے۔

13 سیٹوں والے مولانا آخری وقت کس کے ساتھ یاری نبھائیں گے؟

باخبر ذرائع بتاتے ہیں کہ اسلام آباد جلسے سے قبل کچھ سینیئر رہنماؤں کی ناراضی اور عمران خان کو شکایات پر علی امین گنڈاپور کی پریشانیاں بھی بڑھ گئی تھیں۔پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق اب بھی کچھ سینیئر رہنما علی امین گنڈاپور کی مقتدر حلقوں سے بے جا قربت، مبینہ کرپشن اور دیگر امور کی وجہ سے ناراض ہیں۔ سابق صوبائی وزیر شکیل خان کے بھی انہی وجوہات پر ان سے اختلافات ہوئے تو وہ تمام تر شکایات لے کر عمران خان کے پاس جیل میں پہنچ گئے تھے، تاہم کابینہ ممبران کی جانب سے شکایات کے بعد علی امین گنڈاپور نے بھی اڈیالہ جیل کا رخ کیا اور تمام صورت حال اور درپیش مشکلات سے عمران خان کو آگاہ کیا۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ علی امین نے کابینہ میں شامل اراکین کی کارکردگی کے حوالے سے بھی بانی پی ٹی آئی کو بریفنگ دی تھی جس کے بعد عمران خان نے انہیں ہدایت دے کر کابینہ میں ردوبدل کا اختیار دیا تھا، اور اسی بنیاد پر شکیل خان کو ہٹانے کا فیصلہ ہوا، جبکہ واحد خاتون ممبر کو ہٹا کر کچھ نئے چہرے بھی شامل کیے گئے۔ لیکن ذرائع کے مطابق ان تمام تر کوششوں کے باجود بھی علی امین کی پریشانیاں کم نہیں ہوئی تھیں۔

اسلام آباد جلسے سے پہلے علی امین گنڈاپور سے ملاقات کے بعد عمران خان نے وزیراعلیٰ کے خلاف سازش کرنے والوں کو خبردار کیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود بھی ان کے خلاف پارٹی کے اندر سے آوازیں خاموش نہیں ہوئی تھیں۔باخبر ذرائع کے مطابق اسلام آباد جلسے کے لیے علی امین گنڈاپور نے موثر حکمت عملی بنائی اور رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود بڑی تعداد میں کارکنان کو لیڈ کرکے جلسہ گاہ پہنچ گئے، اور پاور شو کو کامیاب بنایا۔ ’وزیراعلیٰ نے جس انداز میں تقریر کی اور اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیا ایسا لگا کہ علی امین نہیں عمران خان تقریر کررہے ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد جلسے اور تقریر کے بعد جہاں عمران کان نے خوشی کا اظہار کیا وہیں علی امین عمرانڈوز کے دل جیتنے میں بھی کامیاب ہو گئے کیوں کہ وہ ایسی ہی تقریر سننا چاہتے تھے۔

تحریک انصاف کے ایک سینیئر رہنما نے بتایا کہ علی امین کی مخالفت اپنی جگہ لیکن اسلام آباد جلسے میں وہ چھا گئے تھے۔ وزیراعلیٰ پر مقتدر حلقوں سے قربت کے الزامات تھے جو انہوں نے دھواں دار تقریر کرکے رد کردیے۔انہوں نے کہاکہ جلسے کے اگلی شام اسلام آباد سے ہی وزیراعلیٰ کے پراسرار غائب ہونے سے ان کے ساتھ مزید ہمدردی پیدا ہوئی، جب کہ عمران خان نے بھی کھل کر پیغام دیا کہ علی امین کی مخالفت کرنے والوں کے لیے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں۔پارٹی کے نوجوان کارکنان اسلام آباد جلسے کے بعد علی امین کو خیبرپختونخوا کا عمران خان قرار دے رہے ہیں۔دوسری جانب مبصرین کے مطابق اسلام آباد جلسے کے بعد اب عمران خان  علی امین کے خلاف  کچھ بھی سننے یا ماننے کو تیار نہیں ہوں گے، کیوں کہ عمران کان سمجھتے ہیں کہ گنڈاپور سخت حالات میں بھی حکومت کو چلا رہے ہیں اور جلسے کو بھی کامیاب بنایا۔ اسلام آباد جلسے کے بعد اب کسی کو گلہ یا شکایت نہیں ہوگی، کیوں کہ جس طرح علی امین نے مقتدر حلقوں کو نشانہ بنایا اور پھر 8 گھنٹے سے زیادہ وقت تک غائب رہے، جس کی وجہ سے اب پارٹی میں موجود ان کے مخالفین بھی گنڈاپور کو کھل کر سپورٹ کررہے ہیں۔

Back to top button