فوجی اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کی دوغلی سیاست کیسے بے نقاب کی؟

فوجی اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کی دوغلی پالیسی کا پردہ فاش کر دیا ہے۔ عسکری قیادت نے ماضی قریب میں موجودہ نظام حکومت کو یحیی خان پارٹ ٹو قرار دینے والے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خط میں کئے جانے والے فوج سے محبت کے دعووں کی قلعی کھول دی ہے اور ماضی کی کارستانیوں کے پیش نظر آرمی چیف کو لکھے گئے منتوں ترلوں اور الزامات پر مبنی خط کو نیا ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کورا جواب دے دیا ہے۔ ساتھ ہی عسکری قیادت نے عمران خان کو مطالبات کی منطوری اور ریلیف کیلئے سیاسی رہنماؤں کے سامنے دست سوال دراز کرنے کا مشورہ دے دیا ہے۔

خیال رہے کہ ملک کے سیاسی حلقوں میں پیر کے روز بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خط کا خوب چرچا رہا تاہم یوتھیوں کی جانب سے مچایا گیا شور منگل کو اس وقت پراسرار خاموشی میں بدل گیا جب عمران خان کی جانب سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو لکھے جانے والے نام نہاد خط کو سیکورٹی ذرائع نے ایک اور ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اول تو بانی پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی خط انہیں ملا نہیں اور ویسے بھی اسٹیبلشمنٹ کو ایسے کسی بھی خط میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اگر پی ٹی آئی کوکسی معاملے پر بات کرنی ہے تو وہ سیاست دانوں سے رابطہ کرے۔

یاد رہے کہ سیکورٹی ذرائع کے اس بیان سے پہلے خوش فہمی کا شکار پی ٹی آئی چئیرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خط پر آرمی چیف کی طرف سے کوئی رد عمل آتا ہے تو اس کا خیر مقدم کریں گے۔ بیرسٹر گوہر جیل میں عمران خان سے ملاقات کر کے آئے تھے اور صحافیوں کو بتارہے تھے کہ انہیں بانی پی ٹی آئی نے خط کے مندرجات خود پڑھ کر سنائے۔ تاہم خط سے متعلق سیکورٹی ذرائع کے موقف نے اس خوش فہمی کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ سیکورٹی ذرائع کا یہ کہنا کہ عمران خان کا کوئی خط نہیں ملا تکنیکی لحاظ سے بالکل درست بات ہے۔ کیونکہ عمران خان نے بذریعہ ڈاک یا ای میل اپنا فریاد نامہ ، جی ایچ کیو یا آرمی چیف کو نہیں بھیجا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی اپنی کاپی پر دنیا کے معروف لوگوں کے نام تحریریں لکھتا رہے اور ہر ملنے جلنے والے کو کہتا پھرے کہ اس نے فلاں فلاں مشہور افراد کو خطوط لکھ دیئے ہیں۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے دو روز سے پی ٹی آئی عمران خان کے جس خط کا چرچا کر رہی تھی، وہ امریکہ سے چلائے جانے والے بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ پر کی جانے والی ایک پوسٹ ہے۔ انگریزی اور اردو، دونوں زبانوں میں کی جانے والی اس پوسٹ میں آرمی چیف کے نام کھلے خط کے عنوان سے منت ترلے کئے گئے ہیں۔ جس کے بعد عمران خان نے اپنے طور پر یہ تصور کر لیا کہ آرمی چیف کو انہوں نے خط لکھ دیا ہے۔ جس کے بعد عمران خان اور پی ٹی آئی قیادت اس تحریری این آراو کی درخواست کے جواب کے لئے بے چین تھی۔ عسکری قیادت ہی جانب سے تو اس کا کوئی ڈائریکٹ جواب نہیں آیا تاہم سیکیورٹی ذرائع کے ذریع بالواسطہ دوٹوک جواب دیدیا گیا ہے کہ کچھ چاہئے تو سیاست دانوں کے آگے جھولی پھیلاؤ، اسٹیبلشمنٹ کے در کے سامنے "کر بھلا ، ہو بھلا“ جیسی کسی فریاد کو نہیں سنا جائے گا۔

اسلام آباد میں موجود باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان غلط سمت میں دیوار سے ٹکریں ماررہے ہیں ۔ بچت کا صرف ایک ہی راستہ ہے۔ وہ یہ کہ سانحہ 9 مئی کے حوالے سے ٹی وی پر قوم سے غیر مشروط معافی مانگ لیں۔ بصورت دیگر نام نہاد خطوط اور بیانات کی کوئی اہمیت نہیں۔ عمران خان کو اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کتنے محب وطن ہیں۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ عملی طور پر تو ملک کی جڑیں کاٹنے میں مصروف رہیں اور خطوط نما پوسٹیں کر کے اپنی حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ پیش کرنے کی کوشش کریں۔ ایک طرف تو پی ٹی آئی حسب عادت فروری میں پاکستان آنے والی اہم غیر ملکی شخصیات کی آمد اور کرکٹ چیمپیئنز ٹرافی کے اہم ترین ایونٹ کے موقع پر احتجاج کرنے جارہی ہے اور دوسری جانب عمران خان سوشل میڈ یا پر یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ فوج بھی میری ہے اور ملک بھی میرا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ابھی چند روز پہلے کی بات ہے، جب بانی پی ٹی آئی  موجودہ نظام کو یحیی خان ٹو“ سے تشبیہ دے رہے تھے۔

عمران کی کن دو خامیوں نے ان کا اور پاکستان کا جنازہ نکال دیا  ؟

اس سلسلے میں پی ٹی آئی کے باغی رہنما اکبر ایس بابر کا کہنا ہے ”عمران خان کی جانب سے آرمی چیف کو خط لکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ارادے اعمال سے پرکھے جاتے ہیں، کھو کھلے بیانات سے نہیں۔ جب اعمال سامنے ہوں ، تب الفاظ کے ہیر پھیر سے کسی کو بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا۔ ایک طرف انتشار اور ملک دشمن سیاست ہے، جس کی تازہ ترین مثال چیمپئنز ٹرافی کو سبو تا ثر کرنے کی تیاری ہے تو دوسری طرف آرمی چیف کو خط کے ذریعے نیک ارادوں کا اظہار کیا جارہا ہے۔ یہ محض دوغلی سیاست کا تسلسل ہے۔ پی ٹی آئی کی ملک دشمن سیاست نے پاکستان کو بدنام کرنے اور معاشی نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ بیرون ملک کروڑوں ڈالر کی غیر قانونی فنڈنگ سے ملک کے خلاف ایک منظم مہم چلائی جارہی ہے، جو آج بھی جاری ہے۔ پاکستان کا آئین کسی سیاسی جماعت کو بیرون ملک منظم کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ بات فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے میں ثابت ہوچکی ہے۔ مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ حکومت قومی سلامتی کے اس بنیادی تقاضے کو بدستور نظر انداز کر رہی ہے اور مربوط قانونی کارروائی سے غافل ہے ۔ اکبر ایس بابر مزید کہتے ہیں ” تحریک انصاف ملک کو آباد کرنے اور شہریوں کو خوشحال بنانے کے لئے بنائی گئی تھی، اقتدار کے ہر صورت حصول کے لئے ملک دشمن قوتوں کا آلہ کار بنے کے لئے نہیں۔ اگر پر امن احتجاج جمہوری حق ہے تو جمہوری فرائض کی ادائیگی عوام کا حق ہے۔ پی ٹی آئی جمہوری فرائض کی ادائیگی میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ اب پارٹی کی بقا کا واحد راستہ اس کی سیاست کا قبلہ و کعبہ تبدیل کرنے سے منسلک ہے۔ پی ٹی آئی کو دوبارہ ان مقاصد کی طرف جانا ہوگا، جس کے حصول کے لئے یہ جماعت وجود میں آئی تھی ۔ شفاف انٹرا پارٹی الیکشن ہی پی ٹی آئی کی آخری لائف لائن ہے۔ باقی تمام راستے بند ہو چکے ہیں۔ یہ جماعت ورکروں کی امانت ہے۔ اسے ورکروں کے منتخب نمائندوں کے حوالے کرنا ہوگا۔ یہی وہ جمہوری راستہ ہے، جس کے ذریعے سیاست میں بند دروازے کھل سکتے ہیں۔ جلد یا بدیر پی ٹی آئی کو سیاسی قبضہ گروپ سے آزاد کرانا ہوگا۔ ورنہ پارٹی کی مکمل تبا ہی نوشتہ دیوار ہے۔“

Back to top button