پاکستانی بائیکاٹ نے بھارتی بکیوں کے کھربوں روپے کیسے ڈبو دیے؟

پاکستان کی جانب سے 15 فروری کو بھارت کے ساتھ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میچ نہ کھیلنے کے فیصلے نے نہ صرف بھارتی براڈ کاسٹرز بلکہ جوا کرانے والے عالمی بکیوں کی بھی نیندیں اڑا دی ہیں چونکہ ان کے اربوں کھربوں روپے ڈوبنے جا رہے ہیں۔ سٹے کی عالمی مارکیٹ سے جڑے ذرائع کے مطابق اس ایک میچ پر اربوں نہیں بلکہ کھربوں روپے کے جوئے کی تیاریاں مکمل کی جا چکی تھیں، تاہم پاکستان کے اچانک بائیکاٹ کے اعلان نے بکیوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاک بھارت مقابلہ ہمیشہ سٹے کی دنیا کا سب سے بڑا ایونٹ سمجھا جاتا ہے۔ 7 فروری سے شروع ہونے والے اس عالمی ایونٹ میں 15 فروری کو ہونے والا یہ میچ بکیوں کے لیے کسی تہوار سے کم نہیں تھا۔ دبئی اور ممبئی میں سٹے کی عالمی مارکیٹ سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ جوئے کی توقع تھی، جس کی بنیادی وجہ مئی میں ہونے والی مختصر جنگ کے بعد دونوں ممالک کے عوام اور جواریوں میں بڑھا ہوا جوش تھا۔

ذرائع کے مطابق مئی کی اس مختصر جنگ میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو دی جانے والی ذلت آمیز شکست کے بعد دونوں ممالک کے شائقین اور جواریوں میں اہنے ملکوں کے ساتھ جذباتی وابستگی مزید بڑھ گئی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ سٹے کے عالمی نیٹ ورکس کو یقین تھا کہ یہ میچ گزشتہ ویوورشپ کے تمام ریکارڈ توڑ دے گا۔ تاہم پاکستان کی جانب سے بائیکاٹ کے فیصلے نے نہ صرف بھارتی براڈ کاسٹرز کو ڈیڑھ کھرب روپے کے نقصان سے دوچار کر دیا ہے بلکہ کرکٹ پر غیر قانونی جوا کرانے والے بکیوں کو بھی زبردست مالی جھٹکا لگا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کرکٹ پر جوا کرانے والوں میں اکثریت بھارتی بکیوں کی ہے۔ سٹے کی دنیا سے جڑے ذرائع کے مطابق آئی سی سی کے کسی بھی ایونٹ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے میچوں پر اربوں نہیں بلکہ کھربوں روپے کا جوا کھیلا جاتا ہے، جبکہ قانونی طور پر لگائی جانے والی شرطوں کا حجم بھی اربوں روپے تک جا پہنچتا ہے۔ چونکہ گزشتہ تقریباً 18 برس سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی دو طرفہ سیریز نہیں کھیلی جا رہی، اس لیے دونوں ٹیمیں صرف آئی سی سی ایونٹس میں ہی آمنے سامنے آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی اور مقامی بکیز ایسے ایونٹس کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں تاکہ وہ دونوں ہاتھوں سے مال کما سکیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تین میچز ہوئے تھے۔ 14 ستمبر 2025 کو گروپ میچ، 21 ستمبر کو سپر فور اور 28 ستمبر 2025 کو فائنل کھیلا گیا۔ دبئی کی عالمی سٹے مارکیٹ سے ملنے والی رپورٹس کے مطابق ان تینوں میچز پر مجموعی طور پر دو سے ڈھائی کھرب روپے کا جوا کھیلا گیا تھا۔ بھارتی انتہا پسند تنظیم شیوسینا کے رہنما سنجے راوت نے تو یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ صرف ایک پاک بھارت گروپ میچ پر ڈیڑھ کھرب بھارتی روپے کا جوا کھیلا گیا، جو پاکستانی ساڑھے چار کھرب روپے بنتے ہیں۔ اسی طرح گزشتہ برس فروری میں ہونے والی کرکٹ چیمپئنز ٹرافی کے دوران پاک بھارت گروپ میچ پر 50 ارب روپے کا جوا کھیلا گیا تھا، تاہم سٹے کی دنیا سے جڑے ذرائع اس رقم کو 75 ارب روپے کے قریب بتاتے ہیں۔ اس ایونٹ میں سٹے کے عالمی نیٹ ورک سے جڑے کئی بدنام زمانہ بھارتی بکیوں کو دہلی پولیس کی کرائمز برانچ نے گرفتار بھی کیا تھا، جن میں پراوین کوچر اور سنجے کمار جیسے بڑے نام شامل تھے۔

تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا تھا کہ پراوین نے Lucky.com نامی ویب سائٹ سے ماسٹر آئی ڈی خرید رکھی تھی، جس کے ذریعے وہ جوئے کی آئی ڈیز تیار کر کے جواریوں کو بیچتا تھا۔ اس طرح زیادہ تر جوا آن لائن کھیلا جا رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ 15 برسوں میں آف لائن جوئے کی جگہ ڈیجیٹل جوئے نے لے لی ہے اور اب 70 سے 75 فیصد سٹہ آن لائن ہو چکا ہے، جس میں پکڑے جانے کے امکانات بھی نہایت کم ہیں۔ سٹے کی دنیا سے جڑے ذرائع کے مطابق کئی بھارتی بکی مختلف ویب سائٹس اور بیٹنگ ایپس کے ذریعے دبئی، کینیڈا اور دیگر ممالک سے اپنے نیٹ ورکس چلا رہے ہیں۔ دہلی کا رہائشی چھوٹو، جس نے کینیڈا میں بیٹنگ ایپ تیار کی، اس وقت دبئی میں مقیم ہے، جبکہ اس کے ساتھی بوبی، گولو، نتن جین اور جیتو میچز کے دوران کرکٹ گراؤنڈ سے لائیو فیڈ فراہم کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ منیش سہانی، یوگیش کوکیجا اور سورج جیسے بدنام زمانہ بکیز بھی اسی نیٹ ورک کا حصہ ہیں، جو بار بار گرفتار ہونے کے باوجود ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں۔

آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے ریکارڈ کے مطابق کرکٹ پر غیر قانونی جوئے کی دنیا چند طاقتور افراد اور نیٹ ورکس کے گرد گھومتی ہے، جو زیادہ تر جنوبی ایشیا، متحدہ عرب امارات اور لندن سے کام کرتے ہیں۔ ماضی میں پورے میچ فکس کیے جاتے تھے، تاہم اب بکی سپاٹ فکسنگ، سیشن فکسنگ اور فینسی فکسنگ کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اسکے لیے صرف ایک یا دو کھلاڑیوں کو خریدنا کافی ہوتا ہے۔ سال 2019 میں بی بی سی انگلش کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ بھارت کی زیر زمین جوئے کی مارکیٹ کا حجم تقریباً پینتالیس ارب ڈالر سے لے کر ایک سو پچاس ارب ڈالر تک ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے پاک بھارت میچ کے بائیکاٹ نے اس غیر قانونی مگر منظم عالمی نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس فیصلے نے بکیوں کی نیند اڑا دی ہے۔

Back to top button