اسلام آباد جلسے نے عمران کے لیے مزید مشکلات کیسے کھڑی کر دیں ؟

اسلام آباد میں ہونے والے جلسے میں عمرانڈوز کی ریاستی اداروں پر الزام تراشیوں، مقتدرہ کو دی جانے والی دھمکیوں اور مقررین کی زبان درازیوں نے قیدی نمبر 804 کی رہائی ناممکن بنا دی ہے۔ پی ٹی آئی کے بدتمیز وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے اگرچہ عمران خان کی رہائی کےلیے 2 ہفتے کی ڈیڈ لائن دی ہے تاہم منہ پھٹ یوتھیوں کے خطابات کے بعد بانی پی ٹی آئی کی رہائی تو کجا یہ بدتمیز عمرانڈو بھی جیلوں کے مہمان بنتے دکھائی دیتے ہیں اور شاہ سے زیادہ شاہ سے وفاداریاں دکھانے والوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔

خیال رہے کہ بار بار اجازت نامے منسوخ ہونے کے بعد اتوار کو پی ٹی لمبے عرصے بعد عوامی جلسہ کرنے میں کامیاب ہوئی تاہم جلسے میں پارٹی رہنماؤں کی ریاستی اداروں، حکومت حتی کہ صحافیوں بارے استعمال کی جانے والی زبان نے پی ٹی آئی کےلیے آئندہ کسی جلسے کے انعقاد کےلیے این او سی یعنی اجازت کا حصول ناممکن بنا دیا ہے تاہم یہاں سوال پیداہوتا ہے کہ جلسے میں عمرانڈو رہنماؤں نے ریاستی اداروب اور صحافیوں کےلیے سخت زبان کیوں استعمال کی اور آیا پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی تقاریر کا سخت لہجہ اداروں اور حکومت کو دباؤ میں لانے سمیت عمران خان کی جیل سے رہائی کا راستہ ہموار کر سکے گا۔ کیا پی ٹی آئی کے لیڈران کا یہ رویہ اور لائحہ عمل عمران خان کی رہائی کے لیے مددگار ثابت ہوگا؟

کیا اسلام آباد والوں کو یرغمالی بننے سے بچانے کا قانون جائز ہے ؟

سیاسی تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں نے جلسے میں جس طرح کی سخت زبان استعمال کی ہے اس قسم کی تقریروں سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا اور اس سے عمران خان کی رہائی میں کوئی مدد نہیں مل سکے گی۔ان کا کہنا تھا، ”میرے خیال میں عدالتوں کے معاملات عدالتوں میں طے ہونے چاہییں اور باقی سیاسی اختلافات کو پارلیمنٹ میں سیاستدانوں کو سلجھانا چاہیے، لیکن اس طرف کوئی نہیں آ رہا۔ بلکہ مختلف اقدامات سے زیادہ زور دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ پر اس طرح کے جلسوں سے دباؤ نہیں ڈالا جا سکتا۔‘‘

بعض دیگر مبصرین کے مطابق”عمران خان اس وقت تک جیل سے باہر نہیں آ سکتے جب تک اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے معاملات طے نہیں پا جاتے۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا، ”اسلام آباد کا جلسہ اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اور ہو سکتا ہے کہ اس جلسے میں اسٹیبلشمنٹ مخالف تقاریر نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی توجہ پس پردہ ہونے والی پیش رفت سے توجہ ہٹانے کے لیے کی گئی ہوں۔‘‘تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسلام آباد کے جلسے میں ”کئی تقریروں میں ریڈ لائن کراس کی گئی، جس کی وجہ سے پی ٹی آئی پر مزید پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا، ”اسلام آباد کے جلسے سے پی ٹی آئی کا سیاسی جمود ٹوٹا ہے۔ اب لاہور کا جلسہ ہو جانے کا مطلب یہ ہو گا کہ پی ٹی آئی کے سیاسی جلسوں پر پابندی کو زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھا جا سکے گا۔‘‘ تاہم اسلام آباد جلسے میں ہونے والی زبان درازیوں کے بعد پی ٹی آئی کو خیبرپختونخوا کے علاوہ لاہور سمیت کسی اور بڑے شہر میں جلسے کی اجازت ملنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد جلسے میں ہونے والے خطابات سے جلسے کا پورا اسکرپٹ عمران خان کا لکھا نظر آتاہے ،انہوں نے جو ہدایات دی تھیں اس پر سب لوگوں نے عمل کردیا، جلسے میں جو تقاریر کی گئیں یہ پہلے سے منصوبہ بندی تھی کہ ریاستی اداروں اورمیڈیا کو ٹارگٹ کرنا ہے،جو تقاریر کی گئیں جو دکھایاگیا اس سے لگ رہا ہے کہ یہ واقعی پری پلان تھا۔

تجزیہ کاروں نے علی امین گنڈاپور کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ گنڈاپور واقعی رانگ نمبر ہے لگتا ہے اسلام آباد جلسے میں وہ مبینہ طور پر شہد کے زیر اثر تھا جو اس نے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ صحافیوں کو بھی نشانے پر لے لیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ  گنڈا پورپنجابی فلموں کے کردار میں فٹ دکھائی دیتے ہیں، ایک طرف وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ میٹنگ کرتے ہیں وہاں شاید اونچی آواز میں بات بھی نہیں کرتے اور جلسے میں وہ نہ صرفاسٹیلبشمنٹ کو ہدف تنقید بناتے ہیں بلکہ ان کی ٹریننگ کا بھی اعلان کرتے نظر آتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق  گنڈا پور اور اس طرح کی تقاریر نے پی ٹی آئی کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔ اپنی زبان درازیوں اور بدتمیزیوں کی وجہ سے عمران خان کی رہائی کےلیے آنے والے آج اپنی جان کی خلاصی کےلیے معافیاں مانگ رہے ہیں۔

Back to top button