چمپیئنز ٹرافی میں پاکستان کرکٹ ٹیم بدقسمتی کا شکار کیسے ہوئی؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ چیمپینز ٹرافی میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی بدقسمتی کا آغاز ہمارے سٹار اوپنر صائم ایوب کی انجری سے ہوا اور رہی سہی کسر دوسرے اوپنر فخر زمان کے ان فٹ ہونے سے پوری ہو گئی۔
اپنی تازہ تحریر میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ ویسے تو مجھ جیسے کرکٹ کے جنونی کیلئے یہی بات کافی ہے کہ پاکستان میں برسوں بعد چمپئنز ٹرافی ہو رہی ہے اور مجھے زیادہ خوشی ہوتی اگر اس کی ابتدا ہماری ٹیم کی جیت سے ہوتی، بہت سارے لوگوں کیلئے تو بھارت سے جیتنا ٹرافی جیتنے کے برابر ہے، مگر ظاہر ہے یہ جذباتی پن دونوں ملکوں میں پایا جاتا ہے، یقین جانیں اگر ہم نے 1992 کا ورلڈ کپ نہیں جیتا ہوتا تو یہی قوم عمران خان اور دیگر کرکٹرز کے گھروں پر پتھراؤ کر رہی ہوتی، خیر اس چمپئنز ٹرافی میں ہماری ’بیڈ لک‘ تو اسی دن شروع ہوگئی تھی جب اس فارمیٹ کا سب سے ہونہار کرکٹر صائم ایوب زخمی ہوکر اپنی جگہ نہ بنا سکا۔ اس کے بعد فخر زمان بھی زخمی ہو کر فارغ ہو گیا۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ پاکستان میں کرکٹ کی بد قسمتی کا آغاز 2009 میں تب ہوا جب لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا جو ہماری انٹلیجنس کہ مکمل ناکامی تھی۔
دہشت گردی کے اس واقعہ نے کرکٹ پر گہرے اثرات چھوڑے اور پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے برس ہا برس کے لیے بند کر دئیے گئے۔ وہ بڑا مشکل وقت تھا کیونکہ ہم دنیا کو یہ یقین نہیں دلا پا رہے تھے کہ اگر پاکستان میں غیر ملکی کرکٹ ٹیمیں کھیلنے آئیں تو وہ محفوظ رہیں گی۔ تاہم اس مشکل صورتحال میں خود سری لنکا نے ہمارے دفاع میں موقف اپنایا اور بعد میں اپنی ٹیم بھی پاکستان بھیجی۔ اسکے علاوہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے ہمارا ساتھ دیا اور پھر آہستہ آہستہ دوسری ٹیموں نے بھی پاکستان آنا شروع کر دیا۔
اس کے بعد ہمارے کرکٹ بورڈ نے انڈین پریمیئر لیگ کے مقابلے پر پاکستان سپر لیگ شروع کی تو پاکستانی کرکٹ کو مزید آسرا ملا۔ یوں بین الاقوامی کرکٹ پاکستان واپس آتی چلی گئی۔ ہمارے یہاں خوشیوں کے بہت زیادہ مواقع ویسے بھی نہیں آتے۔ اللہ کرے کہ چمپئینز ٹرافی ٹورنامنٹ بغیر کسی ناخوشگوار واقعہ کے اختتام پذیر ہو۔ مظہر عباس کہتے ہیں کہ ہماری ایک اور بدقسمتی یہ بھی ہے کہ نہ تو ہمیں جیت ہضم ہوتی ہے اور نہ ہی ہم شکست برداشت کرنے کو تیار ہیں حالانکہ کرکٹ ایک کھیل ہے۔ پاکستان نے 2017 میں بھارت کو فائنل میں شکست دی تو ہم لوگ سال بھر جشن مناتے رہے۔
مریم کی تصاویر سے بھرے اخبار: خبر کے نام پر تشہیر بددیانتی قرار
مظہر عباس یاد دلاتے ہیں کہ جب 1992 میں پاکستان نے ورلڈ کپ جیتا تو غیر سیاسی ذہنوں نے کپتان کو سیاست میں لانے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ اس وقت فوجی اسٹیبلشمنٹ کا واحد مقصد پی پی پی کی سیاست کو ختم کرنا تھا۔ لہٰذا پروجیکٹ ’نواز شریف‘ لانچ کر دیا گیا۔ اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے، نہ تو ہم کرکٹ میں بڑی کامیابی حاصل کر پا رہے ہیں اور نہ تو ہی سیاست میں آگے بڑھ پا رہے ہیں۔ لہٰذا بہتر ہے جس کا جو کام ہے اسے کرنے دیں اور پھر دیکھتے ہیں نتائج کیا نکلتے ہیں۔
