پاکستانی قیادت نے عالمی سیاست میں اپنا لوہا کیسے منوایا؟

 

 

 

معروف صحافی عامر خاکوانی نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے مابین مذاکراتی کوششوں کا جو بھی نتیجہ نکلے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی قیادت نے ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر پوری دنیا میں اپنی حیثیت کو منوا لیا ہے۔

 

اپنے سیاسی تجزیے میں عامر خاکوانی کہتے ہیں کہ حالیہ عرصے میں پاکستانی سویلین اور عسکری قیادت نے سفارتی محاذ پر غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، خصوصاً گزشتہ برس پاک بھارت کشیدگی کے بعد پاکستانی سول و عسکری قیادت نے خارجہ پالیسی کے میدان میں مؤثر اور متوازن حکمت عملی اپنائی، جس کے مثبت نتائج اب عالمی سطح پر سامنے آ رہے ہیں۔

 

عامر خاکوانی نے ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پیچیدہ صورتحال میں بھی پاکستان نے نہایت دانشمندی سے اپنے سفارتی کارڈز کھیلے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ پاکستان اس تنازع میں کسی بڑے بریک تھرو کا ذریعہ بن سکتا ہے، تاہم اس کے باوجود ملک کے اندر بعض حلقوں کی جانب سے مایوسی اور تنقید دیکھنے میں آ رہی ہے، خصوصاً تحریک انصاف سے وابستہ عمران خان کے حامیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر حکومتی پالیسیوں کا مذاق اڑانے کا رجحان نمایاں ہے۔

 

عامر خاکوانی کے مطابق بعض سیاسی حلقے منظم انداز میں طنزیہ مہم چلا رہے ہیں، جس میں پاکستان کے کردار کو کم تر دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے تبصروں میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ پاکستان جو ایران سے سستا تیل حاصل نہیں کر سکتا، وہ کس طرح ایک بڑی جنگ رکوا سکتا ہے، حالانکہ یہ مؤقف زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان کو پہلے ہی سعودی عرب سے مناسب نرخوں پر تیل دستیاب ہے اور ملکی ریفائنریز بھی اسی معیار کے مطابق ڈیزائن کی گئی ہیں، جبکہ ایرانی یا روسی تیل کے استعمال کے لیے اضافی سرمایہ کاری اور تکنیکی تبدیلیاں درکار ہوں گی، جو فوری طور پر ممکن نہیں۔

 

انہوں نے عالمی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے کردار کو سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر نیویارک ٹائمز، فائننشل ٹائمز اور گارڈین جیسے معتبر اخبارات کا حوالہ دیا، جن میں پاکستان کے لیے مثبت اور حوصلہ افزا تجزیے شائع ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں ان عوامل کی نشاندہی کی گئی ہے جن کی بنیاد پر پاکستان نے ایک مؤثر ثالث کی حیثیت حاصل کی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ماضی میں بھی سہولت کار کا کردار ادا کیا، تاہم اب وہ باقاعدہ ثالثی کی پوزیشن میں آ چکا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان کی عسکری قیادت، خصوصاً عاصم منیر نے امریکی قیادت کا اعتماد حاصل کیا ہے اور امریکی نمائندے سٹیو وٹکوف کے ساتھ ان کے مؤثر روابط ہیں، جبکہ پاکستان کو ایران کا اعتماد بھی حاصل ہے۔

 

عامر خاکوانی کے مطابق اگر پاکستان اس موقع کو کامیابی سے استعمال کرتا ہے تو وہ نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر اپنی حیثیت مزید مستحکم کر سکتا ہے، جبکہ ایران کے ساتھ تجارت اور اقتصادی روابط میں بھی وسعت آ سکتی ہے، جو اب تک مختلف پابندیوں کی وجہ سے محدود رہے ہیں۔ انہوں نے فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی ثالثی کے باعث عالمی سیاست میں نمایاں ہو رہا ہے، جبکہ بھارت پس منظر میں جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ رپورٹ میں بھارتی سیاستدان جے رام رمیش کے حوالے سے کہا گیا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت سفارتی میدان میں پاکستان کے مقابلے میں پیچھے رہ گئی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کا ایک اہم پہلو بھارت کی سفارتی ناکامی اور پسپائی ہے۔ ان کے مطابق بھارت جو خود کو عالمی جنوب کا نمائندہ اور ’وشو گرو‘ قرار دیتا تھا، اس بحران میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہا۔ یہاں تک کہ بھارتی تجزیہ کاروں، سابق سفیروں اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بھی مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کی جا رہی ہے۔ عامر خاکوانی کے مطابق پاکستان نے اس کے برعکس غیر جانبدار اور متوازن پالیسی اپنائی، جس کے ذریعے اس نے تمام فریقین کا اعتماد حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے، اور یہی اس کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کوشش کامیاب ہو یا نہ ہو، اس سے قطع نظر پاکستان کی نیک نیتی، غیر جانبداری اور امن کے لیے سنجیدہ کردار عالمی سطح پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔

اگلے چند روز میں جنگ نہ رکی تو پاکستان کا کیا حال ہو گا؟

عامر خاکوانی کا کہنا ہے کہ مبصرین اس صورتحال کو موجودہ پاکستانی قیادت کی کامیابی اور مودی ڈاکٹرائن کی ناکامی قرار دے رہے ہیں، جبکہ بھارت کو اس تناظر میں ایک بڑا سفارتی دھچکا پہنچا ہے۔

خطے کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کو بھی دانشمندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور اگر مذاکرات ناکام ہو جائیں تو اسے خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ اس طرح خطے میں مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی خواہش ہو سکتی ہے کہ عرب اور ایران کے درمیان براہ راست تصادم ہو، تاہم اب تک سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک نے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔

عامر خاکوانی کا کہنا تھا ک ایران اور امریکہ جنگ کا خاتمہ اور عالمی امن کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، تاہم اس کے امکانات فی الوقت پچاس فیصد ہیں۔ اسلام آباد کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کا نتیجہ جو بھی نکلے لیکن یہ طے ہے کہ پاکستانی قیادت نے امن کے لیے ایک مثبت اور فعال کردار ادا کر کے خود کو امن کے پیامبر کے طور پر منوا لیا ہے۔

Back to top button